أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنۡـتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ‌ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ۞

 ترجمہ:

اور تم (اللہ کو) زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو اور نہ آسمان میں ‘ اور اللہ کو چھوڑ کر تمہارے لئے نہ کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

اس کے بعد فرمایا : اور تم (اللہ کو) زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں۔ اس سے پہلے کفار کو عذاب دینے کا ذکر فرمایا تھا اور عذاب سے نجات یا تو اس طرح ہوسکتی ہے کہ انسان عذاب دینے وال کی پہنچ سے بھاگ جائے اور اس کی گرفت سے باہر نکل جائے اور یا اس سے مقابلہ کر کے اس کو زیر کر دے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں صورتوں کا رد فرما دیا کہ تم اس سے بھاگ کر کہیں زمین میں جاسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ تم طاقت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکتے ہو ‘ کیونکہ اس کے مقابلہ میں تمہارا کوئی دوست ہے نہ مددگار ہے۔ اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 22