تحریر ۔محقق زمان مفتی محمد چمن زمان نجم القادری

ہمارے ایک دوست ہیں راحیل نام کے ، اسکول میں ٹیچر ہیں۔ ذاتی کردار جیسا بھی ہے ، لیکن جب بھی سنیے دوسروں کی کردار کشی میں مصروف ، اور مذہبی طبقہ سے تو جیسے انہیں خدا واسطے کا بیر ہو ، ہر بات پر اعتراض اور ہر شخص کی برائی۔۔۔۔

بارہا سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمیشہ دوسروں کو کوسنے دینے سے اپنے نفس کو تو تسکین دی جا سکتی ہے لیکن معاشرے میں کسی قسم کی بہتری نہیں آ سکتی ، بہتر ہے کہ آپ دوسروں کو برا بھلا کہنے کے بجائے خود کچھ کر دکھائیں ، جن مذہبی شخصیات پر آپ کو اعتراض ہے اپنی گفتگو کو انہی تک محدود رکھیں ، انہیں بہانہ بنا کر مذہب کے بارے میں الٹا سیدھا نہ بولا کریں ، لیکن بار بار کا سمجھانا بھی کارگر نہ ہو سکا۔

چند دن پہلے ان کے گھر جانا ہوا تو سخت برہم بیٹھے ہیں ، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ پڑوسیوں نے قربانی کے لیے کوئی گائے وائے خریدی ہے اور وہ شور کرتی ہے جس سے موصوف پریشان ہیں۔۔۔۔

برہمی کا سبب معلوم ہونے پر میں ہنسنے لگ گیا ، جس پر وہ مزید آگ بگولا ہوئے۔۔۔

لوگوں کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں ، رہنے کو گھر نہیں ، کھانے کو روٹی نہیں ، علاج کے لیے پیسہ نہیں ، جوان بچیوں کی شادیاں نہیں ہو پا رہیں ، اور تم لوگوں کو قربانی کی پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔ اگر تم قربانی کے نام پہ اڑانے والا پیسہ کسی غریب کو دے دو تو اس کے بیسیوں کام بن جائیں ، لیکن اس سے لوگوں کو کیسے پتہ چلے گا کہ حاجی صاحب نے ایک لاکھ روپے کا جانور قربان کیا ہے؟؟؟ صرف اپنے نام ونمود کی خاطر تم لوگ دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہو اور۔۔۔۔

ابھی ان کا جملہ نامکمل تھا کہ پڑوسیوں کی گائے نے از سرِ نو ان کی سمع خراشی شروع کر دی۔۔۔۔

وہ جھنجھلا کر رہ گئے اور میں چاہتے ہوئے بھی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکا۔۔۔

میں نے موضوع بدلتے ہوئے کہا:

کچھ دیر کے لیے پارک چلتے ہیں ، آپ کو گائے کے شور سے بھی نجات مل جائے گی اور میں کچھ مشورہ بھی کرنا چاہتا ہوں وہ بھی ہو جائے گا۔۔۔

پارک پہنچنے تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں جن سے ان کا موڈ کافی فریش ہو چکا تھا ، پارک میں پہنچ کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے ہم بیٹھ گئے اور میں نے سلسلہء گفتگو اپنے مقصد کی طرف موڑتے ہوئے کہا:

ایک غیر ملکی آرگنائزیشن تقریبا 2 ارب روپے تک کی رقم پاکستانی غریبوں پر لگانا چاہتی ہے ، آرگنائزیشن پریزیڈنٹ میرے بہت اچھے دوست ہیں ، اس لیے انہوں نے اس بارے میں مجھ سے مشورہ مانگا اور امید ہے جیسے میں ان سے کہوں گا وہ اس کو مان بھی لیں گے۔۔۔

آپ کیا کہتے ہو کیسے کیا جائے؟

میں نے راحیل صاحب کو سوچنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا۔

راحیل صاحب کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئے ، پھر کہنے لگے:

2 ارب روپے۔۔۔

مطلب اگر ہم پاکستان کے صرف 40 لاکھ غریبوں میں بھی بانٹیں تو ہر شخص کو صرف 500 روپے ملیں گے۔۔۔ 20 لاکھ لوگوں میں بانٹیں تو 1000 روپے۔۔۔ غریب کو زیادہ فائدہ تو نہ ہوا۔۔۔۔

راحیل صاحب نے خود اپنی ہی تجویز پہ عدمِ اعتماد ظاہر کرتے ہوئے جواب دیا۔

آپ کیا کہتے ہو؟

راحیل صاحب نے مجھ سے پوچھا؟

مجھے اندازہ ہوتا تو میں آپ سے مشورہ مانگنے کیوں آتا؟

میں نے جوابا کہا۔

بڑے بھائی یہ پھولوں کا گجرا لے لو۔۔۔

ابھی میرا جملہ مکمل ہوا ہی تھا کہ ایک لڑکا پھولوں کے گجرے بیچتا ہمارے سامنے پہنچ چکا تھا۔۔۔

بڑے بھائی یہ گجرا لے لو۔۔۔

اس نے دوبارہ کہا۔

راحیل صاحب نے جیب سے دس روپے نکالے اور اسے تھماتے ہوئے کہا:

گجرا نہیں چاہیے ، یہ لے لے اور جا ، ڈسٹرب نہ کر۔۔۔۔

بڑے بھائی خیرات لیتے ہوئے اچھا محسوس نہیں ہوتا ، اگر آپ گجرا لیتے ہیں تو میں دس روپے رکھ لیتا ہوں ورنہ مجھے دس روپے نہیں لینے۔۔۔

لڑکے نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔۔۔

گجرا کتنے کا ہے؟

راحیل صاحب نے پوچھا۔

ہے تو پندرہ روپے کا لیکن آپ دس کا لے لیں۔۔۔!!!

لڑکے نے اپنی عمر سے کہیں بڑھ کر جواب دیا۔۔۔

راحیل صاحب لے لو ، کبھی ہماری بھابھی کا ہی خیال کر لیا کرو۔۔۔

میں نے مزاحا کہا۔

لیکن راحیل صاحب نے میری بات کی طرف توجہ کرنے کے بجائے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔۔۔

ابا کیا کرتے ہیں تمہارے؟

راحیل صاحب نے اس لڑکے سے پوچھا۔

کھیتی باڑی کرتے ہیں ، لیکن اس دفعہ گندم کا ریٹ کم تھا تو اب تک بکی نہیں ، اس لیے میں نے کام شروع کر دیا۔ صبح کو اسکول کے سامنے چنے بیچتا ہوں اور شام کو پھول۔۔۔

لڑکے کی بات سن کر ہم دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

راحیل صاحب نے لڑکے کو 300 روپے دے کر اس کے ہاتھ میں موجود سارے گجرے لے لیے جو کل 20 تھے۔

اس کا مطلب ہے کہ قینچی کی طرح چلتی زبان کے پیچھے بھی ایک انتہائی نرم دل ہو سکتا ہے؟؟؟

میں نے راحیل صاحب کی بچے سے ہمدردی دیکھ کر مذاق کیا۔

لیکن راحیل صاحب سوچ کی کسی گہری وادی میں اتر چکے تھے۔۔۔

غریب آدمی کا مال خرید لیا جائے تو یہ بھی اس کی بہت بڑی مدد ہے ، ورنہ اس کا چولہا بند ہو جاتا ہے اور اس کے بچے باپ کے جیتے جاگتے یتیم ہو کر رہ جاتے ہیں۔۔۔۔

راحیل صاحب کے جذبات ان کے الفاظ کا روپ دھار رہے تھے۔

سنو!!!

راحیل صاحب نے مجھے متوجہ کیا۔۔۔

اگر تم آرگنائزیشن پریزیڈنٹ کو مشورہ دو کہ وہ ان غریبوں کی گندم خرید لے جن کی فصلیں بکنے سے رہ گئی ہیں ، یہ کیسا رہے گا؟؟؟

راحیل صاحب کی آنکھوں میں چمک اتر آئی تھی۔

گندم خرید لے؟؟؟

کیا مطلب؟؟؟

وہ لوگ 2 ارب روپے غریبوں پر لگانا چاہتے ہیں اور میں ان سے کہوں کہ گندم خرید لو۔۔۔!!!

