ایامِ وبا میں بلااشتہار جمعہ

نمازِ جمعہ عام نمازوں سے قدرے مختلف اور اس کی صحت کے لیے مخصوص شرطیں ہیں ، جن میں سے ایک “اذنِ عام” یعنی “تمام مکلفین بالجمعہ کو جمعہ کی ادائیگی کی اجازت ہونا” بھی ہے۔

لیکن موجودہ حالات میں ، جبکہ نیاکورونا وائرس (کووِڈ 19) ہر جانب تباہی پھیلا رہا ہے اور تا حال سماجی دوری کے علاوہ کوئی حل سامنے نہیں آ پایا ، حکومت کی طرف سے جمعہ وجماعت کو مکمل بند تو نہیں کیا گیا لیکن نمازیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔

ایسے حالات میں جبکہ مسجد کے گیٹ پر پولیس یا رینجرز کا پہرہ ہو اور محدود تعداد کے علاوہ نمازیوں کا داخلہ منع ہو تو بظاہر لگتا ہے کہ اذنِ عام مفقود ہے ، سو نمازِ جمعہ درست نہیں ہونی چاہیے۔

اسی امر کے پیشِ نظر بعض انتہائی لائقِ احترام اصحابِ علم نے فرمایا “جہاں جہاں یہ پابندی قائم ہے وہاں اس صورت میں جمعہ کی ادائیگی شرط مفقود ہونےکی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ نماز ظہر لازم ہو گی”

لیکن اگر ہم اس مسئلہ کو اس تناظر میں دیکھیں کہ:

اسلام دینِ یسر ہے۔ اور علماء کو چاہیے کہ انسانوں کے لیے آسانیاں تلاش کریں ، جیسا کہ یتیمۃ الدھر میں ہے:

قال ابو حامد: ینبغی للمفتی ان یفتی للناس بما ھو اسہل علیھم وھکذا ذکرہ البزدوی فی شرحہ للجامع الصغیر ان یاخذ بالایسر فی حق غیرہ خصوصا فی حق الضعفاء

قلت : ھذا صحیح لقول النبی صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم لعلی ومعاذ حین بعثہما الی الیمن: یسرا ولا تعسرا واکبر من ذلک قولہ تعالی: یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (1)

اور بالخصوص موجودہ حالات جبکہ پوری دنیا وبا کی لپیٹ میں آ چکی ہے ، وطنِ عزیز ایسے کٹھن دور سے گزر رہا ہے کہ ہر طرف خوف وہراس پھیلا ہوا ہے ، ہر شخص پریشانی کا شکار ہے۔ اگر ان حالات میں دینی حلقوں کی طرف سے آنے والا پیغام لوگوں کی پریشانی میں اضافے کا موجب ہو تو یقینا یہ مقاصدِ شرع کے موافق نہیں ہو گا۔

اور ویسے بھی اہلِ اسلام کے معاملات کی وجہِ صحت تلاش کی جاتی ہے ، نیز اگر کسی مسئلہ پر انکار کرنا ہو تو اس کی حیثیت کا ملاحظہ ضروری ہوتا ہے۔ ایسے مسائلِ اجتہادیہ جن کی وجہِ صحت موجود ہو ، کم از کم آج کے دور میں اور پھر موجودہ حالات میں ان کے فساد پر زور دینا مقاصدِ شرع کے بالکل موافق نہ ہو گا۔

فتاوی ابن الشلبی ، پھر منحۃ الخالق ورد المحتار وغیرھا میں ہے:

امور المسلمین محمولۃ علی السداد ومبناھا علی الصحۃ لا الفساد (2)

صاحبِ ہدایہ اپنی کتاب “التجنیس والمزید” میں فرماتے ہیں:

ومن رأي غيره يتطوع في الجامع عند الزوال يوم الجمعة لا ينبغي له أن يمنعه عن ذلك كيلا يدخل تحت قوله تعالي: ” أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى ” ولأنه لا يتيقن بوقت الزوال فربما يكون قبله أو بعده ولو تيقن ففيه خلاف لأبي يوسف وربما قلده هذا المصلي ولا ينكر علي من فعل فعلا مجتهدا أو مقلدا بمجتهد.

نظير هذا ما سئل شمس الأئمة الحلواني: أن كسالى العوام يصلون الفجر عند طلوع الشمس أفنزجرهم عن ذلك قال لا؛ لأنهم إذا منعوا عن ذلك تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا (3)

فتح القدیر میں فرمایا:

والإنكار الذي يجب عدم السكوت معه هو المنكر العاصي من قام به لا الفصول المجتهد فيها، وهم – رضي الله عنهم – لم يكونوا أهل لجاج خصوصا مع من هو أهل الاجتهاد (4)

عقد الجید میں ہے:

وَفِي الظَّهِيرِيَّة وَمن فعل فعلا مُجْتَهدا فِيهِ أَو قلد مُجْتَهدا فِي فعل مُجْتَهد فِيهِ فَلَا عَار وَلَا شناعة وَلَا إِنْكَار عَلَيْهِ (5)

محقق نابلسی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فان المسئلۃ الواقعۃ کما ھی الاٰن فی جوامع بلادنا وغیرھا یوم الجمعۃ من المؤذنین متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذہبنا او مذہب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ (6)

اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی اپنے فتاوی میں جا بجا اس کلام کو ذکر کرتے نظر آتے ہیں ، ایک بار ذکر کیا اور فرمایا:

