أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡهُ اَوۡ حَرِّقُوۡهُ فَاَنۡجٰٮهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ابراہیم کی قوم کا صرف یہ جواب تھا کہ اس کو قتل کردو یا سا کو جلاڈالو ‘ تو اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں

توحید ‘ رسالت اور آخرت کے عقائد کی تعلیم کے بعد ان کو تاکیداً دہرانا۔

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وعظ ہی کا ایک حصہ ہے پہلے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اولوہیت اور اس کی توحید پر دلائل قائم کیے پھر اپنی رسالت کو بیان فرمایا اور پھر حشر ونشر اور حیات بعد الموت کا ذکر فرمایا۔ اور اب اس آیت سے انہوں نے توحید اور آخرت کے ذکر کو پھر دہرایا اور جو کفار اس میں ان کی مخالفت کر رہے تھے ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور فرمایا جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ‘ آیتوں سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود اور پانی توحید پر جو دلائل قائم کئے ہیں ان کا انکار کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر جو دلائل قائم فرمائے تھے ان ان کا انکار کیا ‘ اور اللہ سے ملاقات کا انکار کیا یعنی مرنے کے بعد دو بارہ زندہ کیے جانے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جانے کا انکار کیا ‘ وہ میری رحمت سے مایوس ہوگئے یعنی وہ میرے رب کی رحمت سے مایوس ہوگئے ‘ کیونکہ دنیا میں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت مئومنوں پر بھی ہے اور کافروں پر بھی ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف مئومنوں پر ہوگی کافروں پر نہیں ہوگی ‘ سو آخرت میں کافر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجائیں گے ‘ ہرچند کہ ان کا مایوس ہونا آخرت میں متحقق ہوگا لیکن اس کا وقوع اور تحقق یقینی ہے اس لئے فرمایا وہ میر رحمت سے یعنی میرے رب کی رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ العنکبوت : ١٦ سے العنکبوت : ٢٥ تک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنی قوم سے خطاب کو نقل فرمایا ہے اور درمیان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو بہ طور جملہ معترضہ نقل فرمایا سو العنکبوت : ٢٣ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کلام کو نقل نہیں فرمایا بلکہ یہ اللہ عزو جل کا کلام ہے۔

جو لوگ دلائل سے لاجواب ہوجائیں وہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔

اس کے بعد فرمایا : سو ابراہیم کی قوم کا صرف یہ جواب تھا کہ اس کو قتل کردو یا اس کو جلا ڈالو۔

جو شخص کسی شخص کے دلائل کا معقولیت کے ساتھجواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے تو ہمیشہ سے اس کا یہی طریقہ رہا ہے کہ پھر وہ دھمکیوں پر اتر آتا ہے اسی طرح جب فرعون حضرت موسیٰ کے دلائل سے عاجز آگیا تو اس نے کہا تھا : فرعون نے کہا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود قرار دیا تو میں تم کو قیدیوں میں ڈال دوں گا۔ (الشعر اء : ٢٩ )

اسی طرح جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے کفار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دلائل سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ اس کو قتل کردو یا اس کو جلا ڈالو ‘ اور اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک فریق دوسرے فریق کے دلائل کے ساتھ اختلاف کرنے والے عالم کو کافر ‘ مرتد ‘ جہنمی یا دیوبندی ‘ وہابی اور ناصبی وغیرہ کہنے سے نہیں چوکتے ‘ خود مصنف حق بیان کرنے کی پاداش میں اس قسم کی دشنام کی ہدف بنتا رہا ہے اور ان کے فتو وں کے تیروں سے گھائل ہوتا رہا ہے اور ہر زمانہ میں ایسا ہوتا رہے ‘ حضرت ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ نے بعض مسائل میں علامہ ابن حجر مکی متوفی ٩٧٤ ھ سے اختلاف کیا تو اس پر ان کے زمانہ میں ان پر تبرا کیا گیا۔

حضرت عمر اس کے قائل تھے کہ میت پر رونے اور ماتم کرنے کی وجہ سے میت کو قبر میں عذاب ہوتا ہے حضرت عائشہ نے اس کا رد کیا اور فرمایا کسی کے گناہ کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھاتا قرآن مجید میں ہے : کوئی گناہ کا بوجھ اٹھانے والا دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : ١٦٤)

اس کی شرح میں ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

علامہ ابن حجر نے کہا اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجتہد دلیل کے تابع ہوتا ہے اور دلیل کی بنا پر وہ دوسرے کو خطاء پر قرار دے سکتا ہے خواہ وہ علم میں اس سے زیادہ اور بڑا ہو ‘ کیونکہ حضرت عمر (رض) علم میں حضرت عائشہ (رض) سے بڑے تھے اور علامہ ابن حجر کی اس عبارت میں اس پر صریح دلیل ہے اور بعض شافعی مقلدین جو تقلید کی پستی سے نہیں نکلے اور تحقیق کی بلندی کی طرف نہیں آئے انہوں نے جب دیکھا کہ ہم نے علامہ ابن حجر مکلی کی بعض کمزور دلائل کا رد کیا تو انہوں نے کہا تم جیسے شخص کے لئے علامہ ابن حجر ایسے شخص کا رد کرنا جائز نہیں ہے جو ائمہ اعلام کے نزدیک علم کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے اور تمام لوگوں کا مفتی ہے۔ (مرقات ج ٤ ص ١٠٠‘ مکتبہ امداد یہ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کا ٹھنڈا ہونا

اس کے بعد فرمایا تو اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا۔ یہ آیت اس آیت کے موافق ہے :

ہم نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ (الانبیاء : ٦٩ )

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مخالفین پر اپنی حجت تمام کردی اور ان کی گم راہی اور جہالت کو اس طرح ظاہر کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلانے کی تیاری شروع کردی ‘ آگ کا ایک بہت بڑا الائو تیار کیا گیا اور اس میں منجنیق کے ذریعہ حضرت ابراہیم کو پھینکا گیا ‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی والی بن جا ‘ اگر اللہ تعالیٰ ٹھنڈک کے ساتھ سلامتی والی نہ فرماتا تو اس کی ٹھنڈک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ‘ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بہت بڑا معجزہ ظاہر فرمایا کہ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دہکتی ہوئی اور بھڑکتی ہوئی آگ چشم زدن میں گل و گلزار بن گئی ‘ اس کی مکمل تفسیرالانبیاء : ٦٩ میں ملاحظہ فرمائیں۔

اس کے بعد فرمایا : بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا طوفان کے عبد ٹھہرنے کا ذکر فرمایا تھا وہاں پر فرمایا تھا اس میں تمام جہان والوں کے لئے نشانیاں ہیں (العنکبوت : ١٥) اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی سالہا سال تک جودی پہاڑ پر ٹھہری رہی تھی اور اس کو بیشمار لوگوں نے دیکھا تھا اس کے برخلاف وہ آگ تو فوراً ٹھنڈی ہوگئی تھی اور اس سے صرف وہی لوگ متاثر ہوئے تھے جو اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے اور ان کی تصدیق کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے اللہ پر ایمان کی وجہ سے ان پر آگ ٹھنڈی کردی ‘ اور مئومنوں کے لئے فرمایا : تمہارے لئے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے۔ (الممتحنہ : ٤)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 24