وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةًؕ-نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآىٕغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ(۶۶)

اور بےشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے (ف۱۳۸) ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جوان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے (ف۱۳۹)

(ف138)

اگر تم اس میں غور کرو تو بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہو اور حکمتِ الٰہیہ کے عجائب پر تمہیں آگاہی حاصل ہو سکتی ہے ۔

(ف139)

جس میں کوئی شائبہ کسی چیز کی آمیزش کا نہیں باوجود یکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ، گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ ، خون ، گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ، دودھ میں نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بو کا ، نہایت صاف لطیف برآمد ہوتا ہے ۔ اس سے حکمتِ الٰہیہ کی عجیب کاری ظاہر ہے اوپر مسئلۂ بعث کا بیان ہو چکا ہے یعنی مُردوں کو زندہ کئے جانے کا ، کُفّار اس کے منکِر تھے اور انہیں اس میں دو شبہے درپیش تھے ایک تویہ کہ جو چیز فاسد ہو گئی اور اس کی حیات جاتی رہی اس میں دوبارہ پھر زندگی کس طرح لوٹے گی ، اس شبہ کا ازالہ تو اس سے پہلی آیت میں فرما دیا گیا کہ تم دیکھتے رہتے ہو کہ ہم مردہ زمین کو خشک ہونے کے بعد آسمان سے پانی برسا کر حیات عطا فرما دیا کرتے ہیں تو قدرت کا یہ فیض دیکھنے کے بعدکسی مخلوق کا مرنے کے بعد زندہ ہونا ایسے قادرِ مطلق کی قدرت سے بعید نہیں ، دوسرا شبہ کُفّار کا یہ تھا کہ جب آدمی مرگیا اور اس کے جسم کے اجزا منتشر ہوگئے اور خاک میں مِل گئے وہ اجزاء کس طرح جمع کئے جائیں گے اور خاک کے ذروں سے ان کو کس طرح ممتاز کیا جائے گا ، اس آیتِ کریمہ میں جو صاف دودھ کا بیان فرمایا اس میں غورکرنے سے وہ شبہ بالکل نیست و نابود ہو جاتا ہے کہ قدرتِ الٰہی کی یہ شان تو روزانہ دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ غذا کے مخلوط اجزاء میں سے خالص دودھ نکالتا ہے اور اس کی قرب و جوار کی چیزوں کی آمیزش کا شائبہ بھی اس میں نہیں آتا ، اس حکیمِ برحق کی قدرت سے کیا بعید کہ انسانی جسم کے اجزاء کو منتشر ہونے کے بعد پھر مجتمع فرما دے ۔ شقیق بلخی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نعمت کا اتمام یہی ہے کہ دودھ صاف خالص آئے اور اس میں خون اور گوبر کے رنگ و بُو کا نام و نشان نہ ہو ورنہ نعمت تام نہ ہوگی اور طبعِ سلیم اس کو قبول نہ کرے گی جیسی صاف نعمت پروردگار کی طرف سے پہنچتی ہے ۔ بندے کو لازم ہے کہ وہ بھی پروردگار کے ساتھ اخلاص سے معاملہ کرے اور اس کے عمل ریا اور ہوائے نفس کی آمیزشوں سے پاک و صاف ہوں تاکہ شرف قبول سے مشرف ہوں ۔

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۶۷)

اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے (ف۱۴۰) کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رِزق (ف۱۴۱) بےشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو

(ف140)

ہم تمہیں رس پلاتے ہیں ۔

(ف141)

یعنی سرکہ اور رُب اور خرمہ اور مویز ۔

مسئلہ : مویز اور انگور وغیرہ کا رس جب اس قدر پکا لیا جائے کہ دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہے اور تیز ہو جائے اس کو نبیذ کہتے ہیں یہ حدِ سُکر تک نہ پہنچے اور نشہ نہ لائے تو شیخین کے نزدیک حلال ہے اور یہی آیت اور بہت سی احادیث ان کی دلیل ہے ۔

