أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ‌ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ ؕ وَاِنَّمَاۤ اَنَا۟ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے کہا ان پر ان کے رب کی طرف سے (مطلوبہ) معجزات کیوں نہیں نازل کئے گئے ! آپ کہیے معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں میں تو صرف برسر عام عذاب سے ڈرانے والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافروں نے کہا ان پر ان کے رب کی طرف سے (مطلوبہ) معجزات کیوں نہیں نازل کیے گئے ! آپ کہیے معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں میں تو صرف برسر عام عذاب سے ڈرانے والا ہوں کیا ان کے لئے یہ (معجزہ) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر الکتاب نازل کی ہے ‘ جس کی ان پر تلاوت کی جاتی ہے ! بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے ضرور رحمت اور نصیحت ہے (العنکبوت : ٥١۔ ٠ ٥)

معجزہ کا حصول نبی کے اختیار میں نہیں اور معجزہ کا دکھانا نبی کے اختیار میں ہے۔

مشرکین نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو ایسے معجزات کیوں نہیں دیئے گئے جیسے معجزات انبیاء سابقین کو دیئے گئے تھے ‘ مثلا حضرت صالح (علیہ السلام) کے لئے پہاڑ سے اونٹنی نکالی گئی ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضاء دیا گیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مردے زندہ کئے گئے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہیے معجزات تو اللہ کے پاس ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے نبیوں اور رسولوں کو معجزات عطا فرماتا ہے۔ معجزہ کو وجود میں لانا نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو معجزہ عطا فرمادے تو پھر وہ اس کو اختیار نہیں ہوتا ‘ معجزہ نبی کے ہاتھ میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح کاتب کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے ‘ قلم کے اختیار میں کچھ نہیں ہوتا ‘ اختیار کاتب کے ہاتھ میں ہوتا ہے ‘ ہم کہتے ہیں کہ معجزہ کو وجود میں لانا نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا اور جب اللہ تعالیٰ نبی کو معجزہ عطا فرما دیتا ہے تو پھر نبی کو اختیار دیتا ہے کہ وہ حسب ضرورت اس معجزہ کو پیش کر دے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے :۔

فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر موسیٰ نے اسی وقت اپنا عصا ڈال دیا تو وہ برسر عام اژ دھا بن گیا (الشعراء : ٣٢۔ ٣١)

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کے فرمائشی معجزات عطا نہیں فرمائے کیونکہ ان کی فرمائش اور طلب کا سلسلہ تو کہیں ختم نہیں ہوتا ‘ اور اگر وہ اپنے مطلوبہ معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لاتے تو پھر ان پر ایک ایسا عذاب آتا جس سے منکرین کی قوم ہلاک ہوجاتی اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں نہیں تھا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوئے ان کی قوم پر عذاب بھیجنا نہیں چاہتا تھا۔

تورات وغیرہ پڑھنے پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ناراض ہونا 

اس کے بعد فرمایا : کیا ان کے لئے یہ (معجزہ) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر الکتاب نازل کی ہے جس کی ان پر تلاوت کی جاتی ہے۔

اس آیت میں مشرکین کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ ان کے اوپر ان کے رب کی طرف سے (مطلوبہ) معجزات کیوں نہیں نازل کئے گئے ‘ جواب کی تقریر یہ ہے کہ کیا ان مشرکین کے لئے قرآن مجید کا معجزہ کا فی نہیں ہے ! جس کے ساتھ ان کو چیلنج کیا گیا کہ تم اس کی نظیر لے آئو اور وہ اس کی نظیر نہیں لاسکے ‘ پھر ان سے کہا گیا کہ تم اس کی کسی ایک سورت کی نظیر لے آئو تو یہ بھی نہیں لاسکے ‘ اور اب چودہ سو سال سے زائد گزر چکے ہیں اسلام کے منکرین اور مخالفین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور علوم اور فنون بھی بہت ترقی کرچکے ہیں پھر بھی کوئی منکر اور مخالف قرآن مجید کی نظیر آج تک نہیں پیش کرسکا۔

