باب صلوۃ الضحی

چاشت کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ ضُحےٰ ضَحْوٌ سے بنا،بمعنی دن کی بلندی یا آفتاب کی شعاع،رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَالشَّمْسِ وَضُحٰىہَا”۔عرف میں نماز اشراق اور نماز چاشت دونوں کو نماز اشراق کہا جاتاہے۔نماز اشراق کا وقت سورج کے چمکنے کے بیس۲۰ منٹ بعد سے سورج کے چہارم کے چہارم آسمان پر پہنچنے تک اورنماز چاشت کا وقت چہارم دن سے دوپہریعنی نصف النہار تک ہے،کبھی نماز اشراق کو بھی نماز چاشت کہہ دیا جاتا ہے۔حق یہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں سنت مستحبہ ہیں،نماز اشراق مسجد میں ادا کرنا بہتر ہے اور چاشت گھر میں،اشراق کی دو رکعتیں ہیں اور چاشت کی چار۔

حدیث نمبر 543

روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر میں تشریف لائے آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱؎ میں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کوئی نہ دیکھی بجز اس کے کہ آپ رکوع اور سجدہ پورا کرتے تھے ۲؎ اور دوسری روایت میں فرمایا یہ چاشت کا وقت تھا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حدیث نماز چاشت کی بڑی قوی دلیل ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔خیال رہے کہ ام ہانی کا نا م فاختہ یا عاتکہ بنت ابی طالب ہے،علی مرتضٰی کی حقیقی بہن ہیں،آپ مجبورًا مکہ معظمہ سے ہجرت نہ کرسکی تھیں۔

۲؎ یعنی یہ نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری نمازوں سے ہلکی،رکوع سجدے تو ویسے ہی دراز تھے مگر قیام اور قعدہ ہلکا تھا لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے قیام و قعدہ پورا نہ کیا۔

۳؎یعنی یہ نماز شکرانہ وغیرہ کی نہ تھی بلکہ چاشت کی تھی۔