أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ مَا سَبَـقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے لوط کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا بیشک تم بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے لوط کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا بیشک تم بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا کیا تم مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو اور راستے منقطع کرتے ہو اور تم اپنی عام مجلسوں میں بےحیائی کا کام کرتے ہو ! تو ان کی قوم کا صرف یہ جواب تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آئیں لوط نے دعا کی کہ اے میرے رب ! ان فسادی لوگوں کے خلاف میری مدد فرما (العنکبوت : ٣٠۔ ٢٨ )

قوم لوط کا راستوں کو منقطع کرنا :۔

سورة الاعراف : ٨٤۔ ٨٠ اور سورة ھود : ٨٣۔ ٧٧ میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی پوری تفصیل گزر چکی ہے۔ دیکھئے تبیان القرآن ج ٤ ص ٢١٩۔ ٢١٣‘ اور تبیان القرآن ٥ ص ٦٠٤۔ ٥٩٧‘ ان آیات کی مختصر تفسیر اس طرح ہے :

حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا بیشک تم بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا

ان کی قوم اپنی شہوت پوری کرنے کے لئے اپنی عورتوں سے مباشرت کرنے کی بجائے مردوں سے عمل معکوس اور خلاف فطرت کام کرتی تھی۔

نیز فرمایا : اور راستے منقطع کرتے ہو ‘ اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ وہ آنے جانے والوں مسافروں اور اجنبی لوگوں کو زبردستی پکڑپکڑ کر یہ بےحیائی کا کام کرتے تھے ‘ جس کی وجہ سے لوگوں کا سفر کرنا اور راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا تھا اور لوگ گھروں میں بیٹھے رہنے میں عافیت سمجھتے تھے ‘ اس کی دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ وہ مسافروں کو لوٹ لیتے تھے ‘ ان کو قتل کردیتے تھے اور ارروئے شرارت ان پر کنکر مارتے تھے ‘ اور اس کی تیسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ وہ برسر راہ یہ عمل کرتے تھے پس لوگ وہاں سے گزرنے میں شرم محسوس کرتے تھے تو اس طرح انہوں نے راستے بند کردیئے تھے اور اس کی چوتھی تفسیر یہ ہے کہ چونکہ وہ عورتوں کے بجائے مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے تو گویا انہوں نے افزائش نسل کا راستہ منقطع کردیا تھا اور وہ مردوں کی وجہ سے عورتوں سے مستغنی ہوگئے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں یہ چاروں وجوہ متحقق ہوں اور اس وجہ سے انہوں نے راستے منقطع کردیئے تھے۔

قوم لوط کا برسرمجلس بےحیائی کے کام کرنا۔

اور فرمایا تم اپنی عام مجلسوں میں بےحیائی کے کام کرتے ہو۔ اس کی تفسیر میں یہ احادیث ہیں :

حضرت ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتاتون فی نادیکم المنکر العنکبوت : ٢٩ کی تفسیر میں فرمایا وہ زمین ( سے گزرنے) والوں پر کنکر مارتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٩٠‘ مسند احمد ج ٦ ص ١٣٥١‘ المعجم الکبیرج ٢٤ رقم الحدیث : ١٠٠١ المستدرک ج ٢ ص ٤٠٩)

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قوم لوط کے لوگ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے اور ہر ایک کے سامنے کنکریوں سے بھرا ہوا ایک پیالہ ہوتا تھا جو شخص راستہ سے گزرتا وہ اس پر کنکر مارتے تھے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کنکر مارنے سے اجتناب کرو کیونکہ اس سے دشمن ہلاک ہوتا ہے نہ شکار ہوتا ہے لیکن اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے اور دانت ٹوٹ جاتا ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٥٤‘ الکشف والبیان للثعلبی ج ٥ ص ٥٤ )

علامہ عبدالرحمان بن محمد بن مخلوف ثعالبی مالکی متوفی ٨٧٥ ھ لکھتے ہیں :۔

مجاہد نے کہا ان کے مرد مردوں کے ساتھ اپنی مجلسوں میں بدکاری کرتے تھے اور ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے تھے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا وہ اپنی مجالس میں گوز لگاتے تھے اور ایک دوسرے کو تھپڑ مارتے تھے۔ (الجواہر الحسان لاثعا لبی ج ٤ ص ٢٩٤‘ مطبوعہ دارا احیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

حضرت عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا وہ ایک دوسرے پر تھوکتے تھے۔

مکحول نےکہا قوم لوط کے اخلاق میں سے یہ چیزیں تھیں وہ دنداسہ چباتے تھے ‘ انگلیوں پر مہندی لگاتے تھے ‘ تہبند کھول دیتے تھے ‘ سیٹیاں بجاتے تھے اور ہم جنس پرستی کرتے تھے۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٥٥٦۔ ٥٥٥‘ داراحیاء اتراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا قوم لوط بےیائی کے علاوہ اور بھی برے کام کرتی تھی۔ وہ ایک دوسرے پر ظلم کرتے تھے ‘ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے ‘ مجلس میں گوز لگاتے تھے ‘ گزرے والوں پر کنکر مارتے تھے ‘ چو سر اور شظرنج کھیلتے تھے ‘ رنگدار کپڑے پہنتے تھے ‘ مرغ لڑاتے تھے ‘ مینڈھے لڑاتے تھے ‘ انگلیاں مہندی سے رنگتے تھے ‘ مرد عورتوں کا لباس پہنتے تھے اور عورتیں مردوں کا لباس پہنتی تھیں ‘ ہرگز رنے والے سے ٹیکس لیتے تھے ‘ ان تمام کاموں کے علاوہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے تھے ‘ اور ہم جنس پرستی کی ابتداء سب سے پہلے ان میں ہوئی تھی ‘ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ان برے کاموں سے منع کیا تو انہوں نے کہا آپ ہم پر اللہ کا عذاب لے آئیں۔ اور انہوں نے یہ اس لئے ہا تھا کہ ان کو حضرت لوط (علیہ السلام) کے دعویٰ رسالت کے جھوٹے ہونے کا یقین تھا ‘ پھر حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس عذاب کے فرشتے بھیج دیئے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٣ ص ٣٠٤۔ ٣٠٣‘ دارالکتاب العربی ‘ جز ١٣ ص ٣١٥‘ دارالفکر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 28