أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُجَادِلُوۡٓا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ ۖ اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ‌ وَقُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِالَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَاُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَاِلٰهُـنَا وَاِلٰهُكُمۡ وَاحِدٌ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو ! ) اہل کتاب سے صرف عمدہ طریقہ سے بحث کرو ‘ ماسوا ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں ‘ اور تم کہو ہم اس پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے اطاعت شعار ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ( اے مسلمانو ! ) اہل کتاب سے صرف عمدہ طریقہ سے بحث کرو ‘ ماسوا ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں ‘ اور تم کہو ہم اس پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے اطاعت شعار ہیں اور (اے رسول مکرم ! ) ہم نے اسی طرح آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے ‘ پس ہم نے جن کو کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور بعض ان (مشرکین) میں سے بھی ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں کا صرف کفار ہی انکار کرتے ہیں (العنکبوت : ٤٧۔ ٤٦ )

اہل کتاب کے ساتھ بحث میں نرمی اور سختی کرنے کے محمل 

اس آیت میں مفسرین کا اختلاف ہے ‘ مجاہد کے نزدیک یہ آیت محکمہ ہے یعنی غیر منسوخ ہے اور قتادہ کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے ‘ مجاہد نے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اہل کتاب کو نرمی کے ساتھ دین اسلام کی دعوت دی جائے اور ان کے ساتھ سختی نہ برتی جائے اور ان کے اسلام لانے کی امید رکھی جائے ‘ اور یہ جو فرمایا ہے ماسوا ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں ‘ یعنی اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تم پر ظلم کیا ہے ‘ ورنہ تمام اہل کتاب ظالم ہیں ‘ اور ان ظالموں سے تم بحث میں سخت لب و لہجہ اختیار کرسکتے ہو۔

اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام (رض) اور اس کے رفقاء اگر وہ تمہارے سامنے سابقہ امتوں کی خبریں اور ان کے احوال بیان کریں تو ان سے بحث نہ کرو اور ان کی موافقت کرو ‘ ماسوا ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں ‘ اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو اپنے کفر پر قائم رہے اور انہوں نے عہد شکنی کی جیسے بنی قریظہ اور بنی النفیر ‘ اس صورت میں بھی یہ آیت محکمہ ہے۔

اور قتادہ نے کہا یہ آیت منسوخ ہے اس کی ناسخ یہ آیت ہے ۔

ان اہل کتاب سے قتال کرو جو نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ روز آخرت پر اور نہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام کیے ہوئے کو حرام قرار دیتے ہیں اور نہ وہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ( ان سے قتال کرتے رہو) حتی کہ وہ ذلت کے ساتھ ہاتھ سے جزیہ دیں (التوبہ : ٢٩)

اور یہ جو فرمایا ہے ماسوا ان کے جو ان میں ظالم ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے لئے اولاد کے قائل ہیں جیسے یہود نے کہا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں اور یہودیوں نے کہا یداللہ مغلولۃ (المائدۃ : ٦٤) اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور کہا ان اللہ فقیر و نحن اغنیآء ( آل عمران : ١٨١) بیشک اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ سو یہ لوگ مشرک ہیں انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی اور جزیہ ادا نہیں کیا۔

النحاس وغیرہ نے ہا جن مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس وقت مکہ میں قتال اور جہاد فرض نہیں ہوا تھا اور نہ جزیہ کا مطالبہ کیا گیا تھا ‘ اور ان دونوں قولوں میں مجاہد کا قول بہتر ہے کیونکہ بغیر کسی قطعی دلیل کے کسی آیت کو منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ علامہ آلوسی نے کہا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہو اور اس کا معنی یہ ہو کہ اہل کتاب کے ساتھ نرمی سے بحث کرو ماسوا ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں اس سے مراد وہ ہیں جنہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی سو ان کے خلاف تلوار سے جہاد کرو حتیٰ کی وہ ایمان لے آئیں یا جزیہ دیں ‘ یعنی ہرچند کہ یہ سورت مکی ہے لیکن اس کی یہ آیت مدنی ہے اور اس سورت کو اس کی اکثر آیات کے اعتبار سے مکی کہا گیا ہے۔ (محصلہ روح المعانی جز ٢١ ص ٤۔ ٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

جب دلائل متعارض ہوں تو توقف کیا جائے یا کسی ایک صورت کو ترجیح دی جائے۔

اس کے بعد فرمایا اور تم کہو ہم اس پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نزل کیا گیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب عبرانی زبان میں تورات پڑھتے پھر مسلمانوں کے لئے عربی زبان میں اس کی تفسیر کرتے تھے تو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو اور یوں کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور یوں کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٤٢۔ ٤٤٨٥‘ دارارقم بیروت)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کا مطلب ہے کہ تم اہل کتاب کی تصدیق نہ کرو ہوسکتا ہے کہ واقع میں ان کی بات غلط ہو اور ان کی تکذیب بھی نہ کرو ہوسکتا ہے کہ ان کی بات واقع میں صحیح ہو ‘ اس ارشاد کا تعلق ان احکام کے ساتھ نہیں ہے جو ہماری شریعت کے موافق ہیں۔