علمائے محتاطین تو ایسے مسائل اجتہادیہ میں انکار بھی ضروری و واجب نہیں جانتے نہ کہ عیاذاً باﷲ نوبت تا بہ تضلیل واکفار۔ (7)

تحفہ اثنا عشریہ سے نقل فرمایا:

ہر کہ باجود ایں ہمہ قول جازم نماید بے باک و بے احتیاط ست وہمیں ست شان محتاطین از علمائے راسخین کہ در اجتہادیات مختلف فیہا جزم باحد الطرفین نمی کنند (8)

انہی امور کی طرف توجہ دلانے کی خاطر “جمعہ کے لیے اجازتِ عامہ” سے متعلقہ “گزارشات” (9) میں اس مسئلہ کے “درجہ” کی طرف اشارہ کیا۔۔۔یوں تو اشارہ کی بھی حاجت نہ تھی کیونکہ مخاطب اہلِ علم تھے جو امور مذکورہ بالا سے بخوبی واقف ہیں ، لیکن بعض اوقات کسی مسئلہ سے توجہ ہٹ جاتی ہے ، تو اسی توجہ کو مبذول کرانے کے لیے اشارہ کیا۔اور وقتِ اشارہ یہ بھی ملحوظ تھا کہ اسے “حكم الحاكم يرفع الخلاف في مسائل الاجتهاد” کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکے۔

گو اس قاعدہ کی جزئیات لا تعد ولا تحصی ہیں لیکن خاص مسئلہ جمعہ سے متعلقہ جزئیہ جس میں شرطِ صحت مفقود ہونے کے باوجود نواب یا قاضی کا اذن مل جانے پر امام ابو القاسم رحمہ اللہ تعالی نے جمعہ کے بالاتفاق صحیح ہونے کا حکم فرمایا ، جیسا کہ جامع المضمرات ، فتاوی تاتارخانیۃ ، خزانۃ الروایات ، بحر الفتاوی لقاضی زادہ وغیرھا میں ہے:

قال السید الامام الاجل ابو القاسم : لو اذن الوالی او القاضی ان یفعل الجمعۃ ویبنی المسجد الجامع فی قریۃ کبیرۃ فیہا سوق جاز بالاتفاق لان عند الشافعیۃ یصلی الجمعۃ بالقریۃ التی فیہا اربعون رجلا حرا بالغا عاقلا مقیما وکان ھذا مجتہدا فیہا فاذا اتصل بہ الحکم والقضاء صار مجتمعا علیہ (10)

جامع الرموز پھر رد المحتار میں ہے:

تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه ۔(11)

اور چونکہ “جمعہ کے لیے اجازتِ عامہ” کا مسئلہ بھی مجتہد فیہا مسائل سے ہے ، مالکیہ ، شافعیہ ، حنابلہ میں سے کسی کے نزدیک صحتِ جمعہ کے لیے اذنِ عام شرط نہیں۔ احناف کے ہاں نوادر میں مذکور ہونے کے باوجود مختصر الطحاوی ، مختصر القدوری ، ہدایۃ ، شرح مختصر الکرخی ، تحفۃ الملوک للرازی ، النتف فی الفتاوی ، خزانۃ الفقہ للامام ابی اللیث السمرقندی ، المختار للفتوی ، مجمع البحرین لابن الساعاتی اور دیگر ان گنت معتبرات نے صحتِ جمعہ کے لیے اس شرط کا اعتبار نہیں کیا۔

یہ بات اپنی جگہ ہے کہ عدمِ ذکر کو ذکرِ عدم لازم نہیں ، لیکن اسے “اعبارر” بھی لازم نہیں فان المرتبۃ لا بشرط شيء اعم مطلقا من مرتبۃ بشرط لا شئ و من مرتبۃ بشرط شئ ولا تلزم واحدۃ منھما الاعم

فلہذا موجودہ حالات کے تناظر میں اس قسم کے مسئلہ مجتہد فیہا کے اندر ، جبکہ نمازیوں کی مخصوص تعداد کی پابندی “حکومت کی جانب” سے ہے ، نمازِ جمعہ کی صحت میں تردد نہیں ہونا چاہیے۔

ہم مقلدین ہیں ، فعلينا اتباع ما رجحوه وما صححوه ، لیکن اہلِ علم “الضرورات تبيح المحظورات” اور “مواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع” سے بخوبی واقف ہیں۔عام حالات میں “اذنِ سلطان” ضروری ہے ، لیکن مواضع ضرورت میں :

👈 ولی عہد ، قاضی ، افسر فوجداری بغیر اذنِ صریح کے بھی جمعہ قائم کروا سکتا ہے ،

👈 یونہی اگر سلطان کافر ہے ، فاسق ہے اور اس سے استیذان ممکن نہیں جب بھی یہ شرط ساقط ہو جائے گی ،

👈 اور اگر ان حضرات مذکورہ میں سے کوئی موجود نہ ہو تو عوام اپنی صوابدید سے کسی شخص کا انتخاب کر کے اسے جمعہ کے لیے کھڑا کر سکتے ہیں۔

عیون المسائل ، قاضی خان ، خلاصۃ ، التجنیس والمزید ، ذخیرۃ ، تاتارخانیہ ، بزازیۃ ، والوالجیۃ ، خزانۃ المفتین ، فتاوی سراجیہ ، منحۃ السلوک ، غیاثیۃ اور دیگر ان گنت کتب میں ہے:

والی المصر مات ولم یبلغ موتہ الی الخلیفۃ حتی مضت بہم جمعۃ فان صلی بہم خلیفۃ المیت او صاحب الشرطۃ او القاضی جاز لہ ، لانہ فوض الیہم امر العامۃ (12)

جامع الفتاوی میں ہے:

ولو مات وال فصلی الجمعۃ خلیفتہ او صاحب الشرطۃ او القاضی جاز (13)

امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی نے “فی الجمعۃ بغیر سلطان” کے تحت فرمایا:

قال اصحابنا لا تجزئ ۔ وذکر عن محمد : ان اہل مصر لو مات والیھم جاز ان یقدموا رجلا یصلی بھم الجمعۃ حتی یقدم علیھم والی (14)

پھر فرمایا:

وایضا فان المتغلب والخارج علی الامام تجوز الجمعۃ خلفہ ، فمن کان فی طاعۃ الامام احری بجوازھا خلفہ (15)

شرح مختصر الکرخی میں ہے:

قال ابو الحسن: لا یجوز الصلاۃ الا باذن امام المسلمین ما امکن استیذانہ فی ذلک فان کان منہ مانع بغیبہ او موت قبل ان یلی غیرہ فلا باس ان یجتمع الناس علی رجل یصلی بہم (16)

عیون المسائل میں ہے:

وروی ابراہیم بن رستم عن محمد قال: لو مات عامل افریقیۃ او عامل بعید من الخلیفۃ فاجتمع الناس علی رجل فصلی بہم حتی یاتیھم عامل فصلی بہم جاز۔ قال محمد: صلی علی ابن ابی طالب بالناس الجمعۃ وعثمان بن عفان محصور (17)

التجنیس والمزید ، ذخیرۃ ، تاتارخانیہ ، والوالجیۃ میں ہے:

ولو اجتمعت العامۃ علی ان یقدموا رجلا مع قیام واحد من ھؤلاء الذین ذکرنا من غیر امرہ لم یجز ، الا اذا لم یکن ثم قاض ولا خلیفۃ المیت فحینئذ جاز للضرورۃ الا تری ان علیا رضی اللہ تعالی عنہ صلی بالناس یوم الجمعۃ وعثمان رضی اللہ تعالی عنہ محصور ، لان الناس اجتمعوا علی علی رضی اللہ تعالی عنہ (18)

قاضی خان اور خلاصۃ وغیرھما میں ہے:

ولو اجتمع العامۃ علی تقدیم رجل لم یامرہ القاضی ولا خلیفۃ المیت لم یجز ولم یکن جمعۃ وان یکن ثم قاضی ولا خلیفۃ المیت فاجتمع العامۃ علی تقدیم رجل جاز لمکان الضرورۃ (19)

الحاوی القدسی ، مخزن الفقہ میں ہے:

واذا مات والی مصر فجمع بہم خلیفۃ المیت او صاحب الشرطۃ او القاضی او جمع الناس علی رجل فجمع بہم بغیر اذن الخلیفۃ جاز (20)

مخزن الفقہ میں مزید فرمایا:

ولا عبرۃ لنصب العامۃ الا اذا لم یوجد ممن ذکر (21)

جامع الفتاوی میں ہے:

وان لم یکن واحد منہم واتفق الناس علی اقامتھا جاز (22)

حلبی صغیر میں ہے:

فان مات والی المصر فصلی بہم خلیفتہ قبل اتیان وال صح وکذا لو صلی القاضی او صاحب الشرطۃ وان لم یکن احد من ھؤلاء فاجتمع الناس علی واحد منہم فصلی بہم جاز ومع وجود احدھم لا یجوز الا باذنہ للضرورۃ ھناک لا ھنا (23)

شرح مقدمہ غزنوی میں ہے:

ھذا اذا امکن استیذان السلطان اما اذا لمیمکن استیذانہ بان کان کافرا او مات واجمع الناس علی من یصلی بہم جاز وان اجمعوا علی من یصلی بہم لم یجز من غیر ہذہ الاعذار (24)

جامع المضمرات ، خزانۃ الروایات میں ہے:

فی التھذیب: ولو تعذر الاستیذان من الامام فاجتمع الناس علی رجل یصلی بہم الجمعۃ جاز (25)

فتاوی تتار خانیہ میں ہے:

وفی النصاب : عن محمد لو مات عامل بعیدا من الخلیفۃ واجتمع الناس علی رجل یصلی بہم حتی یجیئھم عامل آخر جاز ان یصلی بہم وعلیہ الفتوی (26)

فتاوی بزازیہ میں ہے:

ولو اجتمعوا اہل بلدۃ علی تقدیم رجل لا یصح الا اذا لم یکن خلیفۃ ولا قاض ولا شرطی فحینئذ یصح للضرورۃ (27)

شرح قدوری اور قنیۃ میں کہا:

قال ابن سماعۃ: سمعت محمدا یقول: ان اہل مصر مات والیھم فولوا رجلا یصلی بھم جاز الا تری ان رجلا لو قھرھم ظلما ثم صلی بھم الجمعۃ اجزت ذلک (28)

شرح قدوری میں مزید کہا:

