أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡثَانًا ۙ مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۚ ثُمَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا وَّمَاۡوٰٮكُمُ النَّارُ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ابراہیم نے کہا تم نے صرف دنیاوی زندگی کی باہمی دوستی کی بناء پر اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے ‘ پھر تم قیامت کے دن ایک دوسرے کا کفر کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تمہارا ٹھکانا دوذخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہےسوا براہیم کی قوم کا صرف یہ جواب تھا کہ اس کو قتل کردو یا اس کو جلا ڈالو تو اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں اور ابراہیم نے کہا تم نے صرف دنیاوی زندگی کی باہمی دوستی کی بناء پر الہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے ‘ پھر تم قیامت کے دن ایک دوسرے کا کفر کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا (العنکبوت : ٢٥۔ ٢٣)

سومنوں کو امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان پر دوزخ کی آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیں گے ‘ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونہ کے مطابق زندگی گزاریں تاکہ آخرت میں اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے اور جس طرح حضرت ابراہیم پر دنیا کی آگ ٹھنڈی کی تھی ان کے متبعین اور ان کے نمونہ کے مطابق زندگی گزارنے والوں پر آخرت کی آگ ٹھنڈی فرما دے۔

عقائد میں اندھی تقلید کا مذموم ہونا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے بت پرستوں کے مذہب کا فساد اور بطلان ظاہر کردیا اور ان کی جلائی ہوئی آگ سے صحیح اور سلامت نکل آئے تو اس کے بعد فرمایا :۔

اور ابراہیم نے کہا تم نے صرف دنیاوی زندگی کی باہمی دوستی کی بناء پر اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنایا ہے۔ (العنکبوت : ٢٥)

یعنی تم کسی دلیل کی بناء پر ان بتوں کی پرستش نہیں کررہے ‘ بلکہ اپنے آباء و اجداد اور دوستوں اور ساتھیوں کی اندھی تقلید میں ان بتوں کی عبادت کر رہے ہو ‘ تمہارے دوستوں ‘ رشتہ داروں اور بڑوں کی عبادت کا جو طریقہ ہے تم اس سے سر مومنحرف ہونا نہیں چاہتے اس لئے تم ان بتوں کی عبادت کر رہے ہو یہ تمہارے قومی بت ہیں جو تمہاری اجتماعیت اور باہمی دوستی کی بنیاد ہیں اور تم نے محض دنیاوی دوستی کی خاطر دلیل اور حجت کی پیروی کو ترک کردیا ہے ‘ پھر فرمایا :

پھر تم قیامت کے دن ایک دوسرے کا کفر کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (العنکبوت : ٢٥ )

جس دوستی اور محبت کی وجہ سے دنیا میں بتوں کی عبادت کی تھی قیامت کے دن وہ محبت اور دوستی زائل ہوجائے گی اور تم پر حقیقت واضح ہوجائے گی ‘ اس دن بتوں کی عبادت کرنے والے بتوں کے متعلق کہیں گے یہ ہمارے معبود نہیں ہیں ان کا انکار کریں گے اور ان پر لعنت کریں گے اور بت کہیں گے یہ ہمارے بعادت گزار نہیں ہیں ہم نے ان سے عبادت کرنے کے لئے نہیں کہا تھا ‘ عبادت کرنے والے کہیں گے ان بتوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ‘ بت کہیں گے ان کے عبادت کرنے کی بناء پر ہم کو دوزخ میں ڈالا گیا ہے ‘ وہ دونوں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔

آیت کے اس آخری حصہ سے معلوم ہوا کہ بت پرستوں نے بتوں کی محبت کی وجہ سے ان کی عبادت کی تھی کیونکہ ان پر جسمیت غالب تھی وہ چاہتے تھے کہ وہ اس کی عبادت کریں جس کا جسم ہو جو ان کو دکھائی دے اور ان کو نظر آئے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ عبادت اس کی کرنی چاہیے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کو انواع و اقسام کی نعمتیں عطاکی ہیں بلکہ وہ یہ جانتے تو تھے لیکن مانتے نہیں تھے ‘ ان پر آباء و اجداد کی اندھی تقلید غالب تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 25