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ جن مسائل میں دلائل کے متعارض ہونے کی وجہ سے توقف کیا جاتا ہے یہ حدیث ان میں توقف کرنے کی اصل اور دلیل ہے ‘ جیسے حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا گیا کہ جود و بہنیں باندیاں ہوں ان کو جمع کرنا جائز ہے یا نہیں ‘ حضرت عثمان نے فرمایا ان کو ایک آیت نے حلال کردیا اور وہ یہ ہے :

اور شوہر والی عورتیں تم پر حرام کی گئی ہیں ‘ ماسوا باندیوں کے جو تمہاری ملکیت میں آجائیں (النساء : ٢٤)

اور ایک آیت نے ان کو حرام کردیا ہے اور وہ یہ آیت ہے : اور تم پر دو بہنوں کو جمع کرنا حرام کردیا گیا ہے۔ (النساء : ٢٣ )

اس طرح حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ ہر پیر کے دن روزہ رکھے گا پھر اتفاق سے ایک پیر کو عید کا دن تھا تو اب وہ اس دن روزہ رکھے یا نہیں ؟ حضرت ابن عمر نے کہا اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔ ولیو فوا نذو رھم (الحج : ٢٩) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کے روز روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اور یہ ان علماء کا طریقہ ہے جو احتیاط کرتے ہیں ‘ اگرچہ دوسرے علماء اجتہاد کرتے ہیں اور اصول اور قواعد کا اعتبار کر کے کسی ایک صورت کو دوسری صورت پر تر جیح دیتے ہیں اور ان میں سے ہر فریق خیر پر ہے اور اس کا طریقہ مشکور ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٨ ص ١٢٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

اصول یہ ہے کہ جب حلت اور حرمت کے دلائل مساوی ہوں تو حرمت کو ترجیح دی جاتی ہے ‘ لہٰذا پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب دو بہنیں باندیاں ہوں تو انکو وطی میں جمع نہ کیا جائے ‘ اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ نذر پوری کرنے کا حکم قرآن مجید سے ثابت ہے اور قطعی ہے اور عید کے دن روزے کی ممانعت خبر واحد سے ہے جو ظنی ہے لہٰذا یہ مساوی دلائل نہیں ہیں پس اس صورت میں عید کے دن بھی روز رکھ کر نذر پوری کی جائے گی۔

اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے ہی اہل کتاب کے لقب کے مستحق ہیں۔

اور فرمایا ( اے رسول مکرم ! ) ہم نے اسی طرح آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے ‘ پس ہم نے جن کو کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور بعض ان (مشرکین) میں سے بھی ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کا صرف کفار ہی انکار کرتے ہیں (العنکبوت : ٤٧ )

اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ان اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے اس قرآن مجید پر ایمان لے آئے تھے کیونکہ انہوں نے اپنی کتابوں میں اس دین کے متعلق پیش گوئی پڑھی تھی اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آپ کے زمانہ میں تھے اور انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان ہی لوگوں کی تخصیص کی ہے کہ ان کو کتاب دی گئی ہے حالانکہ جو یہودی اور عیسائی ایمان نہیں لائے وہ بھی اہل کتاب ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ کی بعثت سے پہلے یا آپ کے زمانہ میں آپ کی تصدیق کی اور قرآن مجید پر ایمان لائے وہی درحقیقت اہل کتاب ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی کتابوں کی پیش گوئی کی تصدیق کی اور اس کے تقاضے پر عمل کیا ‘ اور رہے ایمان نہ لانے والے اور منکرین تو وہ صرف نام کے اہل کتاب ہیں ‘ درحقیقت اہل کتاب نہیں ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ اب ان کی کتاب کے احکام منسوخ ہوچکے ہیں ‘ رہا یہ سوال کہ یہ سورت مکی ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام مدینہ میں اسلام لائے تھے اس کا جواب ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس سورت کو اس کی اکثر آیتوں کے اعتبار سے مکی کہا گیا ہے۔

اور فرمایا ہے : اور بعض ان (مشرکین) میں سے بھی ایمان لاتے ہیں ‘ اس سے مراد عرب اور اہل مکہ ہیں اور فرمایا اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کفار ہی کرتے ہیں ‘ اس آیت میں انکار کے لئے جہد کا لفظ فرمایا ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کے برحق ہونے کے علم کے باوجود اس کا انکار کرنا ‘ اس سے مراد وہ اہل مکہ بھی ہوسکتے ہیں جو متعدد معجزات دیکھنے کے باوجود آپ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور وہ یہود بھی ہوسکتے ہیں جو اپنی کتاب میں آپ کی نبوت کی پیش گوئی پڑھنے کے باوجود آپ کی نبوت کا انکار کرتے تھے ‘ جیسے کعب بن اشرف اور ابورافع وغیرہ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 46