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ(۶۸)

اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًاؕ-یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۶۹)

پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور (ف۱۴۲) اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لیے نرم و آسان ہیں(ف۱۴۳)اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز (ف۱۴۴)رنگ برنگ نکلتی ہے (ف۱۴۵)جس میں لوگوں کی تندرستی ہے (ف۱۴۶) بےشک اس میں نشانی ہے (ف۱۴۷) دھیان کرنے والوں کو (ف۱۴۸)

(ف142)

پھلوں کی تلاش میں ۔

(ف143)

فضلِ الٰہی سے جس کا تجھے الہام کیا گیا ہے حتی کہ تجھے چلنا پھرنا دشوار نہیں اور تو کتنی ہی دور نکل جائے راہ نہیں بہکتی اور اپنے مقام پر واپس آ جاتی ہے ۔

(ف144)

یعنی شہد ۔

(ف145)

سفید اور زَرد اور سُرخ ۔

(ف146)

اور نافع ترین دواؤں میں سے ہے اور بکثرت معاجین میں شامل کیا جاتا ہے ۔

(ف147)

اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت پر ۔

(ف148)

کہ اس نے ایک کمزور ناتُوان مکھی کو ایسی زِیرکی و دانائی عطا فرمائی اور ایسی دقیق صنعتیں مرحمت کیں ۔ پاک ہے وہ اور اپنی ذات و صفات میں شریک سے منزّہ ۔ اس سے فکر کرنے والوں کو اس پر بھی تنبیہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی قدرتِ کاملہ سے ایک ادنٰی ضعیف سی مکھی کو یہ صفت عطا فرماتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں سے ایسے لطیف اجزاء حاصل کرے جن سے نفیس شہد بنے ، جو نہایت خوشگوار ہو ، طاہر و پاکیزہ ہو ، فاسد ہونے اور سڑنے کی اس میں قابلیت نہ ہو تو جو قادر حکیم ایک مکھی کو اس مادے کے جمع کرنے کی قدرت دیتا ہے وہ اگر مرے ہوئے انسان کے منتشر اجزاء کو جمع کر دے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ہے ، مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو محال سمجھنے والے کس قدر احمق ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے وہ آثار ظاہر فرماتا ہے جو خود ان میں اور ان کے احوال میں نمایاں ہیں ۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ ﳜ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠(۷۰)

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا (ف۱۴۹) پھر تمہاری جان قبض کرے گا (ف۱۵۰) اور تم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے (ف۱۵۱) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۵۲) بےشک اللہ سب کچھ جانتا سب کچھ کرسکتا ہے

(ف149)

عدم سے اور نیستی کے بعد ہستی عطا فرمائی کیسی عجیب قدرت ہے ۔

(ف150)

اور تمہیں زندگی کے بعد موت دے گا جب تمہاری اجل پوری ہو جو اس نے مقرر فرمائی ہے خواہ بچپن میں یا جوانی میں یا بڑھاپے میں ۔

(ف151)

جس کا زمانہ عمرِ انسانی کے مراتب میں ساٹھ سال کے بعد آتا ہے کہ قُوٰی اور حواس سب ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے ۔

(ف152)

اور نادانی میں بچوں سے زیادہ بدتر ہو جائے ۔ ان تغیُّرات میں قدرتِ الٰہی کے کیسے عجائب مشاہدے میں آتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مسلمان بفضلِ الٰہی اس سے محفوظ ہیں ، طولِ عمر و بقا سے انہیں اللہ کے حضور میں کرامت اور عقل و معرفت کی زیادتی حاصل ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ توجہ الی اللہ کا ایسا غلبہ ہو کہ اس عالَم سے انقطاع ہو جائے ، بندۂ مقبول دنیا کی طرف التفات سے مجتنب ہو ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ جس نے قرآنِ پاک پڑھا وہ اس ارذل عمر کی حالت کو نہ پہنچے گا کہ علم کے بعد مَحض بے علم ہو جائے ۔