أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جن لوگوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں

مستقبل کے تحفظ کے لئے مال جمع کرنے یا نہ کرنے کے متعلق مختلف احادیث تطبیق 

اس کے بعد فرمایا : جن لوگوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ‘ ان کو اللہ ہی رزق دیتا ہے اور تم کو (بھی) اور وہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے (العنکبوت : ٦٠۔ ٥٩)

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور ہم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ‘ آپ پھل توڑ کر کھا رہے تھے آپ نے مجھ سے پوچھا اے ابن عمر ! کیا بات ہے تم کیوں نہیں کھا رہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے بھوک نہیں ہے ‘ آپ نے فرمایا میں ضرور کھائوں گا مجھے بھوک لگی ہوئی ہے ‘ یہ چوتھی صبح ہے میں نے کوئی طعام چکھا ہے نہ مجھے ملا ہے ‘ اور اگر میں چاہوں تو میں اپنے رب سے دعا کروں تو وہ مجھے قیصر وکسریٰ جیسا ملک عطا فرما دے ‘ اے ابن عمر ! اس وقت کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں رہو گے جو اپنا ایک سال کا رزق چھپا کر رکھیں گے اور ان یقین کمزور ہوگا پس اللہ کی قسم ابھی ہم اس باغ سے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوگئی : اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ‘ ان کو اللہ ہی رزق دیتا ہے اور تم کو بھی ! الایۃ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے خزانہ جمع کرنے کا حکم نہیں دیا اور نہ اپنی خواہش پوری کرنے کا ‘ آپ کی مراد تھی باقی زندگی میں ‘ اور بیشک زندگی اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ‘ سنو میں دینار اور درہم کو جمع نہیں کرتا اور نہ کبھی رزق کو چھپا کر رکھوں گا۔(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٤٧١٤‘ اسباب النزول للواحدی ص ٣٥٣‘ الدرالمثور ج ٦ ص ٤١٩)

ان احادیث کی بناء پر بعض صوفیاء نے کہا ہے کہ کل کے لئے کھانے پینے کی چیزوں کو جمع کر کے رکھنا جائز نہیں ہے اور مستقبل کے لئے مال کو پس انداز کر کے رکھنا بھی صحیح نہیں ہے ‘ لیکن ان کا یہ قول باطل ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سال کا غلہ ازواج مطہرات کو فراہم کردیتے تھے ‘ اور حضرات صحابہ کرام بھی مال جمع کرتے تھے اور وہی ہمارے لئے نمونہ اور مقتدا ہیں ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رئیس المتوکلین ہیں اور صحابہ کرام (رض) بعد والوں کے لئے متقین اور متوکلین کے امام ہیں ‘ یہ احادیث ابتدائی دور کی ہیں جب مسلمانوں پر بہت تنگی اور عسرت کا زمانہ تھا اس وقت کا شانہ رسالت میں کئی کئی دن کھانا نہیں پکتا تھا ‘ جیسا کہ ان احادیث میں ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کی تنگی اور وسعت کے متعلق مختلف احادیث میں تطبیق 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی دو دن مسلسل جَو کی روٹی نہیں کھائی حتی کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٧‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص ٢٤٩‘ مسند احمد ج ٦ ص ٤٢‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٠٩٤)

حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام طبری نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے اس حدیث پر یہ اشکال پیش کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے آصحاب کا کئی کئی دن بھوکارہنا مشکل ہے۔ جب کہ یہ ثابت ہے کہ آپ اپنے گھروالوں کو ایک سال کی روزی (طعام اور غلہ وغیرہ) فراہم کردیتے تھے اور آپ نے مال فئی میں سے چار آدمیوں کو ایک ہزار اونٹ عطا کیے ‘ اور آپ اپنے عمرہ میں ایک سو اونٹوں کو لے گئے آپ نے وہ اونٹ ذبح کیے اور مسکینوں کو کھلائے اور آپ نے ایک اعرابی کو بک یوں کا ایک ریوڑ عطا کرنے کا حکم دیا ‘ علاوہ ازیں آپ کے ساتھ مال دار صحابہ تھے ‘ مثلاً حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ (رض) وغیر ہم اور یہ صحابہ اپنی جانوں کو اور اپنے مالوں کو آپ کے سامنے خرچ کرتے تھے ‘ آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابوبکر اپنا تمام مال لے آئے ‘ حضرت عمر آدھا مال لے آئے ‘ آپ نے غزوہ تبوک کے لشکر کی امداد کی ترغیب دی تو حضرت عثمان نے ایک ہزار اونٹ پیش کیے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کیا حوال مختلف ہوتے تھے ‘ ان کا کم خوراک کھانا کسی احتیاج ‘ فقر یا تنگی کی وجہ سے نہ تھا ‘ بلکہ وہ کبھی ایثار کی وجہ سے کم کھاتے تھے اور کبھی سیر ہو کر کھانے کو ناپسند کرنے کی وجہ سے یا بسیار خوری سے اجتناب کی وجہ سے ‘(امام طبری کا کلام ختم ہوا ‘ اب علامہ ابن حجر فرماتے ہیں :) امام طبری نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب سے مطلقاً تنگی کی جو نفی کی ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ بہ کثرت احادیث میں اس کا ذکر ہے ‘ امام ابن حبان نے اپنی سند کے ساتھ اپنی صحیح میں حضرت عائشہ (رض) سے یہ روایت کیا کہ جو شخص تم سے یہ حدیث بیان کرے کہ ہم سیر ہو کر کھجوریں کھاتے تے اس نے تم سے جھوٹ بولا ‘ کیونکہ جس سال بنو قریظہ مفتوح ہوگئے اس سال ہم کو کچھ کھجوریں اور چربی ملی ‘ اور غزوہ خیبر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اب ہم سیر ہو کر کھجوریں کھائیں گے ‘ اور کتاب الا طعمۃ میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا جب ہم نے سیر ہو کر کھجوریں کھائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ‘ اور حضرت ابن عمر نے فرمایا جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے سیر ہو کر کھجوریں کھائیں۔ اور حق بات یہ ہے کہ آپ اور آپ کے اصحاب ہجرت سے پہلے زیادہ ترتنگی کے حال میں رہے تھے جب وہ مکہ میں تھے ‘ اور جب انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تب بھی ان میں سے اکثر اسی حال میں تھے حتی کہ انصار نے ان کی مدد کی اور اپنے گھر اور اپنے عطیات دیئے ‘ اور جب بنو النضیر مفتوح ہوگئے اور اس کے بعد ان پر خوش حالی آئی تو انہوں نے ان کے عطیات واپس کیے ‘ جیسا کہ کتاب الہیبۃ میں تفصیل سے گزر چکا ہے ‘ اور اسی کے قریب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے مجھے اللہ کی راہ میں اس قدر دھمکیاں دی گئیں کہ کسی کو اتنی دھمکیاں نہیں دی گئیں۔ اور مجھے اللہ کی راہ میں اس قدر اذیت دی گئی ہے کہ کسی کو اتنی آذیت نہیں دی گئی اور مجھ پر اور بلال پر تیس ایسے دن رات آئے کہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی ماسوا اس چیز کے جو بلال نے بغل میں چھپالی تھی ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٧٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٦٠) ہاں باوجود اس کے کہ آپ کو دنیا میں وسعت اور خوش حالی حاصل ہوگئی تھی پھر بھی آپ اپنے اختیار سے فقرو فاقہ کی زندگی بسر کرتے تھے جیسا کہ امام ترمذی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے رب نے مجھے یہ پیش کش کی کہ وہ میرے لئے مکہ کی وادی کو سونے کی بنا دے ‘ میں نے کہا نہیں اے میرے رب ! میں ایک دن سیر ہو کر کھائوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا۔ جب میں بھوکا ہوں گا تو تجھ سے گڑ گڑا کر طلب کروں گا اور تجھے یا دکروں گا اور جب میں سیر ہو کر کھائوں گا تو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد کروں گا۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٧) (فتح الباری ج ١٣ ص ٨٠‘ الفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

لوگوں کی ضرورت اور ان کے ضرر کے وقت ذخیرہ اندوزی کی ممانعت اور حالت توسع میں اس کا جواز 

