وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِۚ-فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌؕ-اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(۷۱)

اور اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر رزق میں بڑائی دی (ف۱۵۳) تو جنہیں بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں کو نہ پھیر دیں گے کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں(ف۱۵۴) تو کیا اللہ کی نعمت سے مُکرتے ہیں (ف۱۵۵)

(ف153)

تو کسی کو غنی کیا، کسی کو فقیر ، کسی کو مالدار ، کسی کو نادار ، کسی کو مالک ، کسی کو مملوک ۔

(ف154)

اور باندی غلام آقاؤں کے شریک ہو جائیں ، جب تم اپنے غلاموں کو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کرتے تو اللہ کے بندوں اور اس کے مملوکوں کو اس کا شریک ٹھہرانا کس طرح گوارا کرتے ہو ، سبحان اللہ یہ بُت پرستی کا کیسا نفیس دل نشین اور خاطر گُزین رد ہے ۔

(ف155)

کہ اس کو چھوڑ کر مخلوق کو پوجتے ہیں ۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِؕ-اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ(۷۲)

اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روزی دی (ف۱۵۶) تو کیا جھوٹی بات (ف۱۵۷) پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل (ف۱۵۸) سے منکر ہوتے ہیں

(ف156)

قسم قسم کے غلوں ، پھلوں ، میووں ، کھانے پینے کی چیزوں سے ۔

(ف157)

یعنی شرک و بُت پرستی ۔

(ف158)

اللہ کے فضل و نعمت سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی یا اسلام مراد ہے ۔ ( مدارک)

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ(۷۳)

اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۵۹) جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں

(ف159)

یعنی بُتوں کو ۔

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷۴)

تو اللہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ (ف۱۶۰) بےشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(ف160)

اس کا کسی کو شریک نہ کرو ۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًاؕ-هَلْ یَسْتَوٗنَؕ-اَلْحَمْدُ لِلّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۷۵)

اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی(ف۱۶۱) ایک بندہ ہے دوسرے کی مِلک آپ کچھ مَقْدُور(طاقت) نہیں رکھتا اور ایک وہ جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر (ف۱۶۲)کیا وہ برابر ہوجائیں گے (ف۱۶۳) سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۱۶۴)

(ف161)

یہ کہ ۔

(ف162)

جیسے چاہتا ہے تصرّف کرتا ہے تو وہ عاجز مملوک غلام اور یہ آزاد ، مالک صاحبِ مال جو بفضلِ الٰہی قدرت و اختیار رکھتا ہے ۔

(ف163)

ہر گز نہیں تو جب غلام و آزاد برابر نہیں ہو سکتے باوجود یکہ دونوں اللہ کے بندے ہیں تو اللہ خالِق مالک قادر کے ساتھ بے قدرت و اختیار بُت کیسے شریک ہو سکتے ہیں اور ان کو اس کے مثل قرار دینا کیسا بڑا ظلم و جہل ہے ۔

(ف164)

کہ ایسے براہینِ بیّنہ اور حجّتِ واضحہ کے ہوتے ہوئے شرک کرنا کتنے بڑے وبال و عذاب کا سبب ہے ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُۙ-اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍؕ-هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَۙ-وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِۙ-وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠(۷۶)

اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا (ف۱۶۵) اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھربھیجےکچھ بھلائی نہ لائے(ف۱۶۶)کیا برابر ہوجائے گا یہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے (ف۱۶۷)

(ف165)

نہ اپنی کسی سے کہہ سکے نہ دوسرے کی سمجھ سکے ۔

(ف166)

اور کسی کام نہ آئے ۔ یہ مثال کافِر کی ہے ۔

(ف167)

یہ مثال مومن کی ہے ۔ معنی یہ ہیں کہ کافِر ناکارہ گونگے غلام کی طرح ہے وہ کسی طرح مسلمان کی مثل نہیں ہو سکتا جو عدل کا حکم کرتا ہے اور صراطِ مستقیم پر قائم ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ گونگے ناکارہ غلام سے بُتوں کو تمثیل دی گئی اور انصاف کا حکم دینا شانِ الٰہی کا بیان ہوا ، اس صورت میں معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ بُتوں کو شریک کرنا باطل ہے کیونکہ انصاف قائم کرنے والے بادشاہ کے ساتھ گونگے اور ناکارہ غلام کو کیا نسبت ۔