أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ‘ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا

رزق کی تنگی اور کشادگی اسی کے ہاتھ میں ہے ‘ رزق کی دو قسمیں ہیں ایک ظاہری رزق ہے وہ طعام اور مشروب ہے اور ایک باطنی رزق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے اور حقائق اشیاء کا ادراک ہے۔

پھر فرمایا : بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ‘ اور ان میں یہ چیز بھی ہے کہ کسی شخص کو کس چیز کی ضرورت ہے اور اس کو کتنی مقدار میں وہ چیز دینے سے اس کی ضرورت پوری ہوجائے گی ‘ اور اس کو اس کی ضرورت کے مطابق دینا حکمت اور مصلحت ہے یا اس کی ضرورت سے کم دینا اس کے حق میں حکمت اور مصلحت ہے یا اس کی ضرورت سے زائد دے کر اس کو آزمائش میں مبتلا کرنا حکمت اور مصلحت ہے۔ اس آیت میں فرمایا وہی رزق میں کمی اور زیادتی کرتا ہے اس کا معنیٰ ہے وہی زندہ ہے اور علم والا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اور وہی اپنے علم اور قدرت کے موافق کلام کرنے والا ہے ‘ اور اپنی مخلوق کو دیکھنے والا ہے اور ان کی فریاد کو سننے والا ہے اور وہی چاہنے والا ہے ‘ اور جس چیز کو چاہی اس کو کرنے والا ہے اور اسی کی سلطنت ہے وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے اور سب اس کے سامنے جواب دہ ہیں ‘ وہ جس کو چاہے تو نگر بنا دے اور جس کو چاہے نان شبینہ کا محتاج بنا دے کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں سب اس کے مملوک اور اس کے بندے ہیں سو وہی تمام کائنات کی اطاعت اور عبادت کا مستحق ہے ‘

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 62