أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِىۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ؕ لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَيَوۡمَئِذٍ يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

چند سالوں میں ‘ پہلے (بھی) اور بعد (بھی) حکم اللہ ہی کو زیبا ہے اور اس دن مومنین خوش ہوں گے

نیار بن مکرم الا سلمی روایت کرتے ہیں جس زمانہ میں سورة الروم کی ابتدائی چار آیات نازل ہوئیں ‘ اس زمانہ میں ایرانی رومیوں پر غالب تھے ‘ اور مسلمان یہ چاہتے تھے کہ ایرانیوں پر رومیوں کا تسلط اور غلبہ ہو ‘ کیونکہ مسلمان اور رومی دونوں اہل کتاب تھے اور اسی کے متعلق یہ آیت ہے : اس دن مومنین خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے ‘ وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے ‘ اور وہ بہت غالب ‘ بےحد مدد فرمانے والا ہے (الروم : ٥۔ ٤)

اور قریش یہ چاہتے تھے کہ ایرانیوں کا رومیوں پر غلبہ ہو ‘ کیونکہ قریش اور ایرانی دونوں آسمانی کتاب کو نہیں مانتے تھے ‘ اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان رکھتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا تو صبح کو حضرت ابوبکر مکہ کے اطراف میں گئے اور بلند آواز سے سورة الروم کی ابتدائی چار آیتیں پڑھنے لگے ‘ قریش کے لوگوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا یہ ہمارے اور تمہارے درمیان ہے ‘ تمہارے پیغمبر کا دعویٰ ہے کہ عنقریب رومی بضع سنین ( چند سالوں) میں ایرانیوں پر غالب آجائیں گے ‘ کیا ہم اس کے اوپر شرط نہ باندھ لیں ‘ حضرت ابوبکر نے کہا کیوں نہیں ! اور یہ شرط باندھنے اور جواء کھیلنے کی ممانعت سے پہلے کا واقعہ تھا ‘ پس حضرت ابوبکر اور مشرکین نے شرط باندھی اور مشرکین نے حضرت ابوبکر سے کہا بضع سنین کا اطلاق تین سال سے نو سال تک پر ہوتا ہے تم اس کی ایک متوسط مدت کو اختیار کرلو کہ اتنے سال میں رومی ایرانیوں پر غالب ہوں گے ‘ پھر انہوں نے چھ سال مدت مقرر کرلی ‘ پھر چھ سال گزر گئے اور رومی غالب نہ آئے ‘ تو مشرکین نے حضرت ابوبکر کی شرط جیت لی ‘ پھر چھ ساتواں سال شروع ساتوں سال شروع ہوا تو رومی ایرانیوں پر غالب ہوگئے ‘ اور مسلمانوں نے حضرت ابوبکر کی مذمت کی کہ انہوں نے چھ سال کیوں مقرر کیے ‘ اللہ تعالیٰ نے تو بضع سنین میں رومیوں کے غلبہ کی خبردی تھی اور اس کا اطلاق نو سال تک پر ہوتا ہے اس موقع پر بہت لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٩٤‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٧۔ ١٦٦‘ الاسماء والصفات للبیہقی ج ا ص ٣٧٤)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ روم اور فارس (ایران) نے قریب کی سرزمین میں ایک دوسرے سے قتال کیا ( قریب کی سرزمین سے مراد شام اور اس کے اطراف کے علاقہ یعنی اردن اور فلسین وغیرہ مراد ہیں جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی) رومی مغلوب ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں یہ خبر پہنچی تو ان پر یہ خبر بہت شاق گزری اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ایران کے ان پڑھ مجوس روم کے اہل کتاب پر غالب ہوں اور مکہ کے کافروں نے اس خبر سے بہت خوشیاں منائیں ‘ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے کہا ‘ تم بھی اہل کتاب ہو اور نصاریٰ بھی اہل کتاب ہیں اور ہم امی اور ان پڑھ ہیں ‘ اور ایران کے ہمارے مجوسی بھائی تمہارے اہل کتاب بھائیوں پر غلبہ پا گئے ہیں ‘ اور بیشک اگر تم ہم سے قتال کرو گے تو ہم بھی تم پر غلبہ پالیں گے ‘ تب اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں : الف لام میم رومی (ایرانیوں سیض مغلوب ہوگئے قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند سالوں میں ‘ پہلے (بھی) حکم اللہ ہی کو زیبا ہے اور اس دن مومنین خوش ہوں گے الایات۔ تب حضرت ابوبکر صدیق کفار کی طرف گئے اور ان سے کہا تم اس پر خوش ہورہے ہو کہ تمہارے بھائیوں نے ہمارے بھائیوں پر غلبہ پا لیا ہے ‘ تم خوشیاں نہ منائو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک کو بر پر ار نہیں رکھے گا ‘ اللہ کی قسم رومی ایرانیوں پر ضرور غلبہ پائیں گے ‘ ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی خبر دی ہے ‘ ابی بن خلف نے کھڑے ہو کر کہا اے ابو فضیل تم نے جھوٹ بولا۔ حضرت ابوبکر نے اس سے کہا اے اللہ کے دشمن تم زیادہ جھوٹے ہو ‘ میں تم سے دس اونٹینوں کی شرط لگاتا ہوں ‘ تین سال کے بعد رومی ایرانیوں پر غالب آجائیں گے ‘ اگر رومی غالب آگئے تو میں تم سے دس اونٹنیاں لونگا ورنہ تم مجھے دس اونٹنیاں دینا ‘ پھر حضرت ابوبکر نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا میں نے اس طرح ذکر نہیں کیا تھا ‘ بضع سنین کا اطلاق تین سے لے کر نو تک ہوتا ہے تم شرط میں اونٹنیوں کی تعداد بھی بڑھا دو اور مدت میں بھی اضافہ کردو پھر حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے ملاقات کی ‘ اس نے کہا کیا اب تم اپنی شرط پر پچھتا رہے ہو ‘ حضرت ابوبکر نے کہا نہیں ‘ بلکہ میں شرط اور مدت دونوں میں اضافہ کررہا ہوں تم شرط سو اونٹنیوں کی باندھو اور مدت نو سال تک کرلو ‘ ابی نے کا میں نے کردیا۔(جامع البیان رقم الحدیث : ٢١٢٢٧‘ معالم التنزیل ج ٣ ص ٥٦٩۔ ٥٢٨‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٣٨٩)

