أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَيۡهِ حُسۡنًا‌ ؕ وَاِنۡ جَاهَدٰكَ لِتُشۡرِكَ بِىۡ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡهُمَا ؕ اِلَىَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اور ( اے مخاطب ! ) اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک قرار دے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ‘ تو ان کی اطاعت نہ کر ‘ میری ہی طرف تم سب نے لوٹنا ہے ‘ پھر میں تم کو خبر دوں گا کہ تم کیا کام کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اور (اے مخاطب ! ) اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک قرار دے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ‘ تو ان کی اطاعت نہ کر ‘ میری ہی طرف تم سب نے لوٹنا ہے ‘ پھر میں تم کو خبردوں گا کہ تم کیا کرتے تھے (العنکبوت : ٨)

شرک اور معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہ کرنے کا حکم 

امام ابو محمد الحسین بن مسعود الفراء ابغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

یہ آیت اور لقمان : ١٤‘ اور الاحزاب : ٧٢‘ حضرت سعد بن ابی وقاص ( سعد بن مالک) (رض) اور ان کی ماں حمسنہ بنت ابی سفیان کے متعلق نازل ہوئیں ہیں ‘ جب حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) مسلمان ہوگئے تھے ‘ حضرت سعد سابقین اولین میں سے تھے اور اپنی ماں کے ساتھ بہت نیکی کرتے تھے ‘ ان کی ماں نے کہا یہ کون سا دین ہے جو ابھی ظاہر ہوا ہے ‘ اور اللہ کی قسم میں اس وقت تک کچھ کھائوں گی نہ پیوں گی جب تک کہ تم اپنے سابق دین کی طرف نہیں رجوع کرو گے ‘ ورنہ میں مر جائوں گی اور تم کو ہمیشہ یہ طعنہ دیا جائے گا کہ تم اپنی ماں کے قاتل ہو ‘ پھر ان کی ماں نے پورادن کھائے ‘ پئے اور آرام کے بغیر گزار دیا ‘ پھر اس نے دوسرا دن بھی اس طرح کھائے پئے بغیر گزار دیا ‘ پھر حضرت سعد ان کے پاس گئے اور کہا اے ماں ! اگر آپ کے پاس سو زندگیاں ہوتیں اور آپ اسی طرح ایک ایک کر کے ان زندگیوں کو ختم کر دیتیں پھر بھی میں اپنے دین کو ترک نہ کرتا ‘ آپ چاہیں تو کھانا کھائیں اور چاہیں تو کھانا نہ کھائیں۔ جب ان کی ماں حضرت سعد کے سابق دین کی طرف لوٹنے سے مایوس ہوگئیں تو پھر انہوں نے کھانا پینا شروع کردیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کریں اور حسن سلوک کریں اور اگر وہ اللہ کا شریک بنانے کا حکم دیں تو اس حکم میں ان کی اطاعت نہ کی جائے۔ (معالم التنز یل ج ٣ ص ٥٥١‘ مطبو عہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

یہ حدیث کچھ تغیر الفاظ کے ساتھ حسب ذیل کتب حدیث میں ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٤٨ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٨٩‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٨٢)

ہر چند کہ قرآن مجید کی اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ صرف اللہ کا شریک بنان کی ممانعت ہے کیونکہ شرک سب سے بڑا گناہ اور ناقابل مغفرت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی معصیت میں ماں باپ کی یا کسی بھی مخلوق کی اطاعت کرنی جائز نہیں ہے۔ حدیث میں ہیں : حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور اس لشکر پر ایک شخص کو امیر مقر کردیا ‘ اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس آگ میں داخل ہو جائو ‘ بعض نے اس آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا ہم نے آگ سے ہی تو فرار اختیار کیا ہے ‘ پھر انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو جن لوگوں نے اس آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا اس سے آپ نے فرمایا اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی آگ میں رہتے اور دوسروں سے فرمایا معصیت ( اللہ کی نافرمانی) میں کسی کی اطاعت نہیں ہے ‘ اطاعت صرف نیکی میں ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٢٥٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤٠‘ سنن ابو دائو دا رقم الحدیث : ٢٦٢٥‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٢١٦‘ مسند احمد ج ١ ص ١٤٩‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٥٢٧‘ مسند البنز اررقم الحدیث : ٥٨٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ١ ص ٢٤٣)

