دیکھنے کو نظر چاہیئے

سالک جب مقام فناء پہ پہنچتا ہے تو اس کی ذات تو وہی رہتی ہے لیکن صفات بدل جاتی ہیں۔ پہلے مرتبہ میں یہ صفات شیخ ومرشد کی صفات سے بدلتی ہیں۔ دوسرے مرتبہ میں سالک کی صفات بشریہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفات سے بدلتی ہیں اور فناء کا تیسرا اور آخری مرتبہ جو سائرین کی سیر کا منتہی کہلاتا ہے ، اس مرتبہ میں سالک کی ایک ایک صفت اٹھنے کے ساتھ اس کی جگہ صفت الہیہ لیتی رہتی ہے ، یہاں تک کہ حق اس کی سمع وبصر ، دست وزبان بن جاتا ہے اور حدیث "کنت سمعہ الذی یسمع بہ الحدیث” اسی معنی کی طرف اشارہ فرما رہی ہے۔

ان مراتب ثلاثہ میں سے دوسرے مرتبہ کو مقام "فناء فی الرسول” کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال سمجھنی ہو تو سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ان فرامین عالیہ کو دیکھیں جن میں وہ سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بابت فرماتی ہیں:

أقبلت فاطمة تمشي كأن مشيتها مشي النبي صلى الله عليه وسلم

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آئیں ، ان کا چلنا ایسا تھا جیسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا چلنا۔

(صحیح البخاری 3623)

الادب المفرد وغیرہ میں ہے:

ما رأيت أحدا من الناس كان أشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم كلاما ولا حديثا ولا جلسة من فاطمة

میں نے لوگوں میں سے کسی کو نہ دیکھا جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھ کر گفتگو میں ، بات چیت میں ، بیٹھنے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مشابہ ہو۔

(الادب المفرد 947 ، السنن الکبری للنسائی 9192)

جامع ترمذی وغیرہ میں ہے:

ما رأيت أحدا أشبه سمتا ودلا وهديا برسول الله في قيامها وقعودها من فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم

میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھ کر کسی کو نہ دیکھا جو اٹھنے بیٹھنے کے طریقہ ، ہیئت وانداز میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مشابہ ہو۔

(سنن الترمذی 3872 ، مستدرک علی الصحیحین 7715 ، السنن الکبری للنسائی 8311)

قال الذھبی: علی شرط البخاری ومسلم

معجم اوسط میں ہے:

ما رأيت أحدا من خلق الله أشبه برسول الله صلى الله عليه وسلم دينا، ولا جلسة، ولا مشية من فاطمة

میں نے سیدہ فاطمہ زہراء سے بڑھ کر مخلوق خدا سے کسی کو نہ دیکھا جو دین میں ، بیٹھنے اور چلنے کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مشابہ ہو۔

(المعجم الأوسط 4089)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جگر کا ٹکڑا ہونے کے ساتھ ساتھ مقامِ فناء پہ بھی فائز تھیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا مقام فناء پہ محدود تھیں ، مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ، بلکہ یہ کہوں گا کہ : سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے عظیم مقامات میں سے ایک مقام مقام فناء فی الرسول بھی تھا۔

اور سالک کے حق میں اس مقام کی لطافت سمجھنی ہو تو حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا وہ خواب ملاحظہ ہو جو آپ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کی بابت دیکھا اور کشف المحجوب شریف میں ذکر فرمایا ، (اس کلام کی طرف میری توجہ حضرت علامہ قاری شرف الدین مصباحی صاحب زید مجدہ صدر جمعیت علمائے اہلسنت ، آفس انچارج الجامعۃ الاشرفیۃ ممبئی انڈیا نے مبذول کرائی ، فجزاہ اللہ تعالی من احسن ما اعد لعبادہ المخلصین۔) حضور داتا صاحب فرماتے ہیں:

و من که علی بن عثمان الجلابی ام وفقّنی الله بشام بودم بر سر روضہ بلال مؤذن خفته بودم ، خود را بمکه دیدم اندر خواب ، که پیغمبر صلّی الله علیه و سلمّ از باب بنی شَیبه اندر آمد و پيری را در کنار

گرفته ؛ چنانکه اطفال را گيرند بشفقتی ، پیش وی دویدم و بر پشت پایش بوسه دادم و اندر تعجب آن بودم تا آن پیرکیست