ہم نے اس بحث میں یہ ذکر کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل کو ایک سال کا طعام اور غلہ فراہم کردیتے تھے ‘ اس کے ثبوت میں یہ حدیث ہے : حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی النضیر کے کھجور کے باغ فروخت کردیتے تھے اور اپنے اہل کے لئے ایک سال کا رزق محفوظ کرکے رکھتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٥٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٥٧ٔ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٩٦٥‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ١٧١٩‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٥٧٦)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھلوں یا غلہ کی نصف پیداوار کے عوض خیبر کی زمین دی ‘ آپ ہر سال ازواج مطہرات کو سو وسق طعام دیتے تھے ( ایک وسق ٢٥٥ کلو گرام کے برابر ہے) جس میں اسی (٨٠) وسق کھجور اور بیس وسق جَو ہوتے تھے ‘ حضرت عمر جب خلیفہ ہوئے اور انہوں نے اموال خیبر کی تقسیم کی تو انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو اختیار دیا کہ وہ زمین اور پانی میں سے ایک حصہ لے لیں یا وہ ہر سال مقررہ وسق لے لیں ‘ ازواج مطہرات میں اختلاف ہوا ‘ بعض ازواج نے زمین اور پانی کو اختیار کیا اور بعض ازواج نے مقررہ وسق طعام لینے کو اختیار کیا ‘ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ (رض) ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی لینے کو اختیار کیا۔ (صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب ارقمالحدیث : ٢ رقم الحدیث بلا تکرار ١٥٥١‘ رقم الحدیث المسلسل : ٣٨٨٨)

علامہ ابی الحسین علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال متوفی ٤٤٩ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

مہلب نے کہا ہے اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ عالم کے لئے اپنے اہل اور عیال کے لئے ایک سال کے رزق کو ذخیرہ کرنا اور جمع کرنا جائز ہے ‘ اور یہ ذخیرہ اندوزی نہیں ہے اور انسان اپنے باغ کے پھلوں میں سے جو اپنی روزی کے لئے جمع کرلے اور محفوظ کرلے وہ ذخیرہ اندوزی نہیں ہے اور اس میں فقہاء کا اختلاف نہیں ہے۔ امام طبری نے کہا اس میں صوفیاء کے اس قول کا رد ہے کہ کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ آج کے دن کل کے لئے کوئی چیز اٹھا کر رکھ لے ‘ اور ایسا کرنے والا اپنے رب کے ساتھ بدگمانی کرتا ہے اور اپنے رب پر اس طرح توکل نہیں کرتا جو تو کل کرنے کا حق ہے ‘ اور اس قول کا فساد بالکل ظاہر ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل کے لئے ایک سال کی روزی جمع کر کے محفوظ رکھتے تھے۔ (شرح صحیح البخاری ج ٧ ص ٥٣٤‘ مکتبہ الرشید ریاض ‘ ١٤٢٠ ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں ایک سال کی روزی کو ذخیرہ کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فعل اپنے نفس کے لئے بالکل نہیں تھا بلکہ اپنے اہل و عیال کے لئے تھا ‘ اور اس میں فقہاء کا اختلاف نہیں ہے کہ انسان اپنی زمین اور اپنی زراعت میں سے پیداوار کو ذخیرہ کرلے ‘ جب کہ اس نے اس غلے کو بازار سے نہ خریدا ہو ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل کے لئے جس طعام کا ذخیرہ کیا تھا وہ اپنی زراعت سے کیا تھا ‘ اور بازار سے طعام خرید کر اس کو ایک سال کے لئے ذخیرہ کرنے میں فقہاء کا اختلاف ہے ‘ ایک قوم نے اس کو بھی جائز کہا ہے اور اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور اس حدیث میں اس کی دلیل نہیں ہے ‘ اور اکثر فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اگر بازار سے اتنا غلہ خریدنے سے لوگوں کو نقصان نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر بازار میں طعام کی کمی ہو تو حسب ضرورت ایک ماہ یا ایک دن سے زیادہ طعام خرید کر جمع نہ کرے ‘ اور جب طعام کی وسعت کی امید ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے اور دوسرے علماء نے منع کیا ہے کیونکہ حدیث میں ہے ذخیرہ اندوزی صرف خطا کار کرتا ہے اور بعض فقہاء نے کہا ایک سال کی روزی خرید کر جمع کرنا ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔ (اکمال المعلم بفو ائد مسلم ج ٦ ص ٧٦‘ مطبوعہ دارالوفاء بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ بدر الدرین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ نے اس حدیث کی شرح میں مہلب اور طبری کے اقوال ذکر کیے ہیں اور یہ کہا ہے کہ اپنی زراعت کی پیداوار سے ایک سال کے غلہ کو جمع کرنا ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل کے پاس ایک سال کا طعام ہونے کے باوجود ان کی تنگی اور عسرت کی توجیہ 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