قتادہ نے بیان کیا ہے کہ جب مسلمان حدیبیہ سے لوٹے (٦ ہجری میں) تو رومی ایرانیوں پر غلب آگئے تھے اور مسلمان اپنی صلح سے بھی خوش ہوئے اور اہل کتاب کے مجوسیوں پر غلبہ سے بھی خوش ہوئے۔ ( ایک قول یہ ہے کہ یہ غلبہ غزوہ بدر کے دن حاصل ہوا)(جامع البیان رقم الحدیث : ٢١٢٢٩‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٧٤٦١‘ الکشف والبیان للثعالبی ج ٧ ص ٣٠٦‘ الدر المثور ج ٦ ص ٤٢٤ )

حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : الم غلبت الروم تو مشرکین نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے نبی نے کیا کہا ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ رومی ایرانیوں پر غالب آجائیں گے ‘ حضرت ابوبکر نے کہا میرے نبی نے سچ کہا ہے ‘ مشرکین نے کہا کیا تم اس پر شرط لئائو گے ‘ پھر حضرت ابوبکر نے ایک مدت مقرر کردی اور رومیوں کے غلبہ سے پہلے وہ مدت پوری وہ گئی ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی تو آپ رنجیدہ ہوئے اور حضرت ابوبکر سے پوچھا تمہیں اس شرط پر کس نے برانگیختہ کیا ‘ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق نے ‘ آپ نے فرمایا ان سے پھر بات کرو اور شرط اور مدت دونوں میں اضافہ کردو ‘ حضرت ابوبکر نے مشرکین سے بات کی اور دوبارہ شرط لگائی ‘ ابھی وہ مدت پوری نہیں ہوئی تھی کہ رومی ایرانیوں پر غالب آگئے اور انہوں نے مدائین میں اپنے گھوڑے باندھے ‘ حضرت ابوبکر اپنی جیت کی انونٹنیاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آئے ‘ آپ نے فرمایا ان کو صدقہ کردو ‘ آپ نے فرمایا ان کو صدقہ کردو ‘ یہ سحت (حرام مال) ہے تو حضرت ابوبکر نے ان کو صدقہ کردیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٤٥٨‘ الدر المثور ج (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٦ ص ٥٢٢ )

جوئے میں جیتی ہوئی رقم کو صدقہ کرنے کا حکم پر اشکال کے جوابات 

ان روایات میں یہ اختلاف ہے کہ رومیوں کو یہ غلبہ غزوہ بدر کے دن ٢ ھ میں حاصل ہوا تھا یا حدیبیہ کے دن ٦ ھ میں حاصل ہوا تھا ‘ بہر حال یہ دونوں مسلمانوں کی فتح او کامرانی کے دن تھے ‘ بعض مفسرین نے غزوہ بدر کے دن کی روایت کو ترجیح دی ہے اور اکثر مفسرین نے حدیبیہ کے دن کو ترجیح دی ہے۔ Ç