فان کان السلطان فاسقا فذکر الرازی عن الطحاوی انہ اذا تعذر التوصل الی استیذان الامام جاز لاہل المصر ان یجتمعوا علی من یجمع بھم قال الطحاوی: لما جاز الجمعۃ خلف المتغلب الخارج عن الامام فمن کان فی طاعۃ الامام اولی ۔ قال ابو بکر الرازی: لا یعرف جواز الجمعۃ خلف المتغلب عن اصحابنا وانما ھو شئ ذکرہ الطحاوی لکن السلطان اذا کان فاسقا جاز ان یجتمعوا علی رجل یجمع بھم بعد موتہ قال الجلابی وما قدمنا من روایۃ ابن سماعۃ عن محمد ولو قھرھم رجل ظلما وجمع بھم جاز موافق لقول الطحاوی۔ (29)

قنیہ میں کہا:

وقال ابو بکر الرازی: لو کان السلطان فاسقا فلہم ان یجتمعوا علی رجل یصلی بھم الجمعۃ ویصیر کان الامام اذن لھم لتعذر استیذانہ (30)

خزانۃ الروایات میں ہے:

عن محمد: اذا تعذر اذن الامام جاز اجتماعہم علی رجل یؤمھم (31)

جامع الرموز میں ہے:

وھذا اذا امکن استیذانہ ، والا فالسلطان لیس بشرط فلو اجتمعوا علی رجل وصلوا جاز کما فی الجلابی وغیرہ (32)

فتاوی سراجیہ کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں:

فان لم یکن ثمہ واحد منہم واجتمع الناس علی رجل فصلی بہم جاز (33)

در مختار میں ہے:

(ونصب العامة) الخطيب (غير معتبر مع وجود من ذكر) أما مع عدمهم فيجوز للضرورة (34)

رد المحتار میں ہے:

ولذا لو مات الوالي أو لم يحضر لفتنة ولم يوجد أحد ممن له حق إقامة الجمعة نصب العامة لهم خطيبا للضرورة كما سيأتي مع أنه لا أمير ولا قاضي ثمة أصلا وبهذا ظهر جهل من يقول لا تصح الجمعة في أيام الفتنة مع أنها تصح في البلاد التي استولى عليها الكفار كما سنذكره فتأمل (35)

موجودہ عالمی حالات اور پھر ملکی کھینچا تانی تو بہت سخت صورت اختیار کر چکی ہے ، اگر عذر اس سے کہیں ہلکا ہو ، جیسے “حاکم کی جانب سے مقرر خطیب موجود نہیں اور جمعہ فوت ہونے کا اندیشہ ہے” تو قاضی کسی بھی شخص کو آگے کر سکتا ہے تاکہ جمعہ فوت ہونے سے بچایا جا سکے۔تاتارخانیہ ، جامع المضمرات ، فتاوی صوفیۃ ، خزانۃ الروایات وغیرھا میں ہے:

وفی التھذیب : ولو لم یحضر الخطیب وضاق الوقت یقدم القاضی رجلا یصلی بہم الجمعۃ (36)

یہ ہمارے مسئلہ سے ملتی جلتی اور اسی باب کی مثالیں تھیں تو ذکر کر دیں ، ورنہ ان قواعد کی مثالیں گنتی وشمار سے باہر ہیں اور اہلِ علم کو ضرورت بھی نہیں کہ ان کے سامنے ان کا ذکر کیا جائے۔

بہر حال یہ امثلہ تو اذنِ صریح کے فقدان کی ہیں۔ بعض اوقات تو حاکم کی جانب سے “منعِ صریح” آجاتا ہے۔۔۔ جیسا کہ موجودہ حالات میں مسجدوں کو بند کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے ، اگر ہمارے علماء کرام ، بالخصوص مفتی منیب الرحمن صاحب متع اللہ اہل السنۃ بطولِ بقائہ جیسی شخصیات مزاحمت نہ کریں تو کب کے مسجدوں پر تالے پڑ جاتے۔ شاید اسی قسم کی صورت کے بارے میں امام ابو جعفر رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ، جیسا کہ قاضی خان ، فتح القدیر ، خلاصۃ الفتاوی ، بنایۃ ، تاتارخانیۃ ، البحر الرائق ، محیط برھانی ، عالمگیری ، حلبۃ المجلی وغیرھا میں ہے:

فأما إذا نهاهم متعنتاً، أو إضراراً بهم، فلهم أن يجتمعوا على رجل يصلي بهم الجمعة (37)

النھر الفائق میں ہے:

إن كان تعنتًا أو إضرارًا لهم أن يجتمعوا على رجل ليصلي بهم (38)

بزازیہ میں ہے:

اما اذا کان بلا سبب شرعی یعتمد علیہ کتعصب او عداوۃ فلا اثر لہ فیجتمعون علی رجل یجمع بہم (39)

خزانۃ المفتین میں ہے:

اذا نہاھم متعنتا او اضرارا بہم فلہم ان یجمعوا علی رجل یصلی بہم الجمعۃ (40)

رد المحتار میں ہے:

لو منع السلطان أهل مصر أن يجمعوا إضرارا وتعنتا فلهم أن يجمعوا على رجل يصلي بهم الجمعة (41)

یہ وہی ائمہ ہیں جو بغیر اذنِ صریح جمعہ کی صحت کے قائل نہیں ، اور یہی ائمہ رحمہم اللہ تعالی صریح منع کے باوجود جمعہ کی ادائیگی جائز قرار دے رہے ہیں ، لا محالہ وضعِ مسئلہ میں فرق ہے ، پہلا حکم عمومی حالات کا ہے جبکہ دوسرا مخصوص صورتوں کا۔

