أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ ‌ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم ! ) آپ اس کتاب کی تلاوت کرتے رہیے جس کی آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم رکھیے ‘ بیشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے ‘ اور اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے رسول مکرم ! ) آپ اس کتاب کی تلاوت کرتے رہیے جس کی آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم رکھیئے ‘ بیشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو (العنکبوت : ٤٥ )

انبیاء سابقین کے احوال سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی دینا 

اس آیت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ اگر آپ کو اس بات سے رنج اور افسوس ہوتا ہے کہ آپ کے پہیم تبلیغ کرنے کے باوجود اہل مکہ ایمان نہیں لاتے تو آپ اس کتاب کی تلاوت کیجئے اس میں حضرت نوح ‘ حضرت ھود ‘ حضرت صالح اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) وغیر ہم کے قصص نازل کئے گئے ہیں ‘ انہوں نے اللہ کا پیغام آپ سے بہت زیادہ عرصہ تک لوگوں کے پاس پہنچایا ‘ معجزات پیش کیے اور دلائل بیان کیے اس کے باوجود ان کی قوم سے بہت کم لوگ ایمان لائے اور وہ اپنی گمراہی ‘ جہالت اور کفر وشرک سے باز نہیں آئے ‘ اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہونے کے بعد جب آپ ان آیات کی تلاوت کریں گے تو آپ کا غم دور ہوگا اور آپ کو تسلی ہوگی کہ آپ کے ساتھ کوئی نیا معاملہ پیش نہیں آیا بلکہ تاریخ حسب سابق اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

اس اشکال کا جواب کہ نماز برے کاموں سے روکتی ہے……

پھر بعض نمازی برے کام کیوں کرتے ہیں ؟

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہم بہت سے لوگوں کو دیھکتے ہیں کہ وہ پابندی سے نماز بھی پڑھتے ہیں اور بےحیائی اور برائی کے کام بھی کرتے ہیں اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) نماز جو ان کو بےحیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ نماز میں انواع و اقسام کی عباد ات ہیں نماز میں اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں قیام ہے ‘ تکبیر ہے ‘ تسبیح ہے ‘ تلاوت قرآن ہے ‘ رکوع اور سجود ہے صلوۃ النبی ہے اور دعا ہے اور یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی اور خضوع اور خشوع پر دلالت کرتے ہیں ‘ گویا کہ نماز زبان حال سے نمازی سے کہتی ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس قدر تعظیم بجا لاتا ہے اس قدر ادب کے ساتھ اس کی بار گاہ میں کھڑا ہوتا ہے اپنے قول اور فعل سے اس کی عبادت کا اظہار کرتا ہے اور پھر تو اس کی نافرمانی کرتا ہے اور بےحیائی اور برائی کے کام کرتا ہے سو نماز کے اندر اور نماز کے باہر تیرا حال متضاد اور متناقض ہے اور یہ منافق کی روش ہے کہ اس کے باطن اور ظاہر میں تخالف ہوتا ہے سو تو خارج از نماز کے حال کو نماز کے موافق کرلے۔ 

(٢) جب انسان خضوع اور خشوع کے ساتھ اس طرح نماز پڑھے گا کہ اس کا رب اس کو دیکھ رہا ہے اور ہر روز پانچ مرتبہ اس طرح نماز پڑھے گا کہ اس کا رب اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کو ہر وقت خیال رہے گا کہ وہ اپنے رب کے سامنے ہے اور اس کا رب اس کو دیکھ رہا ہے اور عین حالت معصیت میں بھی اس کو یہ خیال آئے گا کہ اس کا رب اس کو دیکھ رہا ہے تو پھر وہ اس معصیت سے باز آجائے گا ‘ معصیت کے ارتکاب کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے رب سے غافل ہوتا ہے اور جب اس کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کا خیال ہوگا تو پھر وہ معصیت پر جرات نہیں کرے گا۔

(٣) جب انسان پابندی سے نماز پڑھتا رہے گا تو اس پر نماز کی برکات اور اس کے ثمرات مرتب ہوں گے اور وہ گناہوں سے باز آجائے گا ‘ امام بغوی اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر (رض) سے وایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ایک آدمی ساری رات پر آن پڑھتا ہے اور صبح اٹھ کر چوری کرتا ہے آپ نے فرمایا عنقریب اس کی قرأت اس کی چوری سے روک دے گی۔ معالم التنزیل ج ٣ ص ک ٥٥٩۔ ٥٥٨‘ مسند النبر اررقم الحدیث : ٧٢٢۔ ٧٢١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٧‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٥٦٠)

