أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

بیشک یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے اور وہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے اور وہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے اور ہم لوگوں کے لئے ان مثالوں کو بیان فرماتے ہیں اور ان مثالوں کو صرف علماء سمجھتے ہیں اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا بیشک اس میں مومنوں کے لئے ضرور نشانی ہے (العنکبوت : ٤٤۔ ٤٢)

پہلے زمانے کے نیک لوگوں کی عبادت کرنے کا بطلان 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے معبودوں کو مکڑی کے جالے سے تشبیہ دی تھی تو مشرکین یہ کہہ سکتے تھے کہ درحقیقت ہم اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی پھر کی مورتیوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ہم درحقیقت ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی ہم نے صورتیں بنائی ہیں یہ صورتیں پچھلے زمانے کے نیک لوگوں اور ستارو کی ہیں جو نفع اور ضرر اور خیر اور شر کے مالک تھے اور ہم ان ہی کی عبادت کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا بیشک یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ پچھلے زماے کے نیک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے بندے تھے۔ وہ موحد تھے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مستحق عبادت نہیں گردانتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت اور وجاہت عطا فرمائی تھی لیکن ان کو نفع اور ضرر اور خیر اور شرکا مالک نہیں بنایا تھا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے نفع اور ضرر اور خیر اور شر کا مالک نہ بنایا ہو اس کو بلا دلیل نفع اور ضرر کا مالک قرار دینا اور اس کو عبادت کا مستحق قرار دینا محض شرک اور کفر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 42