وی بحکم اعجاز بر باطن و اندیشۀ من مشرف شد ، مرا گفت:

این امام تست واہل دیار تو یعنی ابو حنیفہ

حاصلِ_گفتگو یہ کہ:

میں علی بن عثمان جلابی شام میں موذنِ رسول جنابِ بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے روضہ مقدسہ کے سرہانے سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو مکہ مشرفہ میں دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم باب بنی شیبہ سے اندر تشریف لائے اور ایک بزرگ کو گود میں لیے ہوئے تھے جیسے بچوں کو شفقت سے اٹھایا جاتا ہے۔ میں نے دوڑ کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدمینِ شریفین کی پشت کا بوسہ لیا اور حیرت میں پڑ گیا کہ یہ بزرگ کون ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم معجزانہ شان سے میرے دل اور میرے خیال پر مطلع ہو گئے ، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

یہ تمہارے اور تمہارے اہلِ علاقہ کے امام یعنی ابو حنیفہ ہیں۔

(کشف المحجوب قلمی ص125)

اس خواب کو بیان کرنے کے بعد حضور سیدنا داتا علی ہجویری رحمہ اللہ تعالی نے جو تبصرہ کیا ، اس تبصرہ کی مہک سے اہلِ ایمان کے مشامِ جان معطر ومشکبار ہو جاتے ہیں۔ فرمایا:

و مرا بدان خواب امیدی بزرگ است وبا اهل شهرخود ہم و درست شد از این خواب مرا که وی یکی از آنان بوده است که از اوصاف طبع فانی بودند و باحکام شرع باقی و بدان قایم؛ چنانکه برندۀ وی پیغمبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بودہ است ، واگر وی خود رفتی باقی الصفۃ بودی و باقی الصفۃ یا مُخطی بود یا مُصیب چون برندۀ وی پیغمبر بود علیه السلّام فانی الصفۃ باشد وقائم ببقای صفت پیغمبر علیه السلّام

و چون بر پیغمبر علیه السلّام خطا صورت نگيرد ، بر آن که بدو قایم بود نیز صورت نگيرد . این رمزی لطیف است

یعنی اس خواب سے مجھے اپنے اور اپنے اہلِ شہر کی بابت بڑی امید بندھ گئی اور اس خواب سے مجھ پر یہ بھی منکشف ہو گیا کہ:

امام اعظم ابو حنیفہ ان ہستیوں سے ہیں جو اپنے طبعی اوصاف سے فانی ہو چکے ہیں اور احکام شرع سے باقی اور انہی سے قائم ہیں۔ کیونکہ آپ کو لے جانے والے خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں۔ اگر آپ خود جاتے تو "باقی الصفت” ہوتے اور "باقی الصفت” (مجتہد) یا خطا پہ ہوتا ہے یا درستی پہ۔

جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو لے جانے والے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں تو جنابِ امام ابو حنیفہ اپنی صفات سے فانی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفات کے ساتھ باقی ہوئے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خطا کا تصور نہیں تو (جو شخص مقامِ فناء فی الرسول کو پہنچ چکا اور ) جس کا قیام صفاتِ رسول سے ہو اس سے بھی خطا کا تصور نہیں۔

فرمایا: یہ لطیف رمز ہے۔

(کشف المحجوب قلمی ص126)

حضور داتا گنج بخش رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ تبصرہ واستدلال عجیب معنویت ولطافت کا مظہر ہے۔ یعنی مقامِ اجتہاد کے پیشِ نظر خطا وصواب دونوں کا تعلق جنابِ امام اعظم سے ہو سکتا تھا ، لیکن اب جبکہ مقامِ فناء بھی مل چکا تو اب جس میں فانی ہیں ان سے خطا کا تصور نہیں تو جو فانی ہے اس سے خطا کا تصور کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔

داتا صاحب کی گفتگو تو حضرت امام کے بارے میں ہے ، لیکن جس ذاتِ والا کے ذکر سے ہم اپنے ایمان کی جلاء کا سامان کر رہے تھے ، وہ ذاتِ عالیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی لختِ جگر ہیں۔ جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی سے مجتہد ہونے کے باوجود مقامِ فناء کی برکت سے خطا کا تصور نہیں تو سیدہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا جن کا مقام فناء بعد والے تمام اولیاء واکابر کے مقامِ فناء سے کہیں برتر وبالا ہے ، آپ سے خطا کیسے متصور ہو سکتی ہے؟؟؟

دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ :

اگر محض مقام اجتہاد کو دیکھا جائے تو امر مسلم کہ اس مقام پہ خطا وصواب دونوں کا احتمال ہے ، لیکن مجتہد جب مقام فناء تک پہنچ جائے تو اس مقام کا تقاضا یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خطا کا صدور متصور نہیں ، تو جو شخص آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفات کا مظہر بنے اس سے بھی خطا کا صدور متصور نہ ہو ، کیونکہ اس مقام پہ اس کی ذات سے ظاہر ہونے والی صفات اس کی اپنی نہیں ہوتیں بلکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ہوتی ہیں۔ اور یقینا یہ مقام سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بطریق اتم واکمل حاصل ، لہذا آپ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی خطا کا صدور غیر متصور۔

آج کل ایک مخصوص طبقہ نے عوام کو مغالطہ دینے کے لیے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ "اگر سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے خطا کا صدور نہ مانا جائے تو آپ کے لیے انبیاء کا درجہ یا اس سے بڑا درجہ ماننا لازم آئے گا”

اس مقام پہ اس بابت زیادہ تو نہیں کہنا چاہوں گا ، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ:

"یہ ایک دھوکا اور مغالطہ ہے”

اہلسنت کے ہاں سیدہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا شمار معصومین میں نہیں ہوتا ، لیکن اس کا مطلب یہ کیسے نکلتا ہے کہ "جب معصوم نہیں تو اب خطا کا صدور نہ ماننے سے نبیوں کے برابر یا اعلی ماننا لازم آئے گا؟؟؟”

اگر خطا کا صدور نہ ماننے سے نبیوں کے برابر یا اعلی ماننا لازم آتا ہے تو سب سے پہلے حضور سیدنا داتا گنج بخش پہ فتوی لگایا جائے جو مقامِ فناء کی برکت سے جنابِ امام ابو حنیفہ سے خطا کے صدور کو غیر متصور قرار دے رہے ہیں۔۔۔

اور اگر مقامِ فناء کی برکت سے امامِ اعظم سے صدورِ خطا کا تصور باقی نہیں رہتا تو پھر سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جن کا مقام ومرتبہ عقلِ انسانی سے کہیں برتر وبالا اور آپ کا مقامِ فناء بھی بلحاظِ کیف سب سے جدا ، پھر آپ سے خطا کے صدور کو غیر متصور قرار دینے سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی برابری کیسے لازم آتی ہے؟

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بو العجبیست؟؟؟

سچ یہ ہے کہ مدعیانِ علم بات سمجھںے سے قاصر ہیں۔ وہ تنہا مقامِ اجتہاد کو دیکھ کر اپنے زورِ علمی سے خطا وصواب کی بحث میں الجھا رہے ہیں ، پھر امکانِ خطا کو گھسیٹ کر وقوع بنانے پہ مُصِر ، امکانِ عرفی واصطلاحی پھر امکانِ اصطلاحی کے مختلف معانی کو ایک دوسرے میں خلط ملط کر کے اور اسی بیچ عصمت وحفظ کی بے جا بحث چھیڑ کر دھوکا دہی میں مصروف ہیں ، ایسوں کے حال کو دیکھ کر میری زبان پہ بے اختیار جاری ہوتا ہے:

گر ہمیں مکتب و ہمیں مُلّا

کار طفلاں تمام خواہد شد

ورنہ :

حق یہ ہے کہ سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا مقام عصمت پہ فائز نہیں ، اور مقام اجتہاد اپنی ذات میں خطا وصواب دونوں کا محتمل ، لیکن "مقام فناء” جس پہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا صفاتِ مصطفویہ کی مظہر ہیں ، تو چونکہ صفاتِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں خطا متصور نہیں لہذا اس مقام پہ سیدہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی خطا کا تصور نہیں۔

اس بتول جگر پارہ مصطفی

حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ ومہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

صادِقہ ، صالحہ ، صائمہ ، صابرہ

صاف دل ، نیک خو ، پارسا ، شاکرہ

عابدہ ، زاہدہ ، ساجدہ ، ذاکرہ

سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

✍️ مفتی چمن زمان

جامعۃ العین ۔ سکھر

13 ذو القعدہ 1441ھ / 5 جولائی 2020ء