الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر 547

روایت ہے حضرت ابودرداء اور ابوذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رب فرماتا ہے کہ اے انسان تو شروع دن میں میرے لیئے چار رکعتیں پڑھ لے ۱؎ میں آخر دن تک تیرے لیئے کافی ہوں گا۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اور دارمی نے نعیم ابن ہمار غطفانی سے روایت کی اور احمد نے ان سب سے۔

شرح

۱؎ فجر کی یا چاشت کی،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں اسی لیے مؤلف اس کو نوافل کے باب میں لائے یعنی میری رضاکےلیے یہ نماز پڑھ لے۔

۲؎ یعنی شام تک تیری حاجتیں پوری کروں گا،تیری مصیبتیں دفع کروں گا۔خلاصہ یہ کہ تو اول دن میں اپنا دل میرےلیئے فارغ کردے میں آخر دن تک تیرا دل غموں سے فارغ رکھوں گا۔سبحان اﷲ!دل کی فراغت بڑی نعمت ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ جو اﷲ کا ہوجاتا ہے اﷲ اس کا ہوجاتا ہے،یہ حدیث اس کی شرح ہے۔

حدیث نمبر 547

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ انسان میں تین سو ساٹھ جوڑہیں ۲؎ اس پر لازم ہے کہ ہرجوڑ کی طرف سے ایک صدقہ دے لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ طاقت کس میں ہے۳؎ فرمایا مسجد کا تھوک دفن کردو،تکلیف دہ چیز رستے سے ہٹاد و۴؎ اگر یہ نہ پاؤ تو چاشت کی دو رکعتیں تمہیں کافی ہیں ۵؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کا نام بریدہ ابن حصیب اسلمی ہے۔حق یہ ہے کہ عین ہجرت کی حالت میں راستہ میں ایمان لائے،بصرہ میں قیام رہا،خراساں کے جہادوں میں شریک رہے،یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں مقام مرو میں ۷۲ھ ؁میں وفات پائی۔شیخ فرماتے ہیں کہ مرو میں آپ کی قبرکی زیارت ہوتی ہے برکتیں حاصل کی جاتیں ہیں۔

۲؎ ان میں سے آدھے جوڑ حرکت کرتے رہتے ہیں،آدھے ساکن رہتے ہیں اگر حرکت والے ساکن ہوجائیں یا ساکن متحرک ہوجائیں تو جسم کا نظام بگڑ جائے،انسان کی زندگی دشوار ہوجائے۔(مرقاۃ)

۳؎ یعنی روزانہ تین سو ساٹھ صدقے کرنا عوام تو کیا خاص کی طاقت سے باہر ہے لہذا یہ شکریہ قریبًا ناممکن ہے اور رب تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔

۴؎ یعنی صدقے سے مراد مالی خیرات ہی نہیں بلکہ نفلی نیکیاں مراد ہیں کیونکہ ہر نیکی پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حدیث میں علیہ وجوب یا لزوم کےلیئے نہیں،چونکہ مسجد کی صفائی راستہ کی صفائی سے افضل ہے اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا۔ہرمسلمان کو یہ کام کرنے چاہیں کام معمولی ہیں مگر ان پر ثواب بڑا ہے۔

۵؎ یہاں ضحیٰسے مراد چاشت کے نفل ہیں یعنی دو رکعت پڑھ لینے سے تین سو ساٹھ جوڑوں کا شکریہ ادا ہوجاتا ہے۔اس روشن کلام سے معلوم ہورہا ہے کہ مسجد کی صفائی،راستوں سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا ان نوافل سے افضل ہے کیونکہ دونفل پڑھنا آسان ہیں مگر وہ کام نفس پرگراں ہیں اور اگر کوئی یہ نفل بھی پڑھا کرے اور یہ کام بھی کیا کرے تو زہے نصیب۔امام جعفر فرماتے ہیں کہ ا ﷲ تعالٰی نے آنکھ میں کھاری پانی رکھا ہے تاکہ آنکھ کی چربی محفوظ رہے پگھل نہ جائے،کان کے پردے میں کڑوا پن رکھا تاکہ کوئی کیڑا اس راستہ سے دماغ میں نہ جائے،ناک کے نتھنوں میں گرمی رکھی تاکہ ہوا صاف ہو کر دماغ میں پہنچے۔(مرقاۃ)