أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِىۡۤ اَدۡنَى الۡاَرۡضِ وَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيَغۡلِبُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

قریب کی سرزمین میں ‘ اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب دوبارہ غالب ہوں گے

رومیوں کی ایرانیوں پر فتح کی پیش گوئی کی احادیث :

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے الروم : ٣ کی تفسیر میں فرمایا : مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ اہل فارس (ایرانی جو کہ آتش پرست تھے) اہل روم (عیسائی جو کہ الوہیت ‘ رسالت اور آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے تھے) پر غلبہ پالیں ‘ کیونکہ مشرکین اور ایرانی دونوں بت پرست تھے ‘ اور مسلمان یہ چاہتے تھے کہ رومی ‘ ایرانیوں پر غالب آجائیں کیونکہ مسلمان اور رومی دونوں اہل کتاب تھے ‘ مسلمانوں نے اس بات کا حضرت ابوبکر (رض) سے ذکر کیا ‘ حضرت ابوبکر نے اس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا ‘ آپ نے فرمایا عنقریب رومی غالب آجائیں گے ‘ حضرت ابوبکر نے اس بات کا مشرکین سے ذکر کیا ‘ مشرکین نے کہا آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کرلیں ‘ اگر ہم غالب ہوگئے تو ہمیں اتنی اور اتنی چیزیں مل جائیں گی ‘ حضرت ابوبکر نے پانچ سال کی مدت مقرر کرلی ‘ اور پانچ سال میں رومی ‘ ایرانیوں پر غلبہ نہ پاسکے ‘ حضرت ابوبکر نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا ‘ آپ نے فرمایا تم نے اتنی کم مدت کیوں مقرر کی ! ( قرآن مجید نے فرمایا وہ بضع سنین میں غلبہ پائیں گے اور بضع سنین کا اطلاق تین سے نو سال تک پر ہوتا ہے) ‘ پھر اس کے بعد رومی غلبہ پا گئے۔ سفیان نے کہا میں نے سنا ہے کہ غزوہ بدر کے دن رومیوں نے ایرانیوں پر غلبہ پایا۔(سنن اترمذی رقم الحدیث : ٣١٩٣‘ مسند احمد ج ١ ص ٢٧٦‘ التاریخ الکبیر للبخاری رقم الحدیث : ٢٦٢٠‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٣٧٧‘ المستدرک ج ٢ ص ٣١٠‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٣٣١۔ ٣٣٠)

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 3