(۴)جس طرح کوئی شخص خاکروب ہو یا مٹی کھود نے والا ہو اور ہر وقت مٹی اور گندگی میں ملوث رہتا ہو لیکن جب وہ صاف ستھرے اور نئے کپڑے پہن لے تو وہ اس لبسا میں مٹی اور گندگی سے مجتنب رہتا ہے اور اس کا وہ صاف ستھرا لباس اس کو مٹی اور گندگی میں توث سے مانع ہوتا ہے اسی طرح جو شخص معصیت میں مبتلا رہتا ہے وہ بھی حالت نماز میں معصیت سے مجتنب رہتا ہے او اس کو نماز معصیت میں تلوث سے منع کرتی ہے ‘ اسی وجہ سے حضرت ابن عباس ‘ ابن جریج اور حماد بن ابی سلیمان وغیر ہم نے کہا ہے کہ جب تک نمازی نمازی میں مشغول رہتا ہے ‘ نماز اس کو بےحیائی اور برے کاموں سیروکتی رہتی ہے۔ (الحبر المحیط ج ٨ ص ٣٥٩ )

(٥) جس شخص نے نماز پڑھی اور اس نے بےحیائی اور برائی کے کام بھی کیے اس نے صرف صورۃ اور ظاہراً نماز پڑھی ہے حقیقۃً نماز نہیں پڑھی۔

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس بن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا جس شخص کو اس کی نماز نے بےحیائی او برائی کے کاموں سی نہیں روکا اس کی نماز نہیں ہوئی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٤٠ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اس کی نماز نے بےحیائی اور برائی کے کاموں سے نہیں روکا ‘ اس نماز سے اس کو صرف اللہ سے دوری حاصل ہوگی۔ (تفسیر امامابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٤٠ )

ابو العالیہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ نماز کے تین اوصاف ہیں اور جس نماز میں ان تین اوصاف میں سے کوئی وصف بھی نہ ہو وہ نماز نہیں ہے (١) اخلاص (٢) خشوع (٣) اللہ کا ذکر ‘ پس اخلاص اس کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور خشوع اور خشیت اس کو بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر یعنی قرآن پڑھنا اس کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے ( تفسیر ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٤٤ )

(٦) حضرت ابن عباس نے فرمایا الفحشاء ( بےحیائی) سے مراد زنا کرنا ہے اور المنکر سے مراد شر کیہ کام کرنا ہے سو جو شخص یہ کام کرے گا اس کی نماز نہیں ہوگی۔ (تفسیر ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٤٧ )

(٧) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واقم الصلوۃ لذکری (طـہ : ١٤) اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھو ‘ اور جو شخص اللہ کو یاد رکھنے والا ہوگا وہ اللہ کا ناپسندیدہ کام نہیں کرے گا ‘ اور ہر وہ شخص جو بےحیائی اور برائی کے کام کرتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے تو اگر وہ بےنمازی ہوتا تو اسے برے اور بےحیائی کے کام بہت زیادہ کرتا اس سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھنے کی وجہ سے اس کے برے کاموں میں کمی آجاتی ہے۔

(٨) اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے یہ نہیں فرمایا کہ ہر شخص کو روکتی ہے ‘ سو اگر بعض لوگ نماز پڑھنے کی وجہ سے برائی اور بےحیائی کے کاموں سے رک گئے تو اس آیت کے صدق کے لئے کافی ہے۔

(٩) نماز دو کیفیتوں کے ساتھپڑھی جاتی ہے ایک کیفیت یہ ہے کہ نماز کو اس کے تمام فرائض ‘ واجبات ‘ سنن ‘ آداب اور خضوع اور خشوع کے ساتھ پڑھا جائے اور جب وہ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کرے یا تلاوت سنے تو اس کے معنی میں تدبر کرے ‘ تشہد میں محبت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرے اور محبت سے درود شریف پڑھے ‘ اخلاص ‘ حضور قلب اور تضرع کے ساتھ اپنے لئے دعا کرے تو جو شخص ایسی نماز پڑھتا ہے اس کی نماز مقبول ہوتی ہے اور یہی نماز اس کو بےحیائی اور برے کامو سے روکتی ہے ‘ اور دوسری کیفیت یہ ہے کہ انسان غفلت اور بےتو جہی سے نماز پڑھتا ہے ‘ اس کی نماز قرآن میں تدبر کرنے اور خضوع اور خشوع سے خالی ہوتی ہے وہ اعتدال کے ساتھ رکوع اور سجود نہیں کرتا ‘ اس کی نماز قرآن میں تدبر کرنے و اور خضوع اور خشوع سے خالی ہوتی ہے وہ اعتدال کے ساتھ اور سجود نہیں کرتا ‘ اس کے سلام اور صلاۃ میں اخلاص ہوتا ہے نہ دعا میں استحضار ہوتا ہے اور ایسی نماز کا برائیوں سے روکنا بہت کمزور ہوتا ہے اور نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ‘ یہ نماز رد کردی جاتی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو پھٹا پرانا اور گندہ کژا تحفہ میں دے تو وہ اس کپڑے کو دینے والے کے منہ پر مار دیتا ہے ‘ اور نماز زبان حال سے کہتی ہے جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا ہے اللہ بھی تجھے اسی طرح ضائع کردے ‘ اور بعض امامیہ نے حضرت ابو عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص یہ جاننا چاہتا ہو کہ اس کی نماز مقبول ہوئی ہے یا نہیں وہ یہ دیکھے کہ آیا اس کی نماز اس کو بےحیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے یا نہیں ‘ وہ جس قدر برائی سے دور ہوگا اسی قدر اس کی نماز مقبول ہوگی۔

