أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِىۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّاىَ فَاعۡبُدُوۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

اے میرے ایمان دار بندو ! بیشک میری زمین وسیع ہے سو تم میری ہی عبادت کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے میرے ایمان دار بندو ! بیشک میری زمین وسیع ہے ‘ سو تم میری ہی عبادت کرو ہر جان دار موت کو چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ‘ ہم ان کو ضرور اس جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جس کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ‘ نیک عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا اجر ہے ! جن لوگوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ‘ ان کو اللہ ہی رزق دیتا ہے اور تم کو (بھی) اور وہ بہت سننے والا ‘ بےحد جاننے والا ہے (العنکبوت : ٦٠۔ ٥٦)

کن صورتوں میں کفار کے ملک سے ہجرت کرنا فرض ہے اور کن میں نہیں 

سعید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا جب کسی زمین میں گناہوں کا ارتکاب کیا جائے تو وہاں سے نکل جائو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی زمین وسیع ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٩٧)

عطاء نے کہا جب تم کو گناہ کی دعوت دی جائے تو وہاں سے بھاگ جائو۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٣٩٨)

زید بن اسلم نے کہا اس آیت میں ان مسلمانوں سے خطاب ہے جن پر مشرکین ان کے ایمان کی وجہ سے ظلم کررہے تھے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٤٠٢ ١٧)

اگر ایمان ‘ فرائض ‘ واجبات اور دیگر نیک اعمال کو کافروں کے ملک سے ہجرت کیے بغیر بچانا ممکن نہ ہو تو ہجرت کرنا فرض ہے ‘ ورنہ مستحب ہے۔

مطرف بن عبداللہ نے کہا اس کا مطلب ہے کہ میرا رزق تم پر وسیع ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٤٠٣)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار کے ملک میں رہنا درست نہیں ہے ‘ بلکہ صحیح یہ ہے کہ انسان کافروں کے ملک سے ہجرت کر کے ایسی جگہ جائے جہاں اللہ کے نیک بندے ہوں ‘ اور اگر کسی علاقہ میں تمہارے لئے اپنے ایمان کا اظہار کرنا مشکل ہو تو تم پر اس جگہ سے ہجرت کرنا واجب ہے ور جس جگہ ظلم اور فسق و فجور ہو وہاں سے بھی ہجرت کر کے پر امن اور نیک لوگوں کے علاقے میں چلا جائے ‘ اسی طرح اگر کسی جگہ روز گار نہ ملے تو کسی دوسری جگہ چلا جائے ‘ بعض علماء نے کہا زمین سے مراد جنت کی زمین ہے یعنی جنت کی زمین بہت وسیع ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 56