💡يحي بن معاذ أبو زكريا الرازي

متوفى 16 جمادى الأولى سنة 258 ھ

حضرت سیدنا ابو یزید بسطامی کے اصحاب میں سے ہیں، جملہ سوانح نگاروں نے آپ کا تذکرہ نہایت عقیدت سے کیا ہے ۔ 3 بھائی تھے اور تینوں کے تینوں عبادت و ریاضت میں سربرآوردہ تھے ۔ آپ کے وعظ کی عمدگی اور تاثیر کی وجہ سے آپ "الواعظ” مشہور ہوئے ہیں ۔ آپ ایک بار نیشاپور سے بغداد گئے تو وہاں کے عباد و زہاد آپ کو اونچی جگہ بٹھا کر خود نیچے تشریف فرما ہوئے ۔ تذکرہ نگاروں نے آپ کے ہدایت آفریں اقوال کو بیان کیا ہے ۔

الدكتور ناصر بن مسفر الزهراني نے ( الكلام الأخاذ ليحيى بن معاذ ) {{ یحیی بن محاذ کی دلوں کو موہ لینے والی باتیں }} کے نام سے 78 صفحات کی ایک کتاب میں کچھ جواہر پاروں کو جمع کیا ہے ۔

🙏 فقیر خالد محمود، دعاؤں کی اپیل کے ساتھ

آپ احباب کی خدمت میں چند مع ترجمہ پیش کرتا ہے ۔

🌷لست أبكي على نفسي إن ماتت ، إنما أبكي على حاجتي إن فاتت .

💐میرا ضمیر ، میری خودی مر جائے تو مجھے رونا نہیں آتا ، بس رونا آتا ہے جب میری کوئی دنیوی ضرورت پوری نہ ہو

🌷 كيف امتنع بالذنب من رجائك ، ولا أراك تمتنع للذنب من عطائك .

💐 میں اپنے گناہوں اور جرموں کی وجہ سے ( اے میرے کریم رب ) تجھ سے اپنی امید کیسے روک دوں جب کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے ( انہی ) گناہوں کی وجہ سے تو اپنی عطائیں مجھ سے روک نہیں رہا ۔

🌷مفاوز الدنيا تُقطع بالأقدام ، ومفاوز الآخرة تُقطع بالقلوب .

💐دنیا کے ہلاکت آفریں صحراء قدموں کے ساتھ طے کیئے جاتے ہیں لیکن آخرت کے ہولناک چٹیل صحراء دلوں کے ذریعے عبور کیئے جائیں گے ۔

مطلب شاید یہ کہ

(1) اپنے دلوں کو مؤمنين و متقین کے سلیم دلوں کی طرح تقوی شعار رکھا جائے

(2) مخلوق خدا کے دلوں کو بھی تقوی کے مراکز بنانے کی مساعی کی جائیں

(3) اللہ تبارک و تعالی کی مخلوق کی فلاح و صلاح اور خدمت و فرحت کی کوششیں کر کے ان کو جیتا جائے ، ان میں اپنی محبت، اپنی یاد پیدا کی جائے ۔

🌷يا بن آدم ، لا يزال دينك متمزقاً ما دام القلب بحب الدنيا متعلقاً .

💐اے اولاد آدم تیرا دین اس وقت تک پارہ پارہ رہے گا جب تک تو اسے محبت دنیا کے ساتھ لگائے رکھے گا ۔

🌷لا تستبطىء الإجابة وقد سددت طرقاتها بالذنوب .

💐 دعائیں کی قبولیت کی راہ میں اگر تم نے گناہوں کے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں تو پھر قبولیت کی تاخیر کا شکوہ نہ کرو ۔

🌷عُدِم التواضع من فاته خصال : عِلْمُه بما خُلق له ، وما خلق منه ، وما يعود إليه .

💐محروم ہو جاتا ہے تواضع سے وہ شخص جس میں سے یہ خصلتیں ( تین علم ) معدوم ہو جائیں ۔

(1) اس کے مقصد تخلیق کا علم ۔

(2) مراحل تخلیق کا علم

(3) واپس لوٹ کر جانے کے مقام کا علم ۔

🌷 فكرتك في الدنيا تلهيك عن ربك وعن دينك ، فكيف إذا باشرتها بجميع جوارحك .

💐دنیا کے بارے میں جیسے ہی اور جتنی دیر تو کچھ سوچتا ہے تو یہ فکر تجھے تیرے رب سے اور تیرے دین سے غافل کر دیتی ہے ۔ جس کے متعلق سوچ کرنے کا یہ حال ہے اگر تم اسے اپنے تمام جسمانی اعضاء اور بدنی قوتوں سے سرانجام دینے لگ جاؤ گے تو اس وقت کیا حال ہو گا ۔

🌷الناس ثلاثة : فرجل شغله معاده عن معاشه فتلك درجة الصالحين ، ورجل شغله معاشه لمعاده فتلك درجة الفائزين ، ورجل شغله معاشه عن معاده فتلك درجة الهالكين .

