عقائد متعلقہ نبوت ورسالت}
انبیاء کرام ظاہری بشری صورت میں آئے ۔ انبیاء کرام علیہم السلام نور کے پیکر ہیں مگر اس دنیا میں ظاہری طور پر بشری لبادے میں تشریف لائے ہیں سب انبیاء کرام علیہم السلام مرد تھے نہ کوئی جن نبی ہوا اورنہ کوئی عورت نبی ہوئی ۔اورجو لوگ عورت کی نبوت کے قائل ہیں وہ اہلِ اسلام کے نزدیک گمراہ ہیں۔
نورِ مصطفی ﷺ}
القرآن : ترجمہ : بیشک تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور آیا اورایک روشن کتاب۔
(سورہ مائدہ پارہ 6،آیت15)
اس آیتِ مبارکہ سے سرکارِ اعظم ﷺکا نور ہونا ثابت ہے ۔
علمِ غیب ِ رسول ﷺ}
القرآن : ترجمہ:یہ نبی ﷺ غیب کی خبریں بتانے میں بخیل نہیں۔(پارہ ،30آیت24)
اس آیتِ مبارکہ سے سرکارِ اعظم ﷺکا علمِ غیب ثابت ہوا سرکارِ اعظم ﷺاللہ تعالیٰ کی عطا سے علمِ غیب جانتے تھے جن آیتوں میں یہ موجود ہے کہ میں کچھ نہیںجانتا اس سے مُراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہی سے غیب جانتا ہوں ذاتی طور پر کچھ نہیں جانتا میرا علم ذاتی نہیںبلکہ عطائی ہے ۔
غیر اللہ کو لفظِ ’’یا‘‘ کے ساتھ پکارنا}
یارسول اللہ ﷺ، یا علی رضی اللہ عنہ اوریاغوث اعظم رضی اللہ عنہ کہنا جائز ہے ۔
القرآن: یَا اَیُّھَا النِّبُی oیَا ایُّھَاالْمُزَّمِلٌoیَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْo
اِن آیات میں سرکارِ اعظم ﷺاورتمام مسلمانوں کو ’’یا‘‘ کے ساتھ مخاطّب کیا گیا ہے اس سے معلوم ہے کہ غیر اللہ کو لفظِ’’یا‘‘ کے ساتھ پکارنا اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے نیک بندے مدد گار ہیں }
القرآن : ترجمہ: بے شک اللہ ان کا مددگار ہے اورجبریل اورنیک ایمان والے اوراس کے بعد فرشتے مدد کرتے ہیں۔(سورہ تحریم پارہ28،آیت 4)
القرآن : ترجمہ: تمہارے مدد گار نہیںمگر اللہ اوراس کا رسول اور ایمان والے۔
(سورہ مائدہ پارہ 6آیت 55کاکچھ حصّہ)
اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اللہ تعالیٰ کی عطا سے مدد فرماتے ہیں ان کو مدد کے لئے پکارنا قرآن سے ثابت ہے ۔
انبیاء کرام علیہم السلا م کی افضلیت}
انبیاء کرام علیہم السلام تمام مخلوق حتی کہ رُسُلِ ملائکہ سے بھی افضل ہیں۔
القرآن : ترجمہ: اورہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی ۔ (سورہ الانعام 86)
جو شخص کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے وہ کافر ہے اسی طرح جو یہ کہے کہ غیر نبی بسا اوقات اعمال میں انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھ جاتے ہیں وہ گمراہ وبدمذہب ہے انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد معین کرنا جائز نہیں بس یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء علیہم السلام پر ہماراایمان ہے جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان کی جاتی ہے ۔
نبی پیدائشی نبی ہوتاہے }
ہر نبی پیدائشی نبی ہوتاہے البتہ نبوت کااعلان وہ رب تعالیٰ کے حکم سے کرتاہے ۔
القرآن : ترجمہ:میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اورمجھے نبی بنایا۔
(سورہ مریم ،آیت30)
یہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے اس وقت فرمایا جب کہ آپ کی عمر مبارک چند یوم کی تھی ۔
حدیث: سرکارِ اعظم ﷺکا ارشاد ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔(بحوالہ ترمذی)
وسیلہ پکڑنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے }
القرآن : ترجمہ: اوراللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (سورہ المائدہ ، پارہ 6، آیت 35)
اس آیت میں مسلمانوں کو وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا جارہا ہے اس آیت میںکسی کی قید نہیں لگائی گئی بلکہ مطلق فرمایا گیا ہے کہ وسیلہ تلاش کرو۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض سے حضرت یعقوب علیہ السلام کا بینائی حاصل کرنا۔
تبرکاتِ انبیاء والے تابوت سے بنی اسرائیل کو فتح ونُصرت ملنا۔(سورہ بقرہ آیت248)
ان تمام دلائل سے وسیلہ جائز ہونے کا ثبوت ملتاہے ۔
حیاتِ انبیاء کرام علیہم السلام }
انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اِسی طرح حقیقی طور پر زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے ، وہ کھاتے تھے ، وہ پیتے تھے جہاں چاہتے ہیں آتے جاتے ہیں اورتصرف فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان پر ایک آن موت طاری ہوئی اورپھروہ زندہ کردئیے گئے شہداء کے بارے میں ارشاد ہے ۔
