ذکر الٰہی کی برکتیں

اللہ ربُّ العزت جل مجدہ الکریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

یٰآ یُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اذْکُرُوْا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا وَ سَبِّحُوْہٗ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاً ‘‘

اے ایمان والو! یا دکیا کرو اللہ کو کثرت سے اور اس کی پاکی بیان کیا کرو صبح و شام۔ ( کنزالایمان سورئہ احزاب ۲۲)

لفظ ذکر کی وسعت

ذکر کے معنیٰ ہیں ’’ یا د کرنا، یا درکھنا، چرچا کرنا وغیرہ۔ نہایت چھوٹا سا لفظ ہے لیکن کوزے میں سمندر کے مترادف اپنے اندر تمام عبادات و معاملات کو سموئے ہوئے ہے جس کو ہم یوں بیان کرسکتے ہیں کہ ہر وہ عمل جو اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب علیہ التحیۃ و الثناء کی تعمیل میں ان کی رضا و خوشنودی کے لئے کیا جائے ذکر ہے۔ چاہے اس کا تعلق عبادات سے ہو جیسے نماز، روزہ حج و زکوٰۃ وغیرہ یا وہ معاملات سے متعلق ہو جیسے والدین کی خدمت، ان کی اطاعت و فرمانبرداری پڑوسیوں، رشتہ داروں، یتیموں اور محتاجوں سے حسنِ سلوک اور حصولِ معاش کے لئے حلال و حرام کا امتیاز کرتے ہوئے محنت و مشقت کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب ذکر ہیں۔

خدائے وحدہ لا شریک ایک اور مقام پر اپنے محبوب ا کو ذکر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے

’’ وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ کَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِا لْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ( سورئہ آل عمران ۴۱)

اور اپنے رب کو بکثرت یا د کرو اور پاکی بیان کرو صبح و شام۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ جل شانُہ نے اپنے پیارے محبوب نبیٔ آخرا لزماںﷺ کو بار بار بکثرت ذکر کا حکم دیا کہ جو ساری کائنات میں سب سے زیادہ محبوب ہیں ان کی ہر ادا محبوب ہے۔

نبیٔ اکرم ﷺ کا اپنے رب کریم کا ذکر کرنا نہ صرف محبوب و پسندیدہ ہے بلکہ تمام ذکر کرنے والوں کے ذکر کی قبولیت کا وسیلہ و واسطہ ہے۔ گویا اپنے محبوب اکو فرمایا : تم ذکر کرتے رہو تاکہ سب کا ذکر قبول ہوتا رہے اور تاکہ تمھارے ذکر کے طفیل اس کائنات پر ہماری رحمتوں کی بارش جاری رہے۔

نیز ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ‘‘ پیارے ہم نے تمھارا ذکر بلند کردیا ہے۔ اِس نعمت کے بدلے بطورِ شکر تم ہمارا ذکر کرتے رہو۔

چند اور آیا ت ملاحظہ ہوں جس میں ربِّ کریم جل مجدہ نے اپنے محبوب کو ذکر کا حکم دیا ہے۔

ارشاد ِ ربّانی ہے :

وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْا ٓصَآلِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ o ( اعراف، آیت: ۲۰۵)

اور یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتے ہوئے اور ڈرتے ڈرتے۔

اور سورئہ مزّمِّل میں ارشاد فرماتا ہے

’’وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً ‘‘ اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے رہو۔

اور سورئہ دہر میں ارشاد باری ہے:

وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃ ً وَّ اَصِیْلا ً ‘‘ اور رب کا نام صبح و شام یا دکرو

چنانچہ محبوبِ مُکرّم ﷺ نے مولیٰ عزوجل کے حکم کی تعمیل میں اس کا ایساذکر کیا کہ ساری کائنات جھوم اُٹھی۔ زمین کے چپہ چپہ پر ’ ’ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ ‘‘ کی صدائیں گونجنے لگیں وَاللّٰہِ العَظِیْم! ان کی ہر ادا ذکر الٰہی تھی ان کی جلوت میں اللہ کے ذکر کی گونج ہوتی، ان کی خلوت میں اللہ کے ذکر کی رفاقت ہوتی، ان کی زبان ِمبارک ذاکر تھی، ان کا قلبِ منوّر ذکر سے لبریز تھا، ان کا رونگٹا رونگٹا ان کے رب کا ذکر کرتا تھا، وہ کسی لمحہ اپنے رب کے ذکر سے غافل نہ ہوئے حتیٰ کہ سوتے تب بھی قلب سلیم ذکر میں مصروف رہتا اسی کیفیت کو اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا

’’ اِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَ لا یَنَامُ قَلْبِیْ‘‘یعنی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

’’فَا ذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرُکُمْ وَ اشْکُرُوْلِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ‘‘ پس تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یا د کیا کروں گا اور شکر ادا کیا کرو میرا اور میری نا شکری نہ کیا کرو۔ ( سورئہ بقرہ )

ذاکرین کے لئے کتنا بڑا اِعجاز ہے کہ اللہ احکم الحاکمین ان کا ذکر فرماتا ہے۔ بایں صورت کہ جو بندے ہر حال اور ہرلمحہ اپنے رب کریم کو یاد کرتے ہیں وہ اپنے فضل و کرم سے انکے ہر حال کو درست رکھتا ہے اور ہر لمحہ اپنے انعامات سے نوازتا رہتا ہے نیز اس طرح کہ ہم تو صرف زمین پر اس کا ذکر کرتے ہیں اور وہ مالک ِعرش وکرسی اپنی نورانی مخلوق ملائکہ میں ہمارا ذکر فرماتا ہے اور انہیں گواہ بناکر ہماری بخشش ومغفرت کا اعلان فرماتا ہے۔