مسئلہ “اذنِ عام” میں امر واجب اللحاظ یہ بھی ہے کہ: اذنِ عام “مقیمِ جمعہ” کی جانب سے ہونا ضروری ہے۔ رد المحتار میں فرمایا:

المراد الإذن من مقيمها لما في البرجندي من أنه لو أغلق جماعة باب الجامع وصلوا فيه الجمعة لا يجوز إسماعيل (42)

الھدیۃ العلائیۃ میں فرمایا:

والاذن العام من الامام او من مقیمھا (43)

تردید کا انفصالِ حقیقی کے لیے نہ ہونا تو متعین ، اور یہی حال منعِ جمع کا ، تو لا محالہ منعِ خلو کے لیے ہوئی اذ لا رابع لھا۔ اور متعین کہ جمع مراد نہیں ورنہ تردید بلا فائدہ ، اور مُقیمِ جمعہ کا اذن تو منصوص علیہ ، پس “منعِ خلو مقید بجانب التالی” کے سوا کوئی وجہ نہ رہی۔ جس کا مفاد “اذنِ مُقیمِ جمعہ” کا لزوم ہوا اور تردید کا اجراء مقدم میں۔۔۔ اور شاید اسی وجہ سے رد المحتار میں اکتفاء بر تالی فرمایا ، بہر حال صورت اس کی یوں بن سکتی ہے کہ:

اقامتِ جمعہ کے لیے پہلی بار اذنِ امام لازم ، بعد ازاں اذنِ مقیم لازم وان نھی الامام عن اقامۃ الجمعۃ ولعل کلام الامام ابی جعفر ینظر الی ھذا حیث قال: “فأما إذا نهاهم متعنتاً، أو إضراراً بهم، فلهم أن يجتمعوا على رجل يصلي بهم الجمعة” ولا یخفی علی عاقل دون فاضل ان الاذن لا یبقی مع النھی الصریح الا ان یقال ان الاذن اذ وجد اول اقامتہا فقد حصل بہ الغرض واما بعد ذلک فلا بد من اذن المقیم ولا عبرۃ لاذن الامام ، نعم لو نہی عن اجتہاد صحیح وسبب شرعی نفذ نہیہ والا لا عبرۃ لنہیہ مع اذن مقیمھا وہذا ما ظہر لی اخذا من کلماتہم ولعل عند غیری احسن من ہذا واللہ جل وعز اعلم۔

ونظیرہ ما قال العلامة ابن جرباش : إن إذن السلطان أو نائبه إنما هو شرط لإقامتها عند بناء المسجد ثم بعد ذلك لا يشترط الإذن لكل خطيب۔ (44)

وقد رفع للشیخ الامام ابن الشلبی الحنفی تغمدہ اللہ تعالی برحمتہ سوال صورتہ:

ما قولکم فی ثغر من ثغور الاسلام فیہ جوامع ولہا خطب ولمیکن لاحد منہم اذن صریح من السلطان فہل تصح خطبتہم ام لا مع ان السلطان عالم بوجود الثغر المذکور وبجوامعہ المذکورۃ وبان فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد فہل ذلک اذنا منہ دلالۃ ام لا وہل یستغنی بذلک عن الاذن الصریح ام لا فما حکم اللہ فی ذلک فان بعض الناس منکر صحۃ ذلک ویدعی ان صلاۃ جمیع اہل الثغر باطلۃ فما ذا یجب علیہ فی ذلک فانہ افسد عقائد الناس فی ھذہ المسئلۃ افتونا ماجورین وابسطوا لنا الجواب ۔

فکتب علیہ الشیخ الامام رحمہ اللہ تعالی ما نصہ : الحمد للہ امور المسلمین محمولۃ علی السداد وعبادتہم مبناھا علی الصحۃ لا الفساد وقد جرت العادۃ قدیما وحدیثا فی الدیار المصریۃ وغیرھا من البلاد کالمملکۃ الرومیۃ والثغور السلامیۃ بان من انشا جامعا او اراد اقامۃ الجمعۃ استاذن الامام وھذا امر فاش لا یقبل قول من منعہ واذ وجد الاذن اول اقامتہا فقد حصل بہ الغرض والاذن بعد ذلک ولو تطاولت المدد وتغیرت البلاد لیس بمفترض َ اذا تقرر ھذا فلا ریب فی صحۃ صلاۃ الجمعۃ فیما ذکر من الثغور ولا یلتفت لقول المنکر اذ دعواہ باطلۃ وقولہ مہجور ۔ (45)

بنا بریں : مقیمِ جمعہ کی جانب سے اذن کے بعد حکومتی منع اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ مخصوص وہ مساجد جن کے سامنے پولیس اور رینجرز کی گاڑیاں کھڑی کر دی گئیں اور مکان کو صالح اذنِ عام نہیں رہنے دیا گیا ، ان میں قضیہ ضرورت کا اعمال یا حکومتی منع کے تعنت واضرار پر حمل کے بغیر اذنِ مقیم کے معنی متحقق نہ ہو پائیں گے۔ فلیتنبہ واللہ عز اسمہ اعلم

مزید برآں:

“اشتراطِ سلطان اور اذنِ عام” کی تعلیل بالتحرز عن تفويت الجمعۃ على الناس از خود مشعر کہ اگر جمعہ کئی جگہ قائم کیا جائے تو بعض مقامات پہ “منع” صحتِ جمعہ سے مانع نہ ہو گا۔ پھر اس امر کی تصریح علامہ ابن عابدین شامی نے بدیں الفاظ فرمائی:

قلت: وينبغي أن يكون محل النزاع ما إذا كانت لا تقام إلا في محل واحد، أما لو تعددت فلا لأنه لا يتحقق التفويت كما أفاده التعليل تأمل (46)

مراقی الفلاح میں ہے:

قلت اطلعت على رسالة العلامة بن الشحنة وقد قال فيها بعدم صحة الجمعة في قلعة القاهرة لأنها تقفل وقت صلاة الجمعة وليست مصرا على حدتها.