گندم کو خرید کر آرگنائزیشن اس کا کرے گی کیا؟

میں نے حیرت سے پوچھا۔

دیکھ بھئی! تو بھی موٹی عقل کا ہے ناں۔۔۔

اب کی بار راحیل صاحب نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔

اگر ایک شخص کے پاس 50000 روپے کی گندم ہو تو 2 ارب روپے میں 40000 لوگوں کی گندم خریدی جا سکتی ہے۔ 40000 لوگوں کا مطلب 40000 گھر ، ایک گھر میں 10 افراد ہوں تو 400000 لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوئیں۔ اب وہ گندم لگ بھگ 500000 بوری بنے گی ، جسے اٹھانے کے لیے ہزاروں مزدوروں کی ضرورت ہو گی ، ہر مزدور ایک ایک گھر ضرور سنبھالے ہو گا ، اس طرح ہزاروں گھروں کا چولہا جلے گا۔ تم اس گندم کو گاڑیوں پر رکھ کر شہر لاؤ گے ، گاڑیوں کے ڈرائیورز اور مالکان کو فائدہ ، یہ فائدہ بھی ہزارہا لوگوں کا ہے ، نہ جانے کتنے چولہے جلنے کا سامان ہو جائے گا۔ شہر میں لا کر بیچنے سے لے کر اس کے ملز میں پہنچنے اور واپس لوگوں کے ہاتھوں تک جانے میں لکھوکھا لوگوں کا فائدہ ہو گا۔۔۔ 2 ارب روپے 2 ارب نہیں کھربوں روپے بن جائیں گے اور لاکھوں غریبوں کے چولہے جلیں گے ، باقی تیری مرضی ہے تو چند ہزار لوگوں کو بلا کر اپنا اور آرگنائزیشن پریزیڈنٹ کا نام بڑا کرنے کے لیے پندرہ پندرہ بیس بیس ہزار روپے انہیں تھما دے ، پیسے بھی بٹ جائیں گے اور تمہارا نام بھی بڑا ہو جائے گا۔۔۔۔ لیکن اگر تم سچ میں ملک وقوم کا بھلا چاہتے ہو تو میں نے تمہیں لاکھ روپے کا مشورہ دیا ہے۔۔۔!!!

راحیل صاحب نے فیصلہ کن انداز میں گفتگو ختم کرتے ہوئے کہا۔

بات مجھے بھی اچھی لگی لیکن ضروری نہیں کہ ہر اچھی بات پہ آسانی سے عمل بھی ممکن ہو ، اور ویسے بھی آرگنائزیشنز کی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں ، بہر حال میں نے راحیل صاحب کی بات کے جواب میں کہا:

مشورہ دے کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہ لوگ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔

آپ صرف مشورہ نہ دو ، پریزیڈنٹ تمہارا دوست ہے اسے فورس کرو ، بھئی اس میں غریبوں کا بھی بہت بڑا فائدہ ہے اور ملکی معیشت کا بھی ، صرف پیسے بانٹ دینے سے اتنا فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔

راحیل صاحب نے اپنی بات پہ زور دیا۔

راحیل صاحب کی بات سن کر میں کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گیا اور وہ میرے جواب کے انتظار میں ٹکٹکی باندھ کر میرے چہرے کو دیکھنے لگ گئے۔۔۔

ویسے ایک بات کہوں؟

میں نے موضوع سے ہٹتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔

ضرور۔۔۔

راحیل صاحب نے جوابا کہا۔

سنجیدہ لو تو۔۔۔

میں بولا۔

راحیل صاحب سنبھل کر بیٹھتے ہوئے بولے: آپ کہو!