مشہور صحابئی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث بخاری شریف میں ہے۔ جس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے یقینا آپ اس کو پڑھ کر جھوم اٹھیںگے غور کیجئے اللہ کے فضل وکرم پر ناز کیجئے اور ذاکرین میں سے ہو جائیے۔

میرے پیارے آقاﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے راستوں میں ذکر کرنے والوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں جب وہ ذاکرین کی کسی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکار تے ہیں کہ آئو اپنے مقصد کی طرف (یعنی مل گئے جنہیں ہم تلاش کررہے تھے )پھر وہ فرشتے ذاکرین کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں (محبت والفت کے طور پر)پھر وہ اپنے رب کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں تواللہ ان سے پوچھتاہے حالانکہ اللہ اپنے بندوں کا حال جانتاہے (لیکن فرشتوں سے اپنے ذاکر بندوں کی تعریف سننا پسند فرماتاہے )اے فرشتو ! تم نے میرے بندوں کو کس حال میں پایا ؟

فرشتے عرض کرتے ہیں’’ یُسَبِّحُوْنَکَ، وَیُکَبِّرُوْنَکَ وَیَحْمَدُوْنَکَ وَیُمْجِدُوْنَکَ‘‘رب ! تیرے بندے تیری تسبیح بیان کررہے تھے، تیری بڑائی بیان کررہے تھے، تیری تعریفیں بیان کررہے تھے،تیری بزرگی بیان کررہے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :ھَلْ رَاَوْنِی؟کیا انہوں نے مجھے دیکھاہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں :مَارَأوْکَ۔ نہیں مولا انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کَیْفَ لَوْرَأوْنِیْ؟ اگر وہ مجھے دیکھ لیتے توان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ اور زیادہ تیری عبادت کرتے اور زیادہ بزرگی بیان کرتے اور زیادہ تسبیح بیان کرتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔ فَمَایَسْئَلُوْنَ ؟،وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے ؟فرشتے عرض کرتے ہیں، مولیٰ وہ تجھ سے جنت مانگ رہے تھے اللہ عزوجل فرماتاہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے ؟فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں بقسم رب ! انہوںنے جنت نہیں دیکھی اللہ تبارک تعالیٰ فرماتاہے اگروہ جنت دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟

فرشتے کہتے ہیں اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت حرص کرتے، اس کے بہت طلب گار ہوجاتے اوراس کی طرف ان کی رغبت اور زیادہ ہوجاتی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ کس چیزسے پناہ مانگ رہے تھے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں’’ مِنَ النَّارِ‘‘جہنم کی آگ سے۔ اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے ؟ فرشتے عرض گزار ہوتے ہیں نہیں بقسم اے رب! انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ جل شانہ فرماتاہے اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ فرشتے کہتے ہیں’’ اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس سے مزید بھاگتے اور زیادہ ڈرتے ‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’فَاُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ غَفَرْتُ لَھُمْ‘‘(اے فرشتو! )میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔ فرشتے کہتے ہیں اے اللہ! ان میں ایک شخص تھا جو ذکر نہیں کر رہاتھا بلکہ اپنی کسی ضرورت کے لئے ان کے پاس آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ‘‘ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔ (بخاری شریف)

جنت کی طرف لے جانے والا عمل

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا’’ اَوَّلُ مَنْ یُدْعَیٰ اِلِٰی الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِیْنَ یَحْمَدُوْنَ اللّٰہَ فِیْ البأ سآئِ وَالضَّرَآئِ ‘‘ جنہیں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا وہ ہوںگے جو خوشی وغم میں اللہ عزوجل کی حمد کرتے ہیں۔ (بیہقی؍۳۴۳)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! اکثر انسان خوشی کے موقع پر اللہ عزوجل کو بھول جاتا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ خوشی کے وقت اللہ عزوجل کا ذکر زیادہ کرے اور اپنے معبودِ حقیقی کا شکر بجالائے۔ اسی لئے اولیاء کرام علیہم الرضوان اللہ عزوجل کا ذکر خوشی و غم میں زیادہ کرتے تاکہ اللہ عزوجل راضی ہو جائے، انسان خوشی اور غم میں اللہ عزوجل کا ذکر کرے تو اللہ عزوجل اس بندے سے غم دور اورخوشیوںمیں اضافہ کرتا ہے اس لئے کہ خوشی اور غم دونوں اللہ عزوجل کی طرف سے ہیں جب بندہ یہ مان لیتا ہے اور طے کرلیتاہے کہ اللہ عزوجل جس چیز سے راضی، میں بھی اس چیز سے راضی تو بندہ جب کمزور ہوکر اس کی رضا پر راضی رہتا ہے تو اللہ عزوجل ایسے بندے پرکرم کی نظر فرما کرجنت کا مژدئہ جانفزا سنا دیتا ہے۔

اللہ عزوجل سرکار ﷺ ے صدقہ و طفیل ہم سب کو ہر حال میں ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