وأقول في المنع نظر ظاهر لأن وجه القول بعدم صحة صلاة الإمام بقفله قصره اختصاصه بها دون العامة والعلة مفقودة في هذه القضية فإن القلعة وإن قفلت لم يختص الحاكم فيها بالجمعة لأن عند باب القلعة عدة جوامع في كل منها خطبة لا يفوت من منع من دخول القلعة الجمعة بل لو بقيت القلعة مفتوحة لا يرغب في طلوعها للجمعة لوجودها فيما هو أسهل من التكلف بالصعود لها وفي كل محلة من المصر عدة من الخطب فلا وجه لمنع صحة الجمعة بالقلعة عند قفلها.(47)

علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی کی گفتگو بطورِ بحث ہے ، اور یہی حال علامہ حسن بن عمار کی گفتگو کا ہے۔ گو علامہ شامی کی بحث پر اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی نے بحث کی اور علامہ حسن بن عمار رحمہ اللہ تعالی کی بحث پر علامہ طحطاوی نے بحث کی ہے۔۔۔

جسکا مطلب یہ نکلتا ہے کہ: اگر متعدد جگہ جمعہ ہو اور بعض مقامات پہ اذنِ عام نہ ہو تو علامہ شامی وعلامہ حسن بن عمار شرنبلالی کی بحث کے مطابق اس مقام پہ جمعہ اداء کرنے والوں کی نماز بھی ہو جانی چاہیے۔ جبکہ علامہ طحطاوی واعلیحضرت کی بحث کے مطابق ہر جگہ اذنِ عام ضروری ہو گا۔

گفتگو اگرچہ جانبین سے بحثا ہے لیکن یہاں گفتگو چونکہ موضع ضرورت میں ہے ، لہذا اس قسم کی بحث کا سہارا لینے میں حرج نہیں ہونی چاہیے وهذا لأن حمل أمر المسلمين على الصحة واجب ما أمكن۔

نیز اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی نے بحث کے بعد اپنی تائید میں جو گفتگو پیش کی ہے اس میں منع “مُقیمِ جمعہ” کی طرف سے ہے ، جو مشعر کہ وضعِ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ : “جمعہ متعدد مقامات پر ہو رہا ہو اور بعض مقامات پہ مُقیمِ جمعہ کی طرف سے منع ہو”

اور اگر منع “مُقیمِ جمعہ” کی جانب سے نہ ہو تو اس سلسلے میں اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی اور طحطاوی رحمہ اللہ تعالی بھی خاموش ہیں۔۔۔۔

نظر بر آں: یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ: شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو اور بعض مقامات پہ اذنِ عام نہ ہو تو دیکھا جائے گا کہ:

منع مُقیمِ جمعہ کی طرف سے ہے یا غیر کی جانب سے۔۔۔

پہلی صورت میں علامہ شامی وعلامہ حسن بن عمار کی بحث کے مطابق منع مضر نہ ہو گا ، لیکن علامہ طحطاوی واعلیحضرت رحمہم اللہ تعالی کے نزدیک منع مضر ہو گا۔

بر خلاف صورتِ ثانیہ کے ، اس میں چونکہ مُقیمِ جمعہ کی جانب سے منع نہیں ہے لہذا اس میں منع مضر نہیں۔ سواء تعددت المواضع ام لا وھذا ما ظہر لی ولعل عند غیری احسن من ھذا

اس گفتگو کو بطورِ بحث لیجیے ، وان طال البحث لکن واللہ لم یخل عن فائدۃ بل اشتمل ورب الکعبۃ علی فوائد وتنبیہات کثیرۃ والحمد للہ جل وعز ، بہر حال: تحقیقِ امر یہ ہے کہ :

مطلق منع “اذنِ عام” کے منافی نہیں ، وہ منع اذن کے منافی ہو گا جو “منع عن الصلاۃ” ہو۔ بقولِ اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی : نفسِ نماز منع کی علت ہو یا لازم غیر منفک۔ اگر اس منعِ مخصوص کے علاوہ کوئی اور منع ہو تو وہ اذنِ عام کے منافی نہیں۔

مجمع الانھر پھر در مختار ، بہجۃ الفتاوی میں ہے:

فلا یضر غلق باب القلعۃ لعدو او لعادۃ قدیمۃ لان الاذن العام امر مقرر لاہلہ وغلقہ لمنع العدو لا لمنع المصلی (48)

فتح المعین میں ہے:

یشیر الی ان الجمعۃ بالقلعۃ صحیحۃ وان غلق بابہا لان الاذن العام مقرر لاہلہا وغلقہ لمنع عدو او عادۃ قدیمۃ لا للمصلی (49)

طحطاوی علی الدر میں ہے:

فلا يضر منع نحو النساء لخوف الفتنة (50)

طحطاوی میں حلبی سے ہے:

فلا بد من حملہ علی ما اذا منع الناس من الصلاۃ (51)

اعلیحضرت مولانا احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالی کی گفتگو ملاحظہ ہو:

ان المضر انما ھو المنع عن الصلاۃ ، ومعناہ ان تکون علۃ المنع ہی الصلاۃ نفسھا او لازمھا الغیر المنفک عنھا کالمنع کراھۃ الازدحام والمنع للفتنۃ لیس کذلک فکان کمنع المؤذی من دخول المساجد کما تقدم شرحا فان حقیقۃ المنع عن الایذاء لا عن ذکر اللہ تعالی فی المساجد ، فافھم (52)

فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا:

(اگر) وہ شخص فی الواقع شریر ومفسد و موذی ہے کہ اُس کے آنے سے اندیشہ فتنہ ہے جب تو ایسی ممانعت بھی مانع صحتِ جمعہ نہ ہوگی کہ قادح اذن عام (نماز) سے روکنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علماء خود فرماتے ہیں کہ موذیوں کو مساجد سے روکا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ روکنا کہ مطابق شرع ہے منافی اذن نہیں، اور اگر ایسا نہیں بلکہ یہ لوگ محض ظلماً بلاوجہ یا براہ تعصب روکتے ہیں تو بلاشبہ ان کا جمعہ باطل کہ ایک شخص کی ممانعت بھی اذن عام کی مبطل۔ (53)

جب منع لخوف الفتنۃ اذنِ عام میں قادح نہیں ، یونہی منع لخوف العدو قادح نہیں۔ بلکہ منع لخوف العدو تو بعض اوقات واجب ہے۔ جیسا کہ طحطاوی رحمہ اللہ تعالی نے حلبی سے نقل کیا:

اما اذا کان لمنع عدو یخشی دخولہ وھم فی الصلاۃ فالظاہر وجوب الغلق۔ (54)

تو منع لخوف انتشار فيروس كورونا المستجد(کوفید-١٩) بطریقِ اولی اذنِ عام میں قادح نہ ہو گا کہ اس کا ضرر لاکھوں گنا زیادہ۔

چونکہ یہ کلام خود ظاہر وواضح ہے ، اس لیے میں نے اس سے قبل کی گئی “گزارشات” میں صرف اتنا عرض کرنا کافی سمجھا کہ:

“عقلمند کے سامنے واضح کرنے کی حاجت نہیں کہ ما نحن فیہ میں علتِ منع نہ تو نفسِ نماز ہے اور نہ ہی اس کا لازمِ غیر منفک۔۔۔ علتِ منع پھیلتی ہوئی وبا کا خوف ہے۔۔۔۔”

بعض طلبہ شاید جماعتی تعصب میں آ کر کہہ گئے کہ “ہمارے علاقوں میں جن نمازیوں کو روکا جاتا ہے وہ لازم نماز یعنی بھیڑ سے ہی روکا جاتا ہے”

ایسے طلبہ سے پہلی گزارش ہے کہ “بھیڑ سے روکنے” اور “علتِ منع بھیڑ ہونے” میں فرق سمجھیں۔ نیز “لازم غیر منفک” کے معنی کو سمجھے بغیر عوام کو تشویش میں نہ ڈالیں۔

طلبہ کرام سے دوسری اور اہم گزارش ، اور یہ گزارش ان نوجوان علماء سے بھی ہے جو عوامی مسائل میں لکھنے اور ایسے مسائل بیان کرنے کا شوق رکھتے ہیں ، ان سے دست بستہ گزارش ہے کہ :

ضروری علوم کی تحصیل کے باوجود بزرگ علماء کی اجازت کے بغیر اس سمندر میں نہ اتریں۔ امام مالک رحمہ اللہ تعالی کو دیکھیں ، فرماتے ہیں:

ما أفتيت حتى شهد لي سبعون أني أهل لذلك (55)

اس منصب کی اہلیت کے لیے اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی کی مختصر اور جامع گفتگو سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے ، فرمایا:

حدیث و تفسیر واصول وادب وقدر حاجت ہیئت وہندسہ و توقیت اور ان میں مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظروافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغال دنیویہ سے فراغ قلب اور توجہ الی ﷲ اور نیت لوجہ ﷲ اور ان سب کے ساتھ شرط اعظم توفیق من اﷲ، جوان شروط کا جامع وہ اس بحر ذخار میں شناوری کرسکتا ہے مہارت اتنی ہو کہ اس کی اصابت اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رجوع سے عار نہ رکھے ورنہ اگر خواہی سلامت برکنار است۔ (56)

میں ان کلمات کو سپردِ قلم کرنے میں مصروف تھا کہ کسی دوست نے مفتی نظام الدین رضوی صاحب کا فتوی بھیجا ، جو باوجود اختصار کے راقم کی کلماتِ اخیرہ کے بالکل موافق نکلا ، دیکھتے ہی اللہ جل وعز کی حمد وثناء کی۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ومما يجب التنبه له قبل الختام ان فی امر العامۃ باداء الظہر حتما کما صدر من اخینا الفاضل زید مجدہ ودام اقبالہ مفسدۃ عظیمۃ مثل ما اشار الیہ المحقق ابن جرباش والنص کالتالی:

