سو حج کا ثواب

روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے داداسے راوی ہیں۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو صبح کو سوبار’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ پڑھے اور شام کو سوبار تو اس کی طرح ہوگا جو سو حج کرے اور جو صبح کو سوبار’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ‘‘پڑھے اور سو بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اللہ عزوجل کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے اور جو صبح کوسوبار’’ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ‘‘ پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے سوغلام آزادکرے اور جوسو بار صبح کو’’ اَللّٰہُ اکْبَرْ‘‘ پڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا سوائے اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ۔ ( مشکوٰۃ ج۲؍ص۳۴۶)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!سوبارصبح اور سوبار شام ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ پڑھنے پر جو سو حج کا مژدئہ جانفزا سنایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بندئہ مومن صبح ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘اور شام میں سو بار’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ پڑھے تو اسے سونفلی حج کا ثواب ملیگا۔ خیال رہے کہ حج کا ثواب ملنا اور ہے حج کی ادائیگی اور ہے۔ یہاں ثواب کا ذکر ہے نہ کہ ادائے حج کا اسلئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ سوبار’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ صبح اور شام کو پڑھے تو سو حج ہوجائیںگے۔ لہٰذا ہزاروں روپے خرچ کرنے اور تکلیف اٹھاکر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ نہیں ایسا نہیں بلکہ حج تو ادا کرنے سے ہی ہوگا۔ جس طرح طبیب کہتا ہے کہ ایک گرم کئے ہوئے منقہ میں ایک روٹی کی طاقت ہے مگر پیٹ روٹی ہی سے بھرتا ہے، کوئی شخص دو وقت میں تین تین مُنقّے کھاکر زندگی نہیں گزار سکتا۔ یقینا مذکورہ تسبیحات میںثواب بے پناہ ہے۔ اس قسم کے ثواب کا ذکر قرآن مقدس میں بھی کیا گیا ہے۔ ’’مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِی کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ‘‘یعنی جو لوگ راہ خدا میں اپنے مال خرچ کرتے ان کے خرچ کی مثال اس دانہ کی طرح ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوںہر بالی سے سو دانے اور اللہ جسے چاہے اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے۔

میرے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کس چیز کی کمی ہے ؟ وہ کریم ہے رحیم ہے وہ جواد ہے وہ غفار ہے اس لئے اس کے کرم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور یقین رکھنا چاہئے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! صبح شام سوبار الحمدللہ پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ جہادکیلئے سو گھوڑے خیرات کرنے کے برابر ثواب عطا فرمائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ جہاد وغیرہ کا مقصد اِعلائے کلمۃالحق اور اللہ کے ذکر کی اشاعت ہے مومن ملک گیری کے لئے نہیں لڑتا بلکہ ذکر کی رکاوٹیں دور کرنے کے لئے لڑتاہے اورحمد الٰہی یقینا سو جہادوں سے افضل ہے۔ اور یہ فرمایا گیا کہ صبح وشام سوسو بار لاالہ الااللہ پڑھے تو اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے سو غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے۔ اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے مراد اہل عرب ہیں کہ وہ سب انکی اولاد ہیںچونکہ عرب حضور رحمت عالم نورمجسم اسے قرب رکھتے ہیں اسلئے ان پر احسان کرنا افضل ہے۔

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! تھوڑی سی قربانی سے اگر اتنا عظیم اجر ملتا ہو تو سستی نہیں کرنا چاہئے اللہ عزوجل ہم سب کو اپنے اوقات ذکر الٰہی میں گزار نے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