أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ۙ فَقَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَ ارۡجُوا الۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے ہم قبیلہ شعیب کو بھیجا ‘ انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور روز قیامت کی توقع رکھو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے مدین کی طرف ان کے ہم قبیلہ شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور روز قیامت کی توقع رکھو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو پس انہوں نے شعیب کی تکذیب کی تو انہیں ایک زلزلہ نے پکڑ لیا ‘ سو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے (العنکبوت : ٣٧۔ ٣٦)

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آنا۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی پوری تفصیلالاعراف : ٩٣۔ ٨٥ اور ھود ٩٥۔ ٨٤ میں گزر چکی ہے ‘ دیکھئے تبیان القرآن ج ٤ ص ٢٣٠۔ ٢٢٠ اور تبیان القرآن ج ٥ ص ٦١٤۔ ٦٠٤۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا تم صرف ایک اللہ کے احکام کی اطاعت اور اس کی عبادت کرو ‘ اور روز قیامت کی توقع رکھو کیونکہ اس دن نہایت ہولناک امور پیش آئیں گے اس دن کے دہشت ناک حوادث کو دیکھ کر حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے ‘ اس دن ہر شخص اپنے انجام کے متعلق فکر مند اور خوف زدہ ہوگا ‘ سو تم ایسا نیک عمل کرو جو تمہیں اس دن کی ہولناک پریشانیوں سے نجات دے اور اللہ کے عذاب سے بچائے اور تمہیں جنت کے ثواب تک پہنچائے اور تم اپنی موت کے دن کو یادرکھو ‘ اور ناپ اور تول میں کمی کر کے اس دن کی مشکلات میں اضافہ نہ کرو ‘ عثو اور فساد عربی میں دونوں کا معنی زمین میں فتنہ اور بغاوت کرنا ہے اور یہاں تاکیداً دونوں لفظ ذکر کیے ہیں کیونکہ بعض فساد میں اصلاح بھی مضمر ہوتی ہے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) نے مسکینوں کی کشتی کا تختہ توڑ دیا تھا یا ایک لڑکے کی گردن توڑ دی تھی یا جیسے ڈاکٹر اور سرجن کسی عضو کو کاٹ دیتا ہے کیونکہ ایک عضو کو کاٹ دینے میں پورے جسم کی صلاح مضمر ہوتی ہے ‘ لیکن ناپ اور تول میں کمی کرنا یہ ایسا فساد ہے جس میں کسی قسم کی خیر اور اصلاح نہیں ہوتی۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ناپ اور تول میں کمی کرنے اور شرک کرنے سے باز نہیں آئے تو ان پر شدید زلزلہ آیا جس سے ان کے گھر منہمدم ہوئے اور پوا شہر کھنڈر بن گیا۔ اس آیت میں ان کے عذاب کے لئے الرجفۃ کا لفظ ہے جس کا معنی زلزلہ ہے اور سورة ھود میں اس کے لئے الصیحۃ کا لفظ ہے جس کا معنی ہولناک جنگھاڑ ہے اور یہ حضرت جبریل (علیہ السلام) کی چیخ تھی اور ان کی چیخ کے نتیجہ میں زلزلہ پیدا ہوگیا ‘ اور وہ اپنے شہروں میں اور گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے یعنی وہ اپنے گھروں میں مردہ پڑے ہوئے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 36