میں نے سلسلہء گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا:

آپ ایک اسکول ٹیچر ہو ، مجھے معلوم نہیں کہ اپنی ذمہ داری کس قدر پوری کرتے ہو ، لیکن آج کی تمہاری گفتگو سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ مذہب کو کبھی تم نے سنجیدہ نہیں لیا ، ہمیشہ نفرت کی نظر سے دیکھا ، مذہبی تعلیمات میں چھپے انسانی فائدوں کو سمجھنے کے بجائے اپنی کم عقلی کے ترازو میں رکھ کر ہمیشہ زبانِ اعتراض کھولے رکھی ، آپ کتنے منصف مزاج ہو اس کا تو مجھے اندازہ نہیں لیکن مذہب کے معاملے میں آپ سخت غیر منصف اور متعصب انسان ہو۔۔۔۔

میں بول رہا تھا اور راحیل صاحب حیرت بھرے انداز میں مجھے دیکھ رہے تھے ، خاموش ہوتا دیکھ کر بولے:

اب کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں بجھواتے رہو گے؟

میں نے سلسلہء گفتگو بڑھاتے ہوئے کہا:

اسلام میں زکوۃ ، صدقہء فطر ، عشر ، دیگر نفلی وواجبی صدقات وخیرات کا سلسلہ موجود ہے ۔ مطلب ضرورت مند کی مختلف قسم کی ضرورتوں کو مختلف طریقوں سے پورا کرنے کا مکمل نظام ہے ، اور آپ نے اس سارے نظام کو پسِ پشت ڈال کر قربانی پر ہی تنقید کی ، آپ صرف قربانی ہی کو سامنے رکھیں:

ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں لگ بھگ 150 ارب روپے کے قربانی کے جانور خریدے گئے۔ یہ 150 ارب اگر ہم غریبوں میں بانٹیں اور ہر ضرورت مند کو پچاس پچاس ہزار روپے دیں تو یہ امداد صرف 3000000 گھروں تک پہنچے گی ، اور لینے والا ہر بندہ اپنی عزت بھی محسوس نہیں کرے گا جیسے اس لڑکے نے دس روپے لینے میں عزت محسوس نہیں کی۔۔۔۔

اس کے بجائے جو جانور خریدے گئے ان کی تعداد (Pakistan Tanners Association (PTA) کے اندازے کے مطابق ستر لاکھ کے لگ بھگ تھی ، اگر اوسطا ایک گھر کے ساتھ دو جانوروں کا تعلق جوڑا جائے تو 3500000 گھروں کے جانور بکے جس سے ان کو فائدہ پہنچا۔۔۔

پھر ان ستر لاکھ جانوروں کو لانے لے جانے کے لیے لاکھوں گاڑیوں کی ضرورت پڑتی ہے ، مطلب عید کے موقعے پر گاڑیوں والے بھی اربوں کا کام کرتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔۔۔

اربوں روپے کا چارے کا کاروبار ہوتا ہے۔۔۔۔

کئی ارب روپے میں کھالیں بکتی ہیں ، چلتے چلتے یہ 150 ارب کئی کھرب میں بدل جاتے ہیں۔ جانور پالنے والے دیہاتی کماتے ہیں ، گاڑیوں میں جانور لاد کر لانے لے جانے والے کماتے ہیں ، چارہ بیچنے والے کسان کماتے ہیں ، غریبوں کو کھانے کے لیے مہنگا گوشت بالکل مفت ملتا ہے ، کھالوں کے ذریعے فلاحی اداروں کی مدد ہوتی ہے ، چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملتا ہے ، جس جس نے یہ پیسہ کمایا اسے اپنی ضروریات میں خرچ کرے گا تو نہ جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوبارہ ہو گا ، مطلب یہ قربانی غریب کو صرف گوشت نہیں کھلاتی ، بلکہ آئنده سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست کر دیتی ہے ، دنیا کا کوئی ملک کروڑوں روپے کا ٹیکس لگا کر بھی غریب اور ملک کو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا جو فائدہ اللہ کریم کا ایک حکم ماننے سے ملک وقوم کو پہنچتا ہے۔۔۔!!!

