أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَجَعَلۡنَا فِىۡ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ وَاٰتَيۡنٰهُ اَجۡرَهٗ فِى الدُّنۡيَا ‌ۚ وَاِنَّهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو رکھ دیا اور ہم نے ان کو اس دنیا میں ان کا اجر دے دیا اور بیشک وہ آخرت میں نیکو کاروں میں سے ہیں

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کی اتباع کی ترغیب 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد کی نعمت عطا کی ان کو دو بیٹے عطا فرمائے حضرت اسماعیل جو حضرت ھاجرہ سے پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق جو حضرت سارہ سے پیدا ہوئے ‘ اور ان کے بیٹے کو بیٹھا عطا فرمایا اور حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوئے اور بنی اسرائیل کے تمام انبیاء ان ہی کی نسل سے پیدا ہوئے ‘ پھر فرمایا ہم نے ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو رکھ دیا ‘ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تمام انبیاء ان ہی کی صلب سے پیدا ہوئے ‘ نبی اسرائیل کے تمام انبیاء حضرت اسحاق کی صلب سے پیدا ہوئے اور حضرت اسماعیل کی صلب سے ہمارے نبی سید نا محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ان کی اولاد میں کتاب کو رکھ دیا اس سے مراد تورات ‘ زبور ‘ انجیل اور قرآن مجید ہے ‘ تورات ان کی اولاد میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اور زبور ان کی اولاد میں سے حضرت دائود پر نازل ہوئی ‘ اور انجیل ان کی اولاد میں سے حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی اور قرآن مجید ان کی اولاد میں سے نبی سیدنا محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے ان کو اس دنیا میں اس کا اجر دے دیا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو دو قسم کے اجر عطا فرمائے ‘ ان کو ظالموں سے نجات عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں انبیاء بنائے اور ان انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے نیکو کاروں کی تمام نیکیوں میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اذخرت میں اجر ملے گا ‘ اور مزید یہ فرمایا کہ ان کا شمار آخرت میں صالحین میں ہوگا۔ ان آیتوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فضائل بیان فرمائے ہیں اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور ان کے طریقہ پر اتباع کی ترغیب دی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 27