💐لوگ 3 اقسام پر ہیں ۔

(1) جن کو آخرت نے دنیوی معاش سے مشغول کیا ہوا ہے ۔ ( معیشت دنیا کی طرف توجہ ہی نہیں ) یہ صالحین کا درجہ ہے

(2) جنہوں نے اپنی دنیاوی معاش کو اپنی آخرت کے لیئے مشغول کر رکھا ہے ( یعنی بھرپور دنیا داری کرتے ہیں لیکن سب آخرت کی خاطر ) ۔ یہ کامیاب و با مراد لوگوں کا درجہ ہے

(3) جن کو دنیاوی معیشت نے ، اس کی آخرت سے مشغول کر رکھا ہے( کسب معاش میں ایسا منہمک ہے کہ آخرت یاد ہی نہیں ) یہ ہلاک ہونے والوں کا درجہ ہے ۔

🌷الدنيا لا قدر لها عند ربها وهي له ، فما ينبغي أن يكون قدرها عندك وليست لك .

💐دنیا رب کی ہے اور اسی کے لیئے ہے پھر بھی اس رب کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں، ۔تیری تو ہے ہی نہیں سو تیرے ہاں تو اس کی کوئی قدر ہونا ہی نہیں چاہیئے ۔۔

🌷من سعادة المرء أن لا يكون لخصمه فهماً ، وخصمي لا فهم له . قيل له : من خصمك ؟ قال : خصمي نفسي لا فهم لها ن تبيع الجنة بما فيها من النعيم المقيم والخلود فيها بشهوة ساعة في دار الدنيا ۔

💐 انسان کی سعادت یہ ہے کہ اس کے دشمن کو کوئی عقل و فہم نہ ہو اور میرے خصم کو کوئی فہم حاصل ہے ہی نہیں ۔

پوچھا گیا ! کون ہے آپ کا مد مقابل ؟

فرمایا ، میرا نفس !

اور اس کو میرے حوالے سے یہ فہم قطعا میسر نہیں کہ پل دو پل کی دنیاوی خواہشات کے لیئے جنتوں اور ان کی دائمی نعمتوں کو کسی طور ترک کر دے ۔

🌷 للتائب فخر لا يعادله فخر في جميع أفخاره : فرح الله بتوبته .

💐 توبہ کرنے والے کے لیئے ایک ایسا فخر ہے جس کا ہم پلہ اور کوئی فخر نہیں اور وہ ہے اس کی توبہ کرنے پر اللہ تبارک و تعالی کا اظہار فرحت و مسرت

🌷ابن آدم ! مالك تأسف على مفقود لا يرده عليك الغوث ؟ ومالك تفرح بموجود لا يتركه في يدك الموت ؟

💐 اے ابن آدم ! تیرا کیا حال ہے تجھے افسوس ہوتا ہے تو ( دنیا کی ایسی متاع پر جو تجھ سے ) مفقود ہے ، اور کوئی بھی مددگار تجھے دے بھی نہیں سکتا اور اتراتا ہے تو ( دنیا کی ایسی متاع پر جو ) موجود ہے لیکن موت اسے تیرے پاس رہنے نہ دے گی

🌷إلهي ، كيف أفرح وقد عصيتك ، وكيف لا أفرح وقد عرفتك ، وكيف أدعوك وأنا خاطىء ، وكيف لا أدعوك وأنت كريم .

💐الہی ! میں کیوں کر خوش ہوں جبکہ میں تیری نافرمانی کر چکا ہوں اور کیسے خوش نہ ہوں جب کہ( تیری رحمت و مغفرت کا ) مجھے پتا چل چکا ہے ۔ تجھ سے دعا کروں تو کیسے جب کہ میں سراپا خطا ہوں اور تجھ سے دعا کیوں نہ کروں جب کہ تو کریم ہے ۔

🌷 مصيبتان للمرء في ماله عند موته لم يسمع الأولون والآخرون بمثلهما ، قيل : ما هما ؟ قال : يؤخذ منه كله ، ويُسأل عنه كله .

💐 بوقت موت انسان کے لیئے 2 مصیبتیں ایسی ہیں کہ ان جیسی مصیبت اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی نے بھی سنی ہی نہیں ۔

عرض کیا گیا کہ وہ دونوں کون کون سی ہیں؟

فرمایا

(1) اس سے اس کا سب کچھ لے لیا جاتا ہے

(2) اور اس سب کچھ ( جو دوسروں کا ہو چکا ہے ) کے متعلق باز پرس بھی اسی سے ہوتی ہے ۔

🌷أخوك من عرَّفك العيوب ، وصديقك من حذرك من الذنوب .

💐بھائی تیرا وہ ہے جو تیرے عیب تجھے بتائے اور تیرا سچا دوست وہ ہے جو گناہوں سے تجھے بچائے ۔

🌷 العلماء أرحم بأمة محمد صلى الله عليه وسلم من آبائهم وأمهاتهم .

💐 محمد صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم کی امت کے ساتھ ، علماء ان کے والدین سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔

🌷ألق حسن الظن على الخلق ، وسوء الظن على نفسك ، لتكون من الأول في سلامة ، ومن الآخر على الزيادة

يحيى بن معاذ الرازي.

⚘ مخلوق کے بارے میں حسن ظن اور اپنے متعلق سوء ظن رکھو ۔ فائدہ یہ ہو کہ مخلوق سے سلامتی میں رہو گے اور خود کچھ درجات مزید حاصل کر لو گے ۔

✒ از قلم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین