أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـنُدۡخِلَـنَّهُمۡ فِى الصّٰلِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم ان کو ضرور نیکو کاروں میں داخل کریں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم ان کو ضرور نیکو کاروں میں داخل کریں گے اور بعض وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے ‘ اور جب انہیں اللہ کی راہ میں کوئی اذیت دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا کو اللہ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں ‘ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو وہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے ! کیا اللہ ان چیزوں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا جو تمام جہانوں والوں کے سینوں میں ہیں ! اور اللہ ایمانوالوں کو ضرور ظاہر فرما دے گا اور منافقوں کو (بھی) ضرور ظاہر فرما دے گا اور کافروں نے ایمان والوں سے کہا تم ہمارے طریقہ کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہوں کو اٹھا لیں گے ‘ حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کسی بھی چیز کو نہیں اٹھا سکیں گے ‘ بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ (اور) کئی بوجھ ‘ اور قیامت کے دن ان سے ضرور ان کی افتراء کی ہوئی باتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا (العنکبوت : ١٣۔ ٩)

العنکبوت : ٧میں فرمایا تھا : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو ہم ضرور ان کے گناہوں کو ان سے مٹا دیں گے اور ان کے اچھے کاموں کی ضرور ان کو جزادیں گے

اور العنکبوت : ٩ میں پھر اسی آیت کو دہرایا ہے : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو ہم ان کو ضرور نیکوکاروں میں داخل کریں گے

صالحین سے مراد ہے جو نیکی کے آخری درجہ کو پہنچے ہوئے ہوں اور جب مومن نیکی اور تقویٰ کے انتہائی درجہ پر فائز ہوگا تو اس کو اس کا ثمرہ اور اس کی جزاء حاصل ہوگی اور وہ جنت ہے ‘ سو ان دونوں آیتوں کا ایک ہی مآل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 9