سنن الترمذی کے حوالے سے یہ حدیث گزرچکی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کل کے لئے کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے ‘ اور ان احادیث میں یہ مذکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سال کا رزق ازواج مطہرات کو فراہم کردیتے تھے ‘ ان میں تطبیق اس طرح ہے کہ آپ اپنی ذات کی خاطر کل کے لئے کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے تھے ‘ اور اپنے اہل و عیال کے لئے ایک سال کا طعام ذخیرہ کرتے تھے ‘ ہرچند کہ جب آپ اپنے اہل و عیال کے لئے ایک سال کا طعام ذخیرہ کرتے تھے ‘ ہرچند کہ جب آپ اپنے اہل کے لئے ایک سال کا طعام ذخیرہ کرتے تھے تو اس میں آپ بھی شریک ہوتے تھے لیکن آپ کا مقصد صرف اپنے عیال کے لئے ذخیرہ کرنا تھا اور اپنے لیے ذخیرہ کرنا آپ کا مقصد نہ تھا ‘ اور بعض اوقات اتنا خرچ ہوجاتا تھا کہ آپ کے اہل و عیال کے لئے کچھ بھی باقی نہ بچتا تھا ‘ اسی وجہ سے حدیث میں ہے : حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور آپ کی زرہ تیس صاع جَو کے عوض ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٩١٦‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٦٠٩‘ سنن ابن ما اجہ رقم الحدیث : ٢٥٣٦‘ ایک صاع چار کلو گرام کا ہوتا ہے)

توکل کا صحیح معنی اور مفہوم 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کو اللہ ہی رزق دیتا ہے اور تم کو بھی (العنکبوت : ٦٠) اور اس سے پہلی آیت میں توکل کا بھی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ حریص اور متوکل کو اور دنیا میں رغبت کرنے والے اور زاہد اور قناعت گزار دونوں کو رزق عطا فرماتا ہے اسی طرح قوی اور ضعیف اور سخت کوشش کرنے والے اور اسس اور عاجز سب کو رزق عطا فرماتا ہے ‘ حدیث میں ہے :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرتے جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تم کو اس طرح رزق دیا جاتا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کرلو ٹتے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٦٤‘ مسند احمد ج ١ ص ٢٠٥)

اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ توکل میں سعی اور جدوجہد اور حصول اسباب کو ترک نہیں کیا جاتا ‘ بلکہ توکل میں اسباب کی ایک نوع کا حصول ضروری ہے کیونکہ پرندوں کو بھی ان کی کوشش اور طلب کے بعد رزق دیا جاتا ہے ‘ اسی لیے امام احمد نے کہا ہے کہ اس حدیث میں ترک عمل کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس حدیث میں حصول رزق کے لئے سعی اور جدو جہد کی دلیل ہے ‘ اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہا گر مسلمان اپنے آنے جانے اور تمام کاموں میں اللہ پر توکل کرتے اور یہ یقین رکھتے کہ ہر قسم کی خیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو وہ پرندوں کی طرح اپنی ہر مہم میں کامیابی کے ساتھ لوٹتے ‘ اور جو شخص اللہ پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنی قوت اور اپنے عمل پر اعتماد کرے تو یہ توکل کے منافی ہے۔

بعض صوفیاء یہ کہتے ہیں کہ توکل کا معنی ہے بدن سے کسب کو ترک کرنا اور دل سے کسی کام کی تدبیر نہ کرنا اور مردوں کی طرح زمین پر پڑے رہنا یہ جاہلوں کی سوچ ہے اور شریعت میں حرام ہے۔ امام قشیری متوفی ٤٦٥ ھ نے توکل کی تعریف میں یہ حدیث ذکر کی ہے ایک شخص نے پوچھا یا رسول للہ آیا میں اونٹنی کو چھوڑ کر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا : اونٹنی کو باندھ کر توکل کرو۔ (ترمذی قیامت : ٦٠) ( الرسالۃ القشیر یۃ ص ٢٠١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 59