أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ‌ۚ فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے کام پر لگایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ‘ تو وہ کہاں الٹے پھر رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے کام پر لگایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ‘ تو وہ کہاں الٹے پھر رہے ہیں اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ‘ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو زندہ فرمایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ‘ آپ کہئیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ‘ بلکہ ان کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں (العنکبوت : ٦٣۔ ٦١ )

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر روز مرہ کے مشاہدات سے استدلال 

یعنی اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ اہل مکہ سے سوال کریں کہ مخلوق کی مصلحت اور فائدہ کے لئے آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو تمہاری ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے کس نے ایک مقرر نظام کا پابند کردیا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ! تو پھر تم اس کی توحید کا کیوں اقرار نہیں کرتے اور کیوں اس کے شریک قرار دیتے ہیں !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 61