وهو اعتقاد الجهلة أن الجمعة ليست بفرض لما يشاهدون من صلاة الظهر فيظنون أنها الفرض، وأن الجمعة ليست بفرض فيتكاسلون عن أداء الجمعة (57)

ھذا ما عندی واللہ عز اسمہ اعلم

محمد چمن زمان نجم القادری

رئیس جامعۃ العین ۔ سکھر

8 شعبان المعظم 1441ھ / 2 اپریل 2020ء

(1): (یتیمۃ الدھر ص 83)

(2): (فتاوی ابن الشلبی ص9 ، رد المحتار 2/141 ، منحۃ الخالق 7/8)

(3): (التجنیس والمزید لصاحب الھدایۃ 2/210 ، 211)

(4): (فتح القدیر 2/129)

(5): (عقد الجید ص26)

(6): (الحدیقۃ الندیۃ 2/204)

(7): (فتاوی رضویہ 8/485)

(8): (فتاوی رضویہ 23/175)

(9) : https://web.facebook.com/muhammadchamanzaman.najmulqadri/posts/2492515817521074?tn=K-R

(10): (جامع المضمرات 128 ، فتاوی تاتارخانیۃ 2/554 ، 555 ، خزانۃ الروایات ص219 ، بحر الفتاوی لقاضی زادہ ص47)

(11): (جامع الرموز ص146 ، رد المحتار 2/138)

(12): (عیون المسائل للامام ابی اللیث السمرقندی ص30 ، فتاوی قاضی خان 1/84 ، خلاصۃ الفتاوی 1/208 ، التجنیس والمزید 2/200 ، الذخیرۃ 304 ، فتاوی تاتارخانیہ 2/556 ، فتاوی بزازیۃ 1/46 ، فتاوی والوالجیۃ 1/144 ، خزانۃ المفتین ص204 ، فتاوی سراجیہ 1/99 ، منحۃ السلوک للعینی 2/251 ، فتاوا غیاثیۃ ص40)

(13): (جامع الفتاوی للامام قرق امیر الحمیدی 1/178)

(14): (مختصر اختلاف العلماء 1/345)

(15): (مختصر اختلاف العلماء 1/346)

(16): (شرح مختصر الکرخی 1/82)

(17): (عیون المسائل للامام ابی اللیث السمرقندی ص30)

(18):(التجنیس والمزید لصاحب الھدایۃ 2/200 ، الذخیرۃ 304 ، فتاوی تاتارخانیہ 2/556 ، 557 ، فتاوی والوالجیۃ 1/144)

(19): (فتاوی قاضی خان 1/84 ، خزانۃ المفتین ص204 ، خلاصۃ الفتاوی 1/208)

(20): (مخزن الفقہ ص53 ، الحاوی القدسی 1/237)

(21): (مخزن الفقہ للاماسی ص53)

(22): (جامع الفتاوی للامام قرق امیر الحمیدی 1/178)

(23): (حلبی صغیر ص246)

(24): (الضیاء المعنوی علی مقدمۃ الغزنوی 1/87)

(25): (جامع المضمرات 129 ، خزانۃ الروایات ص 218)

(26): (فتاوی تاتارخانیہ 2/556)

(27): (فتاوای بزازیۃ 1/46)

(28): (شرح زاہدی بر قدوری 1/95 ، قنیۃ ص50)

(29): (شرح الزاہدی علی مختصر القدوری 1/96)

(30): (قنیۃ ص50)

(31): (خزانۃ الروایات ص219)

(32): (جامع الرموز ص147)

(33): (فتاوی سراجیہ 1/99)

(34): در مختار ص108

(35): (رد المحتار 2/138)

(36): (جامع المضمرات 129 ، فتاوی تاتارخانیہ 2/556 ، الفتاوی الصوفیۃ ص 131 ، خزانۃ الروایات ص 218)

(37): (فتاوی قاضی خان 1/86 ، فتح القدیر 2/51 ، خلاصۃ الفتاوی 1/208 ، البنایۃ 3/78 ، فتاوی تاتارخانیۃ 2/580 ، البحر الرائق 2/157 ، المحیط البرھانی 2/87 ، الفتاوی الھندیۃ 1/146 ، حلبۃ المجلی 2/538)

(38): (النھر الفائق 1/357)

(39): (فتاوای بزازیہ 1/46)

(40): (خزانۃ المفتین ص205)

(41): (رد المحتار 2/143)

(42): (رد المحتار 2/152)

(43): (الھدیۃ العلائیۃ ص119)

(44): (البحر الرائق 2/156 ، بحر الفتاوی ص47 ، الدر المختار ص108)

(45): (فتاوی الشیخ احمد بن یونس الشہیر بابن الشلبی ص 9 ، 10)

(46): (رد المحتار 2/152)

(47): (مراقی الفلاح ص194)

(48): (مجمع الانھر 1/166 ، در مختار ص109 ، بہجۃ الفتاوی ص23)

(49): (فتح المعین علی شرح ملا مسکین 1/316)

(50): (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر 1/344)

(51): (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر 1/344)

(52): (جد الممتار 2/ 518 ، 519)

(53): (فتاوی رضویہ ج8ص 290 ، 291)

(54): (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر 1/344)

(55): (حلیۃ الاولیاء 6/316 ، تزیین الممالک للسیوطی ص26)

(56): (فتاوی رضویہ18/590)

(57): (البحر الرائق 2/155 ، بحر الفتاوی ص48)