أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞

 ترجمہ:

اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ‘ بیشک اس میں مومنوں کے لئے ضرور نشانی ہے

کائنات کی ہر چیز کا برحق ہونا 

اس کے بعد فرمایا : اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا بیشک اس میں مومنوں کے لئے ضرور نشانی ہے (العنکبوت : ٤٤)

یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو تنہا بغیر کسی کی شرکت کے پیدا فرمایا ہے اور ان کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے ‘ عبث اور بےفائدہ نہیں پیدا فرمایا اور نہ ان کو محض لعب اور بہ طور مشغلہ کے پیدا فرمایا ہے ‘ ان کو پیدا کرنا برحق ہے اور ان میں اللہ تعالیٰ کی بہت حکمتیں ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا اور ان میں مومنین کے لئے حق کو مستور رکھا ہے کیونکہ مومنین کا ملین اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں ان کو اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے افعال کا عکس نظر آتا ہے وہ اس کائنات میں غورو فکر کرتے ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی قدرت عجائبات ظاہر ہوتے ہیں۔

علامہ محمد بن موسیٰ الدمیری متوفی ٨٠٨ ھ لکھتے ہیں :

ایک شخص نے حنفساء (گبریلا ‘ بھونرے کی طرح ایک سیاہ پر والا کیڑا) کو دیکھا تو کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے اس کیڑے کو کیوں پیدا کیا ہے نہ اس کی شکل اچھی ہے نہ اس کی بو اچھی ہے ‘ پھر اس شخص کے ایک پھوڑانکل آیا اور کسی دوا سے اس کا علاج نہ ہوسکا ‘ ایک دن کوئی حاذق حکیم آیا اس نے اس پھوڑے کو دیکھ کر کہا گبریلا لائو ‘ سوگئریل کے کو لایا گیا اس نے اس کو جلا کر اس کی راکھ اس پھوڑے پر لگائی توہ ٹھیک ہوگیا ‘ تب اس شخص کے منہ سے بےساختہ نکلا بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز ناحق پیدا نہیں کی ہر چیز کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ( حیات الحیوان ص ٢٧٩‘ مطبوعہ مطبعہ میمنہ مصر ‘ ١٣٠٥ ھ)

پھر فرمایا بیشک اس میں مومنوں کے لئے ضرور نشانی ہے ‘ ہرچند کہ اس میں سب لوگوں کے لئے نشانی ہے لیکن مومن ہی اس کو مانتے ہیں اور وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس لئے فرمایا اس میں مومنوں کے لئے ضرور نشانی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 44