والدین کی اطاعت کے متعلق احادیث

قرآن مجید کی اس آیت میں والدین کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے اور والدین کی اطاعت کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے حسن سلوک کا کون سب سے زیادہ حق دار ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ! اس نے پوچھا پھر کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہاری ماں ‘ اس نے پوچھا پھر کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہاری ماں ! اس نے پوچھا پھر کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ مسند الحمیدی رقم الحدیث : ١١١٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٧ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو ! اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو ! اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو ! عرض کیا گیا کس کی یارسول اللہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا ‘ پھر وہ جنت میں داخل نہیں ہوا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٤٥‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٦) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس مال بھی ہے اور میری اولاد بھی ہے اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم خود اور تمہارا مال تمہارے باپ کی مالکیت ہے ‘ بیشک تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی میں سے ہے ‘ پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھائو۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٣٣٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٩٩٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٧٩‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ١٩١)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے جہاد کی اجازت طلب کی ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر ان کی خدمت میں جہاد کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٧٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٢٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٥٢٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٨٢ ٢)

حضرت معاویہ بن جاہمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت جاہمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : یار سول اللہ ! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپ کے پاس مشورہ کرنے کے لئے آیا ہوں آپ نے فرمایا کیا تمہاری ماں ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا پھر اس کی خدمت میں لازم رہو ‘ کیونکہ جنت اس کے پائوں کے پاس ہے۔ (سنن نسائی رقم الحدیث : ٣١٠٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٨١‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٢٩‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ١٩٧)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا ‘ حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے حکم دیا کہ اس کو طلاق دے دو ‘ میں نے انکار کیا ‘ پھر حضرت عمر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٣٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١١٨٩ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٨٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٠ )

حضرت بریدہ بن الحصیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے پوچھا میں نے اپنی ماں پر ایک باندی کو صدقہ کیا تھا ‘ اب وہ فوت ہوگئی ہیں ‘ آپ نے فرمایا تمہارا اجر ثابت ہوگیا اور وراثت نے اس کو تمہیں واپس کردیا ‘ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اس پر ایک ماہ کے روزے تھے ‘ کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟ آپ نے فرمایا اس کی طرف سے روزے رکھو ‘ اس نے پوچھا اس نے حج نہیں کیا تھا آیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کی طرف سے حج کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٤٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٦٧۔ ٩٢٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٥٦۔ ٢٨٧٧۔ ٣٣٠٩‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٤٩‘ جامع الا صول رقم الحدیث : ٢٠٠)

حضرت اسماء بن ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ میری ماں میرے پاس آئیں اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں مشرکہ تھیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ میری ماں اسلام سے اعراض کرنے والی ہیں ‘ آیا میں ان سے ملوں ؟ آپ نے فرمایا تم ان سے ملو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٢٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٠٣‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٦٨‘ مسند احمد ج ٦ ص ٣٤٤‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ٢٠١)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے آیا میری توبہ ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تیری ماں ہے ؟ اس نے کہا نہیں ‘ آپ نے فرمایا کیا تیری خالہ ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس کے ساتھ نیکی کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٠٤‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٥١٠‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٣‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ٢٠٢)

حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس بنو سلیمہ سے ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ماں باپ کی موت کے بعد ان کے ساتھ کرسکوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان کی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لئے استغفار کرو اور ان کے بعد ان کے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرو ‘ ان کے رشتہ داروں سے ملو اور ان کے دوستوں کی عزت کرو۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٤٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٦٤‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٩٧‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ٢٠٤)

حضرت ابو الطفیل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الجعرانہ میں گوشت تقسیم فرما رہے تھے ‘ میں اس وقت لڑکا تھا اور گوشت اٹھا کر لارہا تھا ‘ ایک عورت آئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچی آپ نے اس کے لئے اپنی چادر بچھادی ‘ میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کی رضاعی ماں ہے۔ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٤٤‘ الادب المفردرقم الحدیث : ١٢٩٥‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ٢٠٧)

حضرت طلحہ بن معاویہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں ‘ آپ نے پوچھا کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کے پائوں کے پاس لازم رہو جنت وہیں ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨١٦٢‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٣٤٠١)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے والدین کی اطاعت کرتے ہوئے صبح کی ‘ اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر اس نے ان میں سے ایک کی اطاعت میں صبح کی تو ایک دروازہ کھلا ہوا ہوتا ہے ‘ اور جس شخص نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی میں صبح کی تو اس کے لئے دوزخ کے دو دروازے کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر ایک کی نافرمانی کی تو ایک کھلا ہوا ہوتا ہے ‘ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر ماں باپ اس پر ظلم کریں ؟ آپ نے فرمایا اگرچہ وہ ظلم کریں ‘ اگرچہ وہ ظلم کریں ‘ اگرچہ وہ ظلم کریں۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٩١٦‘ مشکوٰۃ المصابیح رقم الحدیث : ٤٩٤٣)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے۔ (الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٦٤٢‘ الکثف والبیان ج ٧ ص ٢٧٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 8