الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 536

روایت ہےحضرت عبدالرحمان ابن عبدالقاری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت عمر ابن خطاب کے ساتھ مسجد کو گیا لوگ متفرق طور پر الگ الگ تھے کوئی اکیلے نماز پڑھ رہاتھا اور کسی کے ساتھ کچھ جماعت پڑھ رہی تھی۲؎ حضرت عمر نے فرمایا اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری پر جمع کردیتا تو بہتر تھا پھر آپ نے ارادہ کر ہی لیا تو انہیں ابی ابن کعب پر جمع کردیا ۳؎ فرماتے ہیں کہ پھر میں دوسری رات آپ کے ساتھ گیا تو لوگ اپنے قاری کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر نے فرمایا یہ بڑی اچھی بدعت ہے۴؎ اور وہ نماز جس سے تم سورہتے ہو اس سے افضل ہے جس کو تم قائم کرتے ہو یعنی آخر رات کی ۵؎ اور لوگ اول رات میں پڑھتے تھے۶؎(بخاری)

شرح

۱؎ قاری عبدالرحمن کی صفت ہے نہ کہ عبد کا مضاف الیہ اور یہ قبیلہ قارہ کی طرف منسوب ہے،آپ تابعی ہیں،حضرت عمر فاروق کی طرف سے بیت المال پر عامل تھے۔

۲؎ یعنی رمضان کی راتوں میں سے ایک ر ات میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو لوگوں کو اس طرح متفرق طور پر تراویح پڑھتے دیکھا کہ کوئی جماعت سے پڑھ رہا ہے کوئی اکیلے۔خیال رہے کہ فرائض کی جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں علیحدہ نماز پڑھنا منع ہے۔تراویح کا یہ حکم نہیں اب بھی پیچھے آنے والے تراویح کی جماعت کے وقت فرائض اور بقیہ تراویح پڑھتے رہتے ہیں۔

۳؎ اس طرح کہ حضرت ابی ابن کعب کو حکم دیا کہ صحابہ کو تراویح پڑھایا کریں اور صحابہ کو حکم دیا کہ ان کے پیچھے جمع ہو کر تراویح پڑھا کریں۔خیال رہے کہ فرائض کے امام خود عمر فاروق تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر فرائض اور امام پڑھائے اور تراویح دوسرا تو جائز ہے،ہاں جس نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں وہ وتر نہیں پڑھا سکتا بلکہ جماعت سے پڑھ بھی نہیں سکتا۔

۴؎ یعنی تراویح کی بیس رکعت اور باجماعت ہمیشہ اہتمام سے قائم کرنا میری ایجاد ہے اوربدعت حسنہ ہے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نفس تراویح سنتِ رسول اﷲ ہے مگر اس پر ہمیشگی،باجماعت اور اہتمام سے ادا کرنا سنتِ فاروقی ہے یعنی بدعت حسنہ ہے۔د وسرے یہ کہ ایجادات صحابہ شرعًا بدعت ہیں اگرچہ انہیں لغۃً سنت کہا جاتا ہے،اسی لحاظ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِالرَّاشِدِیْن” لہذا یہ دونوں حدیثیں متعارض نہیں۔تیسرے یہ کہ ہر بدعت بری نہیں،بعض اچھی بھی ہوتی ہیں،مگر فرضی قرآن کریم کے اعراب اور سیپارے حدیثوں کو کتابی شکل میں جمع کرنا بدعت ہے مگر فرض۔چوتھے یہ کہ قیامت تک تراویح کی دھوم دھام عمر فاروق کی یادگار ہے۔

۵؎ یعنی تم لوگ تراویح تو پڑھ لیتے ہو مگر تہجد چھوڑ دیتے ہو حالانکہ وہ بہت افضل ہے وہ بھی پڑھاکرو یا یہ مطلب ہے کہ میں کسی عذر کی وجہ سے تمہارے ساتھ تراویح میں شریک نہیں ہوتا مگر تہجد پڑھتا ہوں جو اس جماعت سے افضل ہے۔خیال رہے کہ تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔

۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا عمل تراویح اول رات میں پڑھنے کا تھا۔خیال رہے کہ تراویح سو کر اٹھ کر نہ پڑھے بلکہ سونے سے پہلے پڑھے خواہ آخری رات تک پڑھتا رہے جیسا کہ شبینہ میں ہوتا ہے اور صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمل کیا یا پڑھ کر سوئے۔