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہڈی پر لکھی ہوئی ایک کتاب لائے اور فرمایا کسی قوم کی حماقت اور اس کی گمراہی کے لئے یہ کافی ہے کہ ان کا نبی ان کے پاس ایک کتاب لے کر آئے اور وہ اس سے اعراض کر کے کسی اور کتاب کا مطالعہ کریں پھر یہ آیت نازل ہوئی : کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ کے اوپر الکتاب نازل کی ہے۔ الآیۃ۔ ( اگر کوئی شخص تورات وغیرہ سے احکام حاصل کرنے کے لئے ان کو پڑھے تو یہ ممنوع ہے اور اگر دین اسلام کی حقانیت اور آپ کی نبوت کے اثبات کے لئے ان کتابوں کا مطالعہ کرے تو پھر جائز ہے بلکہ مستحسن ہے) ۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٧٩‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ١٤٨٤‘ الکشف و البیان للثعلبی ج ٧ ص ٢٨٦)

زہری بیان کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ ایک ہڈی پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ لکھا ہوا لائیں اور اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھنا شروع کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ کا رنگ متغیرہونے لگا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر میرے ہوتے ہوئے تمہارے سامنے حضرت یوسف خود بھی آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرو تو تم گمراہ ہو جائو گے۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مطلقاً ان کتابوں کا پڑھنا ممنوع نہیں ہے بلکہ اسلام سے اعراض کر کے ان کا پڑھنا ممنوع ہے) (مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ١١٠ قدیم ‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٢٣٠ جدید ‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٢٠٥)

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ! تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیسے سوال کرسکتے ہو جب کہ تمہارے پاس کتاب اللہ موجود ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تازہ خبریں ہیں ‘ اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے متعلق یہ خبر دی ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے وہ اس میں تبدیلی کرتے ہیں اور آیات کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور وہ اس کے معاوضہ میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں کیا تم کو اللہ کے دین کے متعلق ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کیا ‘ اللہ کی قسم ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھ جو تم سے تمہارے دین کے متعلق سوال کرتا ہو۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ١١٠۔ ١٠٩ قدیم ‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٢٢٨ جدید ‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٢٠٤)

ابو قلا بہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ ایک کتاب پڑھ رہا تھا ‘ حضرت عمر نے اس کو غور سے سنا وہ ان کو اچھی لگی انہوں نے اس سے کہا کیا تم مجھ کو بھی یہ کتاب لکھ دو گے ؟ اس نے کہا ہاں ! پھر حضرت عمر نے ایک چمڑے کا پترا خرید اور اس کی دونوں طرف اس کو لکھوایا۔ پھر روہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گئے اور آپ کو سنانا شروع کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہو رہا تھا پھر ایک انصاری نے اس مکتوب پر ہاتھ مار کر کہا اے ابن الخطاب ! تم پر تمہاری ماں روئے کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ بدل رہا ہے اور تم حضور کو یہ پڑھ کر سنا رہے ہو ! تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہارے پاس صرف شریعت کا افتتاح کرنے والا اور شریعت کو ختم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھے جوامع الکلم اور فواتح الکلم عطا کئے گئے ہیں ‘ سو تم کو مشرکین ہلاک نہ کر ڈالیں۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ١١٠ قدیم ‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٢٣١‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٢٠٢)

امام بیہقی نے روایت کیا ہے کہ ایک اور موقع پر حضرت عمر ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مختلف جگہوں سے تورات کو پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ سخت متغیر ہو رہا تھا ‘ حضرت عبداللہ بن حارث نے حضرت عمر سے کہا کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی کیا کیفیت ہے ! حضرت عمر نے کہا میں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر راضی ہوں ! تب آپ کے چہرے سے غصہ کی کیفیت دور ہوئی اور آپ نے فرمایا اگر اب موسیٰ نازل ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرتے تو گم راہ ہوجاتے نبیوں سے میں تمہارا حصہ ہوں اور امتوں میں سے تم میرا حصہ ہو۔ ( شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٢٠١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 50