أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِهٖ‌ ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبًا‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡهُ الصَّيۡحَةُ‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا‌ ۚ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَـظۡلِمَهُمۡ وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ہم نے ہر ایک (سرکش) کی اس کی سرکشی پر گرفت کی تو ہم نے ان میں سے بعض پر پتھر برسائے اور ان میں سے بعض کو ایک ہولناک چنگھاڑ نے پکڑ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو ہم نے ہر ایک (سرکش) کی اس کی سرکشی پر گرفت کی تو ہم نے ان میں سے بعض پر پتھر برسائے اور ان میں سے بعض کو ایک ہولناک چنگھاڑنے پکڑ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والانہ تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور مددگار بنا لیے ‘ ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے جس نے (جالوں کا) گھر بنایا ‘ اور بیشک سب سے کمزور گھر ضرور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ لوگ جانتے (العنکبوت : ٤١۔ ٤٠)

تمام دنیا کے کافروں کو کس کس نوع کے عذاب دیئے گئے 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تفصیلاً بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے پاس اپنے رسول بھیجے اور جب انہوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ان کے پہنچائے ہوئے پیغام کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر طرح طرح کے عذاب نازل کیے ‘ اور یہ آیت اور اس کے بعد والی آیتیں ان آیات سابقہ کا خلاصہ ہیں جو اس سورت میں اور اس سے پہلی سورتوں میں کافروں اور منکروں پر عذاب کرنے کے سلسلے میں بیان فرمائی ہیں۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

انسان کو چار عناصر سے پیدا فرمایا ہے آگ ‘ ہوا ‘ پانی اور مٹی اور انسانوں میں سے کافروں اور منکروں پر جو عذاب نازل کئے گئے ہیں وہ بھی ان ہی چار عناصر کی نوع سے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حاصب کا ذکر فرمایا یہ آگ میں تپائی ہوئی کنکریاں تھیں جو مجرموں کے اجسام میں نفوذ کر جاتی تھیں اور آر پار ہوجاتی تھیں جیسا کہ قوم لوط پر کنکریاں برسائی گئیں اور اس میں آگ کے عذاب کی طرف اشارہ ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے الصیحۃ کا ذکر فرمایا اس کے معنی آواز ہے ان کو ہولناک چنگھاڑ سے عذاب دیا گیا اور چیخ و چنگھاڑ دراصل ایک متموج ہوا ہے کیونکہ آواز ایک ہوا کے ساتھ نکلتی ہے اور فضاء میں جو ہوائوں کا موجیں مارتا ہوا سمندر ہے اس سے ٹکراتی ہوئی کان کے پردوں تک پہنچتی ہے اور اس میں ہوا کے ساتھ عذاب دینے کی طرف اشارہ ہے اور حضرت ھود اور حضرت شعیب (علیہما السلام) کی قوم میں سے کافرو وں کو اسی سے عذاب دیا گیا تھا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے حسف کا ذکر فرمایا یعنی انکو زمین میں دھنسا کر عذاب دیا گیا اور اس میں مٹی کے ساتھ عذاب دینے کی طرف اشارہ ہے ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قارون کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے غرق کرنے کا ذکر فرمایا اس میں پانی کے ساتھ عذاب دینے کی طرف اشارہ ہے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں سے کافروں اور منکروں کو طوفان میں غرق کردیا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کو بحر قلزم میں غرق کردیا تھا۔

سو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عناصر اربعہ سے پیدا فرمایا او ان میں سے عر عنصر اس کے وجود اور اس کی بقا کا سبب تھا پھر ان ہی عناصر اربعہ میں سے ہر ہر عنصر کے ساتھ اس کو فنا کے گھاٹ اتار یا اور جس چیز کو اس کے وجود کا سبب بنایا تھا اسی چیز کو اس کے عدم کا سبب بنادیا تاکہ ظاہ ہوجائے کہ کوئی اپنی ذات میں مئو ثر نہیں ہے ‘ مئو ثر حقیقی صرف اللہ عزوجل ہے وہ چاہے تو آگ ‘ ہوا ‘ مٹی اور پانی سے انسان کو موجود کردے اور جیتا جاگتا انسان کھڑا کردے اور وہ چاہے تو ان ہی چیزوں سے انسان کو فنا کردے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ (العنکبوت : ٤٠ )

یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کر کے ان پر ظلم نہیں کیا ود انہوں نے شرک کر کے اپنی جانوں کو عذاب کا مستحق بنایا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا ولقد کرمنا بنی ادم (الاسراء : ٧٠) ہم نے بنو آدم کو عزت دی ہے ‘ اس نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا اپنے ہاتھوں سے اپنی صورت کے موافق اس کی صورت بنائی اس کو اشرف المخلوقات اور زمین پر اپنانائب اور خلیفہ بنیا ‘ اس کے سر پر عزت اور کرامت کا تاج رکھا ناموس وحی سے اس کو سرفراز فرمایا اور اس انسان نے مٹی کے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ‘ جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر عزت اور کرامت دی تھی اس نے ذلت کے ساتھ بتوں کے آگے اپنا سر جھکا دیا اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مٹی کے بےجان بتوں کو اپنا حاجت روا اور نفع اور ضرر کا مالک مان لیا ‘ سو اللہ تعالیٰ نے تو اس کو عزت دی تھی اس نے خود اپنے آپ کو ذلیل کرلیا اس لئے فرمایا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 40