أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ ۖ ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

ہر جان دار موت کو چکھنے والا ہے ‘ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے

اس کے بعد فرمایا : ہر جاندار موت کو چکھنے والا ہے۔ (العنکبوت : ٥٧ )

اس کی مکمل تفسیر آل عمران : ١٨٥ میں گزر چکی ہے ‘ یہاں مراد یہ ہے کہ دنیا سے دل نہیں لگانا چاہیے کیونکہ ایک دن بہر حال مرنا ہے اس لئے مسلمانوں کو ترغیب دی ہے کہ مکہ اگرچہ ان کا وطن ہے لیکن اللہ کے احکام پر عمل کرنے کے لئے ان کو اگر مکہ چھوڑنا پڑے تو چھوڑدیں اور ہجرت کرلیں کیونکہ یہ زندگی فانی ہے اور انہوں نے بہر حال مر کر اللہ کے پاس جانا ہے۔ امام ابواسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حسین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے دین کی وجہ سے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں گیا خواہ وہ ایک بالشت کے فاصلہ پر گیا ہو تو وہ جنت کا مستحق ہوگا اور حضرت ابراہیم اور حضرت محمد (علیہم السلام) کا رفیق ہوگا۔(الکثف والبیان ج ٧ ص ٢٨٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 57