حدیث نمبر 540

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ اس رات یعنی پندھوریں شعبان میں کیا ہے عرض کیا یارسول اﷲ اس میں کیا ہے تو فرمایا اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے انسان کے بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں ۱؎ اور اس رات میں ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں ۲؎ ا نہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا کوئی اﷲ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائے گا تو آپ نے تین بار فرمایا کہ کوئی اﷲ تعالٰی کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ بھی نہیں تو آپ نے اپنا ہاتھ شریف اپنے سر پر رکھا اور فرمایا میں بھی نہیں مگر یہ کہ اﷲ مجھے اپنی رحمت میں چھپالے تین بار فرمایا ۴؎(بیقیت،دعوات کبیر)

شرح

۱؎ اس طرح کہ فرشتے لوح محفوظ سے سال بھر کے ہونے والے واقعات اس رات صحیفوں میں نقل کردیتے ہیں اور ہر صحیفہ ان فرشتوں کے حوالے کرتے ہیں جن کے ذمہ یہ کام ہے۔چنانچہ مرنے والوں کی فہرست ملک الموت کو اور پیدا کرنے والوں کی فہرست بچہ بنانے والے فرشتے کو،رزقوں کی فہرست حضرت میکائلھ کو دے دی جاتی ہے اسی لیئے اسے شب قدر کہتے ہیں یعنی اندازے کی رات۔اس سے معلوم ہوا کہ ان فرشتوں کو سال میں پیدا ہونے والے،مرنے والوں لوگوں کا اور گرنے والے بارش کے قطرات اور ملنے والی روزیوں کا پورا علم ہوتا ہے۔یہ علوم خمسہ ہیں جو ان فرشتوں کو دیئے گئے ہیں تو ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا پوچھنا۔

۲؎ یعنی سال بھر کے اعمال جو روزانہ صحیفوں میں لکھے جاتے رہے وہ تمام مع ٹوٹل ایک جگہ لکھ کر رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور اگلے سال میں جس کو جتنی روزی ملنے والی ہے،دانے،پھل،پانی کے قطرے،سانسیں وغیرہ سب کا ٹوٹل لگادیا جاتا ہے۔نزول سے مراد اس کا معین کرنا ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث میں وہ لوگ غور کریں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے انکاری ہیں۔لوح محفوظ کے فرشتوں کو ذرہ ذرہ کی خبر ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ نیک اعمال جنت ملنے کا سبب ظاہری ہیں اور اﷲ تعالٰی کی رحمت سبب حقیقی لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں”تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثْتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ”بلکہ نیک اعمال کی توفیق اور ان کی قبولیت اﷲ کی رحمت سے ہے،عمل تخم ہیں اور رب تعالٰی کا فضل بارش اور دھوپ۔

۴؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا سر پر ہاتھ رکھنا تواضع کے لیئے تھا۔اس میں فرمایا یہ گیا کہ جب میں سید الانبیاء ہونے کے باوجود اﷲ کی رحمت سے بے نیاز نہیں پھر ان سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ رب تعالٰی کے لحاظ سے فرمایا،امت کے لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب کی پناہ ہیں۔سب کو اﷲ کی رحمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ملنی ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم ابر رحمت ہیں جس میں پانی رب کے حکم سے آتا ہے مگر تمام جہان کو پانی اس بادل سے ملتا ہے،اس بادل کے فیض سے سمندر میں موتی ہوتے ہیں اور خشکی میں دانے و پھل وغیرہ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے صحابہ کے سینوں میں معرفت کے موتی پیدا ہوئے،عام مسلمانوں کے سینوں میں ایمان و تقویٰ۔