حدیث نمبر 538

روایت ہے حضرت اعرج سے فرماتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو رمضان میں کافروں پر لعنت ہی کرتے پایا ۱؎ فرماتے ہیں کہ قاری آٹھ رکعتوں میں سورۂ بقر پڑھتا تھا اور جب وہ بارہ رکعتوں میں پڑھنے لگا تو لوگوں نے سمجھا کہ آسانی ہوگئی ۲؎(مالک)

شرح

۱؎ یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کی شرح ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ صحابہ آخر پندرہ رمضان میں وتر میں قنوت پڑھتے تھے۔اس سےمعلوم ہوا کہ وہ قنوت قنوت نازلہ تھی جیسا ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔وتر کی قنوت تو ہمیشہ پڑھی جائے گی۔اعرج کا نام عبدالرحمان ہے جو مشہور ثقہ تابعی ہیں اور لوگوں سے مراد صحابہ ہیں۔

۲؎ خیال رہے کہ صحابہ کرام نے اولًا آٹھ تراویح پڑھی پھر بارہ جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا،پھر بیس تراویح پر تمام صحابہ کا اتفاق ہوگیا جیسا کہ مرقاۃ،لمعات وغیرہ میں ہے،نیز طبرانی،بقی ،ابن شیبہ،امام بغوی،مالک،ابن یضع وغیرہ میں حضرت ابن عباس،سائب،ابن یزید،یزید ابن رومان،ابی ابن کعب،ابو عبدالرحمان،سلمیٰ وغیرھم سے روایتیں کیں۔بلکہ طبرانی،بقیوغ،عبد ابن حمید،ا بن ابی شیبہ وغیرہم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ خود حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سوائے وتر کے بیس رکعت پڑھتے تھے،اگرچہ ان کی اسنادوں میں عثمان ابن ابراہیم راوی غیر ثقہ ہے مگر چونکہ عثمان امام اعظم سے بہت عرصہ بعد پیدا ہوا لہذا یہ حدیث امام اعظم کو صحیح ہو کر ملی،بعد کا ضعف پہلے والوں کو مضر نہیں۔طبرانی،ابن حبان میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں آٹھ رکعت پڑھتے تھے۔اس میں اولًا تو عیسیٰ ابن جاریہ راوی سخت ضعیف ہے لہذا حدیث ناقابل عمل اور اگر صحیح بھی ہو تو وہاں نماز تہجد مراد ہے نہ کہ تراویح۔اسی لیئے طبرانی نے یہ حدیث باب قیام اللیل یعنی تہجد کے باب میں نقل کی۔غرض کہ بیس والی روایتوں میں تراویح ہی مراد ہے اور آٹھ والی میں تہجد کا احتمال،اسی لیئے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل مکہ بیس تراویح پڑھتے تھے اور اہل مدینہ چالیس،آٹھ تراویح پر کبھی کسی کا عمل نہیں ہوا ا ب تو سارے عرب و عجم میں بیس تراویح پڑھی جاتی ہیں بلکہ بیس تراویح کے حساب سے قرآن کریم کے رکوع پانچ سو ستاون(۵۵۷)صحیح ہوتے ہیں۔کہ رکوع اس کو کہتے ہیں جسے پڑھ کر صحابہ تراویح میں رکوع کرتے تھے اگر تراویح آٹھ ہوتیں تو قرآن کے رکوع ۲۱۶ ہوتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق”جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