أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوۡذِىَ فِى اللّٰهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِؕ وَلَئِنۡ جَآءَ نَـصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكَ لَيَـقُوۡلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡ‌ؕ اَوَلَـيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِىۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بعض وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پس جب انہیں اللہ کی راہ میں کوئی اذیت دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذاء کو اللہ کے عذاب کی طرح بنالیتے ہیں اور اگر آپ کے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو وہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے ! کیا اللہ ان چیزوں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا جو تمام جہان والوں کے سینوں میں ہیں

اور فرمایا اور بعض وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے۔ الآیۃ (العنکبوت : ١١)

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اس آیت کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں : اہل مکہ کے کچھ لوگ اسلام لے آئے ‘ وہ اسلام کو معمولی سمجھتے تھے ( اس لئے انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی) جنگ بدر کے دن مشرکین ان کو اپنے ساتھ لڑنے کے لئے لے گئے ان میں سے کچھ زخمی ہوگئے اور کچھ قتل کردیئے گئے ‘ صحابہ نے کہا یہ لوگ مسلمان تھے ان کو جبر اً لڑنے کے لئے لایا گیا تھا اور صحابہ نے ان کی مغفرت کی دعا کی ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :

بیشک جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں تم کس حال میں تھے ‘ وہ کہتے ہیں ہم اس زمین میں کمزور اور مغلوب تھے ‘ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی تم اس میں ہجرت کرلیتے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔ (النساء : ٩٧)

پھر صحابہ نے باقی مسلمانوں کی طرف اس آیت کا حکم لکھ کر بھیج دیا کہ اب تمہارے لئے کوئی عذر نہیں ہے تم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آجائو ‘ وہ مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو مشرکین نے ان پر حملہ کردیا اور وہ اس آزمائش کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : اور بعض وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب انہیں اللہ کی راہ میں کوئی اذیت دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کو ایڈاء کی اللہ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں الخ پھر صحابہ نے ان کی طرف اس آیت کو لکھ کر بھیج دیا وہ روانہ ہوئے اور وہ ہر خیر سے مایوس ہوچکے تھے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧١٧٠‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) علامہ عبدالرحمن بن محمد بن مخلوف الثعالبی المالکی المتوفی ٨٧٥ ھ نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ ( الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن ج ٤ ص ٢٩٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 10