(١٠) اس اشکال کا اصل جواب یہ ہے کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نماز بےحیائی اور برے کاموں سے نمازی کو روکتی ہے اور منع کرتی ہے یہ نہیں فرمایا کہ نماز کے روکنے اور منع کرنے سے نمازی ان کاموں سے رک جاتا ہے ‘ یہاں تو بندہ کو نماز کے برائیوں س روکنے اور منع کرنے کا ذکر ہے خود اللہ عزوجل بھی تو بندہ کو بےحیائی اور برائی سے منع کرتا ہے تو جب اللہ کے منع کرنے سے تمام بندے برائیوں سے نہیں رکتے تو نماز کے منع کرنے سے اگر تمام بندے برائیوں سے نہ رکیں تو تو کیا اعتراض کی بات ہے اور کیا اشکال ہے ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بیشک اللہ عدل کرنے اور نیکی کرنے اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور برائی اور زیادتی کرنے سے منع کرتا ہے وہ تم کو خود نصیحت فرما رہا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ (النحل : ٩٠)

اس آیت میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی اور برائی کے کاموں سے روکتا ہے تو اگر بعض بندے بےحیائی اور برے کاموں نہیں رکتے تو یہ اللہ تعالیٰ کے بےحیائی اور برائی سے روکنے کے خلاف نہیں ہے ‘ اسی طرح نماز بےحیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے تو اگر بعض نمازی بےحیائی اور برائی کے کاموں سے نہیں رکتے تو یہ نماز کے بےحیائی سے روکنے کے خلا نہیں ہے۔

ذکر اللہ کی فضیلت میں احادیث 

حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اللہ جو تمہارا ذکر کرتا ہے وہ اس سے زیادہ بڑا ہے جو تم اس کا ذکر کرتے ہو۔ امام ابن جریج نے ابو مالک سے روایت کیا ہے کہ اللہ کا نماز میں بندے کا ذکر کرنا بندے کی نماز سے زیادہ بڑا ہے ‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ بندہ نماز میں جو اللہ کا ذکر کرتا ہے وہ اس کی نماز کے تمام ارکان سے زیادہ بڑا ہے ‘ اور ایک معنی یہ ہے کہ بندہ اللہ کا جو ذکر کرتا ہے وہ اس کے تمام نیک اعمال سے زیادہ بڑا ہے اور اس کا ایک معنی ہے اللہ کا ذکر ہر ذکر سے بڑا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٤١٩)

حضرت ابو الدردا (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو یہ خبر نہ دوں کہ تمہارے رب کے نزدیک تمہارا کون ساعمل سب سے اچھا ‘ سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجہ والا ہے اور جو تمہارے سونے اور چاندی کے صدقہ کنے سے زیادہ اچھا ہے اور اس سے بھی اچھا ہے کہ تمہارا تمہارے دشمنوں سے مقابلہ ہو تو تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں ‘ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ! وہ کون سا عمل ہے آپ نے فرمایا اللہ کا ذکر کرنا۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٩٠‘ المستدرک ج ١ ص ٤٩٦‘ مسند احمد ٥ ص ١٩٥‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥١٩‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ١٢٣٧‘ معالم اتنزیل ج ٣ ص ٥٥٩)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سے بندہ کا درجہ سب سے بلند ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کا بہ کثرت ذکر کرنے والے ہیں ‘ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ! ان کا درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ بلند ہوگا ! آپ نے فرمایا اگر وہ اپنی تلوار سے کفار اور مشرکین کو قتل کرے حتیٰ کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہوجائے پھر بھی اللہ کا بہ کثرت ذکر کرنے والے کا درجہ اس سے افضل ہوگا۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٧٦‘ مسند احمد ج ٣ ص ٧٥‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٤٠١‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ١٢٣٩‘ معالم التنزیل ج ٣ ص ٥٦٠)

حضرت عبداللہ بن یسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اسلام کے احکام بہت زیادہ ہیں آپ مجھے بتائیے کہ میں کس عمل کو زیادہ کروں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٩٣‘ مسند احمد ج ٤ ص ١٩٠‘ المستدرک ج ١ ص ٤٩٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٠ ١ ص ٣٠١ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨١٤‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥١٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے ایک راستہ میں جارہے تھے ‘ آپ کا ایک پہاڑ سے گزر ہوا جس کو جمدان کہتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا چلتے رہو یہ جمدان ہے ‘ مفردون سبقت لے گئے ‘ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! مفردون کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا بہ کثرت ذکر کرنے والی عورتیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٧٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٣‘ المستدرک ج ١ ص ٤٩٥‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٠٥) حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید (رض) دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گواہی دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا جو قوم بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر اطمینان اور سکون نازل ہوتا ہے اور اللہ ان کا ذکر ان میں فرماتا ہے جو اس کے پاس ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٠٠‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٧‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨٩٥٥ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 45