أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِهَا لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ‌ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ‌ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

 ترجمہ:

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو زندہ فرمایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ‘ آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ‘ بلکہ ان کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں

پھر اس پر ایک اور دلیل قائم کی اور فرمایا : اور اگر آپ ان سے یہ سوال کریں کہ کس نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو زندہ فرمایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ آیت کے اس حصہ میں یہ دلیل ہے کہ تم بار ہا دیکھتے ہو کہ وہی مردہ زمینوں کو زندہ کرتا ہے اور قحط اور خشک سالی کے بعد خوش حالی ‘ تروتازگی اور فصلوں کی زرخیزی لاتا ہے تو جو مردہ زمینوں کو زندہ کر رہا ہے اور جو زمینوں کو بار بار مردہ کرتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے وہ اس پوری کائنا اور تمام انسانوں کو مردہ کر کے ان کو زندہ کیوں نہیں کرسکتا ‘ اس نے ابتداء اس کائنات کو بنایا پھر اس کا ئنات کو اور خصوصاً تمہیں باقی اور زندگی پر قائم رکھنے کے لئے زمین کی فصلیں اگانے اور بارش نازل کرنے کا نظام بنایا اور تمہارے رزق کا سبب بنایا ‘ سو وہی ہر نعمت پر ہر انسان سے ہر زمانہ میں حمد اور تعریف کا مستحق ہے اور جو محمود ہے وہی معبود ہے ‘ اس لئے آپ کہیئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں بلکہ ان کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے کوئی بتوں کی پرستش کرتا ہے ‘ کوئی حضرت عیسیٰ کی عبادت کررہا ہے اور کوئی اپنی خواہشوں کے آگے سر جھکا رہا ہے اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اپنے نفس کے حکم کی بڑائی ظاہر کر رہا ہے ‘ پھر زبان سے کہتا ہے اللہ اکبر ‘ اللہ ہر چیز سے بڑا ہے سو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے ‘ اسی طرح یہ مشرکین کہتے ہیں کہ سب کچھ اللہ نے بنایا اسی نے چلایا ہے پھر اس کی مخلوق کے آگے سر جھکاتے ہیں اور شرک کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 63