أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيۡدًا ‌ۚ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوْا بِالۡبَاطِلِ وَكَفَرُوۡا بِاللّٰهِ ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ میرے اور تمہارے درمیان بہ طور گواہ اللہ کافی ہے ‘ اس کو علم ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کے ساتھ کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میرے اور تمہارے درمیان بہ طور گواہ اللہ کافی ہے ‘ اس کو علم ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کے ساتھ کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں یہ لوگ آپ سے عذاب کو جلد طلب کررہے ہیں ‘ اور اگر عذاب کے لئے ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر ضرور عذاب آچکا ہوتا ‘ اور ان پر ضرور عذاب اچانک آئے گا اس حال میں کہ ان کو اس کا شعور بھی نہ ہوگا یہ آپ سے عذاب کو جلد طلب کررہے ہیں اور (یہ مطمئن رہیں) یقیناً دوزخ کافروں کا احاطہ کرنے والی ہے اس دن ان کو عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پیروں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا ‘ اور (اللہ) فرمائے گا جو کچھ تم کرتے تھے (اب اس کا) مزا چکھو (العنکبوت : ٥٥۔ ٥٢ )

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے برحق ہونے پر دلائل آپ کہیے کہ میرے اور تمہارے درمیان بہ طور گواہ اللہ کافی ہے ‘ یعنی تم جو میرے رسول ہونے کی تکذیب کررہے ہو وہ اس کو جانتا ہے ‘ اور اس کو یہ بھی معلوم ہے جو میں تم سے کہتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اگر میں نے تم سے جھوٹ بولا ہوتا اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھا ہوتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور اگر یہ کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتے تو ہم ضرور ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے پھر تم میں سے کوئی بھی ان کی طرف سے مدافعت کرنے والا نہ ہوتا (الحاقۃ : ٤٧۔ ٤٤)

اور جب اللہ تعالیٰ نے میرے دعوی رسالت پر کوئی گرفت نہیں کی اور کوئی انتقام نہیں لیا تو معلوم ہوگیا کہ میرا دعوی رسالت سچا ہے ‘ اور اس پر مستنر ادیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روشن معجزات اور قوی اور قطعی دلائل سے میری نبوت اور رسالت کی تائید فرمائی ‘ اور اللہ کی گواہی برحق ہے کیونکہ اس کو تمام آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کا علم ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ‘ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا یعنی بتوں کی شیطان کی اور اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی پرستش کی اور اللہ کے ساتھ کفر کیا یعنی جس کا انکار کرنا چاہیے تھا اس پر ایمان لائے اور جس پر ایمان لانا چاہیے تھا اس کا انکار کیا ‘ اس طرح انہوں نے اپنی فطرت اصلیہ اور فطری ہدایت کو بھی ضائع کیا اور ان کو جو دلائل پہنچائے گئے تھے ان کو بھی انہوں نے ضائع کیا ‘ یہی لوگ قیامت کے دن نقصان اٹھانے والے ہوں گے جب اللہ تعالیٰ ان کو ان کے کاموں کی سزا دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 52