باطنی منہاجی یاسین رافضی کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ علامہ پیر سید مظفر حسین شاہ صاحب مدظلہ العالی کو صرف اس وجہ سے کاٹ رہا ہے کہ شاہ صاحب دفاع و شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھی بیان بھی کرتے ہیں۔

نیز کہتا ہے: کہ میں انہیں ” سید ” ہی نہیں مانتا کیونکہ یہ آل رسول کے دشمنوں کے قصیدے پڑھتے ہیں وغیرہا

اقول: ظاہری بات ہے کہ مولوی یاسین رافضی کا اشارہ یہاں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ مظفر شاہ صاحب یزید پلید کی تو بات ہی نہیں کرتے ، لہذا مولوی یاسین سے پوچھنا تھا: کہ اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کرنے والا ، آپ کی شان آپ کے فضائل و مناقب بیان کرنے والا اگر تمہارے نزدیک “سید” نہیں ، تو زیر نظر کتاب کے ٹائیٹل کو ذرا آنکھوں سے ایرانی چربی ہٹا کر دیکھ لو ، کہ کتاب کا نام ہے

” تصحیح العقیدة فی باب امیر المعاویة”

👈اس کے مصنف تاج الفحول حضرت شاہ عبدالقادر قادری بدایونی علیہ الرحمہ ہیں جو اہل سنت میں معروف ہیں

👈اس کو مرتب کرنے والے “مولانا شاہ سید حسین حیدر حسینی قادری مارہروی صاحب” اور مترجم مولانا سید شاہ حسین گردیزی چشتی صاحب” ہیں ۔

اب یہ ہر دو حضرات ہی ” سید” ہیں اور کتاب کا موضوع و مختصر فہرست سامنے ، جس میں شان و دفاع معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیان بھی ہے ، تو کیا مُلّاں یاسین رافضی کے نزدیک یہ دونوں حضرات بھی ناصبی اور غیر سید قرار پائیں گے؟ یا پھر ایرانی ہڈیاں مخصوص سُنیوں کو کاٹنے کیلئے کھائی جاتی ہیں ؟

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

6/7/2020ء