قاضی بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : حدیبیہ کے دن رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہو اور حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف کے وارثوں سے اپنی شرط کی جیت کو وصول کرلیا اور ان اونٹنیوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے تو آپ نے فرمایا ان کو صدقہ کردو ‘ اور اس سے فقہاء احناف نے یہ استدلال کیا ہے کہ دارالحرب میں فاسد معاملات منعقد ہوجاتے ہیں اور اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ واقعہ جوئے کر کو حرام قرار دینے سے پہلے کا ہے اور یہ آیت آپ کی نبوت کے دلائل میں سے ہے ‘ کیونکہ اس میں غیب کی خبر ہے۔ (تفسیر البیھاوی مع الخفا جی ج ٧ ص ٣٧١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ احمد بن محمد خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں :

اگرچہ یہ واقعہ جوئے کو حرام قرار دینے کے بعد کا ہے لیکن یہ واقعہ مکہ میں ہوا ہے اور فتح مکہ سے پہلے ‘ مکہ دارالحرب تھا ‘ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک دارالحرب میں عقود فاسدہ جائز ہیں جیسا کہ ان کے نزدیک دارالحرب میں حدود ساقط ہوجاتی ہیں ‘ اور حدیث میں جو جیتی ہوئی شرط کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے اس کا بعض احادیث میں ذکر نہیں ہے ‘ اگر یہ سوال کیا جائے کہ سحت (مال حرام) کو صدقہ کرنے کی کیا دلیل ہے اور جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے اس کو صدقہ کرنے کی کیا توجیہ ہے ؟ تو ہم کہیں گے کہ علماء کی ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ مال حرام کو صدقہ کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف پاک چیزوں کو قبول کرتا ہے ‘ اور بعض علماء نے اس کو جائز کہا ہے اور اس میں بحث ہے کیونکہ کسی حرام مال کے مالک کا علم ہو تو وہ مال اصل مالک کو لوٹا دینا چاہیے سو یہ مال ابی بن خلف کے وارثوں کو لوٹا دینا چاہیے تھا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے آپ نے کسی اور مصلحت کی وجہ سے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہو ‘ اگر اگر یہ کہا جائے کہ یہ حربی کا مال ہے اور اس کا مال مباح ہوتا ہے حرام نہیں ہوتا لہٰذا یہ مال حرام کا صدقہ نہیں ہوگا۔ اور ہمارے مذہب میں جب تک مال حرام دوسرے کے مال سے مخلوط نہ ہوجائے اس کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے ‘ اس کا جواب ہے کہ یہاں صدقہ کرنے کے حکم سے مقصود یہ ہے کہ مال حرام کو اپنے پاس رکھنے سے بری ہوا جائے۔ (حاثیۃ الخفا جی علی البیضاوی ٧ ص ٣٧٢‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس بحث میں لکھتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شرط میں جیتی ہوئی اونٹنیوں کے متعلق فرمایا یہ مال حرام ہے اس کو صدقہ کردو ‘ اس پر یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور خمر اور جوئے کو حرام قرار دینے کی آیت قرآن مجید کے آخر میں نازل ہوئی ہے تو اس کو حرام فرمانے کی کیا وجہ ہے ؟ اور اگر جوئے کو حرام قرار دینے کے بعد آپ نے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو جب اس کے مالک (ابی بن خلف کے ورثاء) معلوم تھے اور موجود تھے اور ایسی صورت میں مال اصل مالک کو لوٹا دیا جاتا ہے تو پھر صدقہ کرنے کے حکم کی کیا توجیہ ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اس مال کے متعلق فرمایا یہ سحت ہے اور اس حدیث میں سحت کا معنی مال حرام نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے وہ مال جو عار کا باعث ہو اور مروت اور نیک نامی میں نقص اور خلل کا سبب ہو جیسا کہ آپ نے فرمایا فص لگانے کا کسب سحت ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ کسب حلال نہیں ہے ‘ اسی طرح آپ کا مطلب یہ تھا کہ جوئے میں جیتا ہوا مال ہرچند کہ حلال ہے کیونکہ اس کا عقد دارالحرب میں ہوا ہے ‘ اور یہ جوئے کی تحریم سے پہلے کا عقد ہے لیکن ابوبکر کی نیک نامی اور ان کی شرافت کی جو شہرت ہے اس کے یہ منافی ہے کہ وہ جوئے میں جیتا ہوا مال اپنے پاس رکھیں۔(روح المعانی جز ٢١ ص ٢٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