میں کہہ رہا تھا اور راحیل صاحب سر جھکائے سن رہے تھے۔۔۔

میری بات مکمل ہوئی تو کچھ دیر تک دونوں جانب سے خاموشی رہی ، پھر راحیل صاحب نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:

چلتے ہیں ، وقت کافی ہو گیا ہے اور تم نے نماز بھی پڑھنا ہو گی۔۔۔

میں نے خاموشی برقرار رکھی اور ساتھ چل پڑا ، پارک سے نکل کر تھوڑا ہی چلے ہونگے کہ راحیل صاحب بولے:

کونسی مسجد میں نماز پڑھو گے؟

میں نے سامنے والی مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ادھر ہی پڑھ لیتا ہوں۔۔۔

اگلے لمحے میری حیرت کی انتہاء نہیں رہی جب راحیل صاحب نے مجھ سے پہلے ہی مسجد کی طرف رخ پھیر لیا۔ لیکن میں نے اس حیرت کو زبان پہ آنے سے روکے رکھا ، مسجد پہنچ کر وضوء کیا اور میرے ساتھ ساتھ راحیل صاحب نے بھی نماز اداء کی۔ نماز کے بعد میری طرف چہرہ موڑ کر بیٹھ گئے اور بولے:

تو ٹھیک کہتا ہے یار۔۔۔

میں غلط تھا۔۔۔

تو نے جب مجھے متعصب اور نہ جانے کیا کیا بولا تھا تو مجھے سخت برا لگا تھا ، لیکن اب میں سمجھ رہا ہوں کہ تم ٹھیک کہہ رہے تھے۔ دین دین ہے یار ، ہماری عقلوں سے بڑا۔۔۔

میں نے ہمیشہ ایک پاؤ گوشت کو دیکھا جس کا خاص فائدہ سمجھ نہیں آتا تھا ، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ایک پاؤ گوشت کا مسئلہ نہیں ، پورے ملک وقوم کی معیشت کا مسئلہ ہے۔۔۔

حیرت ہے یار ایک معمولی سے کام میں ملک وقوم کا اتنا بڑا فائدہ۔۔۔

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد راحیل صاحب پھر بولے:

یہ مسئلہ سچے دین ہی کا ہو سکتا ہے ، بندوں کے بنائے ہوئے مذہب میں اتنی بڑی حکمت نہیں ہو سکتی ، بندے تو میری طرح ہوتے ہیں گائے کی آواز پہ برہم ہو کر دین پر اعتراض کرنے والے۔۔۔

راحیل صاحب کہتے جا رہے تھے اور میری آنکھوں میں اپنی کوشش میں کامیابی پر خوشی کے آنسو تیر رہے تھے۔۔۔

میں نے راحیل صاحب کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے ، بولے:

نماز تو میں نے پڑھ لی ہے لیکن تجھے گواہ بنا کر توبہ بھی کرتا ہوں اور نئے سرے سے کلمہ بھی پڑھتا ہوں ، کیونکہ بیوقوفی میں الٹی سیدھی باتیں بہت سی کی ہیں ، نہ کبھی کسی نے ڈھنگ سے سمجھایا اور نہ ہی میں نے سمجھنے کی کوشش کی ، آج اپنے ہی دئیے ہوئے مشورے نے آنکھیں کھول دی ہیں ، اللہ کریم مجھے معاف فرمائے ، تم بھی میرے لیے دعا کرو۔۔۔۔

راحیل صاحب کے کہنے پر میں نے دعا کے لیے ہاتھ تو اٹھا لیے لیکن دل بار بار کہہ رہا تھا کہ اس لمحے راحیل سے دعا لینی چاہیے۔ کیونکہ اس لمحے راحیل کا دل جس کیفیت میں تھا ، یہ کیفیت اللہ جل وعلا کے دربار میں انتہائی محبوب ہے۔۔۔

✒ چمن زمان

رئیس جامعۃ العین۔ سکھر

04 ذو الحجہ 1439ھ / 16 اگست 2018