القرآن : ترجمہ: جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیںمُردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں (اور) روزی پاتے ہیں۔(سورہ آل عمران 169)
ٍ یہ امر طے شدہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام دیگر تمام مخلوق سے افضل ہیں لہٰذا ان کی زندگی شہداء کی زندگی سے یقینا بہت اعلیٰ وارفع ہے ۔
شہداء کو یہ فضیلت اس لئے ملی کہ ان کا مرنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جیسا کہ شہداء کی حیات کے بارے میں نازل شدہ آیات سے ظاہر ہے اورجن کا صرف مرنا اللہ تعالیٰ کے لئے تھا ان کو یہ فضیلت ملی کہ فرمایا وہ زندہ ہیں انہیں مردہ کہنا اور خیال کرنا دونوں منع ہیں توان کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا دنیامیں رہنا اوردنیا سے تشریف لے جانا دونوں اللہ کے لئے تھا۔
لہٰذا ثابت ہوا وہ بطریقہ اولیٰ زندہ ہیں اوران کو مردہ کہنا اورمردہ خیال کرنا اشد ممنوع ہے ۔
بیہقی شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے جسموں کو کھائے پس اللہ کے نبی زندہ ہیں ۔
نبی مومنوں کی جان سے زیادہ قریب ہیں}
القرآن : ترجمہ: نبی ﷺمومنوں کی جان سے زیادہ قریب ہیں۔(سورہ احزاب ،آیت6)
معلوم ہوا کہ جو قریب ہوتاہے وہ سب سُن سکتاہے اسی لئے ہم حضور ﷺکو پکارتے ہیں ۔ اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ زندہ ہوں گے توقریب ہوں گے وصال کے بعد نہیںہوں گے بلکہ مطلق ارشاد ہے لہٰذا بعد از وصال بھی حضور ﷺمومنوں کے قریب ہیں اورسُنتے ہیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں}
القرآن : ترجمہ: اے ابلیس میرے خاص بندوں پر تیرا کچھ قابونہیں۔
(سورہ نبی اسرائیل ، پارہ 15آیت 65کا کچھ حصّہ )
القرآن : ترجمہ: اے مولیٰ ان سب کو گمراہ کروں گا سوائے تیرے خاص بندوں کے ۔
معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام اوراللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا وہ خود معذوری ظاہر کررہا ہے ۔ انبیاء کرام اور فرشتوں کے سوا کوئی معصوم نہیں۔
تعظیم انبیاء فرض ہے }
القرآن : ترجمہ: اے لوگو! تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو۔ (سورہ فتح آیت 9)
معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعظیم وتوقیر فرض ہے بلکہ اُن سے نسبت رکھنے والی تمام چیزوں کی بھی تعظیم ضروری ہے ۔
القرآن : ترجمہ: اورجو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تویہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے ۔(سورہ الحج آیت32)
گستاخِ رسول کافرہے }
اُمَّت کا اجماع ہے کہ جو شخص سرکارِ اعظم ﷺکی بارگاہ میں گستاخی کرے یا بزعم خودآپ کی ذاتِ اقدس میں کسی قسم کا عیب لگائے یانقص تلاش کرے یا آپ کی شان گھٹانے کی ناکام کوشش کرے وہ کافر ہے اورواجب القتل ہے ۔
محبت ِ رسول ﷺایمان کی جان ہے }
حدیث شریف: سرکارِ اعظم ﷺکا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں (ﷺ) اسے اس کے والد، اس کی اولاد اورسب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں۔ (بخاری ومسلم)
قرآنِ کریم میں بھی ایمان کی شرط یہی بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اوررسول ﷺسے محبت دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہئے ۔(سورہ توبہ آیت 24)
سرکارِ اعظم ﷺکسی سے نہ پڑھے}
بعض لوگ سرکارِ اعظم ﷺکے اُمِّی لقب کامعنیٰ (معاذ اللہ )اَن پڑھ لیتے ہیں اس طرح کے الفاظ شانِ رسالت ﷺ میں بے ادبی کے مترادف ہیں اُمِّی کالفظ دنیا میں کسی سے نہ پڑھا کے معنیٰ میں آتاہے ۔
القرآن : ترجمہ: رحمن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا انسانیت کی جان محمد کوپیدا کیا ماکان وما یکون کابیان انہیں سکھایا۔(سورہ رحمن آیت 1,2,3,4)
القرآن : ترجمہ: اللہ نے تم پر کتاب اورحکمت اُتاری اورتمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے ۔
(سورہ نساء،پارہ5،آیت113)
جب سب کچھ سکھادیا گیا تووہ کون سا لکھنے پڑھنے کا علم ہے جو سرکار ﷺنہ جانتے تھے ۔
سرکارِ اعظم ﷺپر نبوت ختم }
القرآن : ترجمہ: محمد (ﷺ) تمہارے مَردوں میںکسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اورسب نبیوں کے پچھلے (یعنی خاتم النبین)اوراللہ سب کچھ جانتاہے ۔(سورہ احزاب آیت 40پارہ22)
سرکارِ اعظم ﷺپر نبوت ختم ہوگئی اب نیا کوئی نبی نہیں آئے گا ختمِ نبوت کا انکار کفر ہے ۔}