زیر تفسیر آیات کے مسائل اور فوائد 

علامہ منصور بن محمد التمیمی المروزی السمعانی الثافعی المتوفی ٤٨٩ ھ لکھتے ہیں :

بعض تفاسیر میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے ہجرت کرنے کا قصد کیا تو ان کے پاس ابی بن خلف آیا ‘ اور ان سے کہا کہ آپ اپنی اونٹنیوں پر کفیل فراہم کریں ‘ تو حضرت ابوبکر نے اپنے بیٹے عبدالرحمن بن ابوبکر کو کفیل اور ضامن مقرر کیا ‘ پھر جب ابی بن خلف جنگ احد میں لڑنے گیا تو عبدالرحمن بن ابوبکر نے اس سے کفیل کو طلب کیا تو ابی بن خلف نے اپنے بیٹے کو اونٹنیاں ادا کرنے کا ضامن بنایا پھر جب رومی ایرانیوں پر غالب آگئے تو حضرت ابوبکر نے وہ انٹنیاں لے لیں۔

یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات میں سے ہے کیونکہ آپ نے اس غیب کی خبر دی جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ اور بعد میں آپ کی خبر اور پیش گوئی کے مطابق پیش آیا۔ (تفسیر السمعانی ج ٤ ص ١٩٧‘ مطبوعہ دار الوطن ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)

حافظ ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :

قرآن مجید کی ان آیات سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوئے :

(١) یہ آیات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل اور آپ کا معجزہ ہیں ‘ کیونکہ ان آیات میں مستقبل کی ان خبروں کو بیان فرمایا جن کو علام الغیوب کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے باطل کے ذریعہ مال کھانے کو حرام کردیا ہے ‘ اور ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ جوا ہے۔ جوا اس عقد کو کہتے ہیں جس میں کسی ایک فریق کو معین نفع اور دوسرے فریق کو معین نقصان لازم ہو مثلاً کوئی شخص دوسرے سے کہے اگر فلاں کام اس طرح ہوگیا تو تم مجھے سو روپے دو گے ورنہ میں تم کو دو سو روپے دوں گا ‘ یہ ابتداء اسلام میں روج تھا جیسا کہ اور کئی احکام حلال اور حرام کے بیان سے پہلے مروج تھے ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تفصیل میں آیات نازل فرمادیں ‘ اب صرف یہ جائز ہے کہ ایک شخص گھوڑے سواروں کا مقابلہ کرائے اور آگے نکلنے والے کے لیے کوئی انعام مقرر کردے تاکہ مسلمانوں کو شہسواری کی مشق ہو ‘ لیکن گھوڑے سواروں کا باہم شرط لگا کر مقابلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ لوگ از خود اس شرط پر رقم لگائیں کہ فلاں گھوڑا آگے نکلے گا۔

(٣) ان آیات میں فرمایا ہے اس دن مومنین خوش ہوں گے ‘ اللہ کی مدد سے ‘ اگر مسلمان مشرکوں کے خلاف کامیابی پر خوش ہوں تو یہ بالکل ظاہر ہے ‘ کیونکہ اس میں اسلام کی سربلندی اور دین کا غلبہ ہے ‘ لیکن رومیوں کی کامیابی پر مسلمان اس وجہ سے خوش ہوئے تھے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ بہر ال نبوت کے قائل تھے ‘ اور ان کو اس قوم کے خلاف غلبہ حاصل ہوا تھا جو آسمانی کتاب اور نبوت کی منکر تھی اور چونکہ مسلمانوں اور رومیوں میں یہ قدر مشترک تھی اس وجہ سے مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے تھے۔ (عارضۃ الاحوذی ج ١٢ ص ٤٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

ہم نے لکھا ہے کہ قدیم مفسرین میں سے زیادہ تر کی رائے یہ ہے کہ رومی صلح حدیبیہ کے دن ٦ ہجری کو ایران پر غالب ہوئے لیکن بعض متاخرین نے لکھا ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی فتح اور جنگ بدر میں مشرکین پر مسلمانوں کی فتح کا زمانہ ایک ہی تھا ‘ اس لیے مسلمانوں کو دوہری خوشی حاصل ہوئی ‘ یہی بات ایران اور روم کی تاریخوں سے بھی ثابت ہے ٦٢٤ ء ہی وہ سال ہے جس میں جنگ بدر ہوئی اور یہی وہ سال ہے جس میں قیصر روم نے زرتشت کا مولد تباہ کیا اور ایران کے سب سے بڑے آتش کدہ کو مسمار کردیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 4