حدیث نمبر 537

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ابی کعب اورتمیم داری کو حکم دیا کہ لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعتیں پڑھائیں ۱؎ تو امام مئین سورتیں پڑھتا تھا حتی کہ ہم درازیٔ قیام کی وجہ سے لاٹھی پر ٹیک لگالیتے تھے تو شروع فجر سے پہلے فارغ نہ ہوتے تھے ۲؎(مالک)

شرح

۱؎ آٹھ رکعتیں تراویح اور تین وتر کبھی ابی ابن کعب نے پڑھائیں اور کبھی تمیم داری یا تراویح ابی ابن کعب نے پڑھائیں اور وتر تمیم داری نے۔اس حدیث سے غیر مقلد آٹھ تراویح پر دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ ان کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور اس میں تین کا ثبوت ہے۔اس حدیث میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ حدیث صحیح نہیں بلکہ مضطرب ہے،اس کے راوی محمد ابن یوسف ہیں انہوں نے یہاں گیارہ کی روایت کی اورمحمد ابن نصر سے تیرہ کی،عبدالرزاق نے انہیں سے اکیس رکعتیں نقل کیں۔(فتح الباری)ابن عبدالبر نے فرمایا کہ یہ روایت وہم ہے۔صحیح یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو بیس رکعت کا حکم دیا۔(مرقاۃ)دوسرے یہ کہ ہوسکتاہے کہ اولًا آٹھ تراویح پڑھی گئی ہوں،پھر بارہ،پھر بیس یہ دونوں منسوخ ہوں،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔

۲؎ مئین:وہ سورتیں کہلاتی ہیں جن کی آیات سو سے زیادہ ہوں جیسے سورۂ بقر،آل عمران یعنی آٹھ رکعتوں میں لمبی سورتیں پڑھی جاتی تھی تو ہم تھک کر اپنی بغل میں لاٹھی دباکر ٹیک لگالیتے تھے۔اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس سے معلوم ہوگا کہ لاٹھی پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے اور شبینہ سنت ہے۔