نصیر مسیح

یہ کوئی 2016 کی بات ہو گی ، سکھر سے راولپنڈی کے لیے نکلا ، ڈائیوو بس میں سوار ہوا تو سامنے کی سیٹ پر ایک نوجوان لڑکا پہلے سے موجود تھا ، گلے میں لٹکتی صلیب سے مذہب کا اندازہ تو ہو گیا لیکن دائیں ٹانگ پر چڑھے پلاسٹر کو دیکھ کر میرے دل میں دکھ کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔

بہرحال سفر شروع ہوا ، ڈھرکی میں گاڑی رکی تو میں نمازِ مغرب کے لیے اترا اور واپسی پہ چائے کے دو کپ لے آیا ، ایک اپنے لیے اور دوسرا سامنے کی سیٹ پہ موجود عیسائی لڑکے کے لیے۔ جب میں نے چائے کا کپ اسے دینا چاہا تو اس نے لینے سے صاف انکار کر دیا ، میں سمجھا کہ سفر میں احتیاط کے سبب وہ اجنبی کی دی ہوئی چیز کھانے پینے سے بچنا چاہتا ہے ، میں نے اسے اطمینان دلانے کے لیے دوسرا کپ آگے بڑھاتے ہوئے کہا:

چلیں یہ لے لیں ، اس میں کچھ نہیں ملایا۔۔۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

لیکن اس نوجوان کے لہجے کا روکھا پن بھی برقرار رہا اور چائے لینے سے صاف انکار کر دیا۔

مجھے انکار اور لہجہ زیادہ مناسب تو نہیں لگا لیکن پھر بھی رحیم یار خان میں نمازِ عشاء کے لیے اترنے سے پہلے میں نے پوچھا:

آپ جو چیز پسند کریں اب کی بار میں وہی لے آتا ہوں۔۔۔

میرے خیال میں آپ کو تکلف کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔

اس لڑکے کے لہجے میں وہی روکھا پن باقی تھا۔

میں نے نمازِ عشاء اداء کی اور واپس گاڑی میں بیٹھ گیا۔ بہاولپور تک گاڑی کے اکثر مسافر سو چکے تھے ، جب گاڑی بہاولپور میں رکی تو میں نے ایک بار پھر اس لڑکے سے کہا:

اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں لا دوں؟؟؟

اب کی بار اس کا لہجہ کافی بدل چکا تھا ، بولا:

آپ کو تکلیف دینا اچھا تو نہیں لگ رہا لیکن میرا گاڑی سے اترنا چڑھنا مشکل ہے اور سر میں بہت درد ہو رہا ہے ، اگر آپ ایک کپ چائے لا دیں تو بہت مہربانی ہو گی۔۔۔

میں چائے لے کر آ گیا اور واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا ، ابھی گاڑی چلی نہیں تھی کہ وہ لڑکا مجھ سے مخاطب ہوا:

آپ مسلمان ہیں؟

ویسے آپ کو میرے حلیے سے کیا لگتا ہے؟

میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

کونسے فرقے سے؟

اس نے اگلا سوال کیا۔۔۔

میں نے سوال کا جواب دینے کے بجائے گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے کہا:

آپ مسلمانوں کے کون کون سے فرقے کو جانتے ہیں؟

وہ بولا: بہت سے فرقوں کو جانتا ہوں لیکن آپ تھوڑے مختلف لگ رہے ہیں اس لیے پوچھا۔۔۔

اوہ ! اچھا!! مختلف کیسے؟

میں نے حیرت بھرے انداز میں پوچھا۔

لڑکے کا لہجہ اچانک بدل گیا ، جیسے وہ کوئی انتہائی دردناک داستان سنانے جا رہا ہو:

میرا نام "نصیر مسیح” ہے ، میرا تعلق حیدر آباد سے ہے ، مجھے مسیحیت کی بہت سی باتوں پر اعتراض ہے ، خاص کر تثلیث پر ، اس کے مقابل اسلام کی بہت سی باتیں مجھے پسند تھیں ، لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ کونسی باتیں مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ میرا مسلمان ہونے کا کوئی زیادہ خیال تو نہیں تھا لیکن پھر بھی ایک دفعہ معلومات حاصل کرنے کے لیے قریبی مسجد چلا گیا۔

مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مسلمان مسجد کے اندر جوتے اتار کر جاتے ہیں ، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ کس جگہ اتارتے ہیں۔ جوتوں کے ریک پر نظر پڑی تو سمجھا کہ وہاں جا کر اتارنے ہیں ، ابھی ریک تک پہنچا نہیں تھا کہ مسجد میں موجود لوگوں کے بیچ کھلبلی سی مچ گئی ، چند نوجوان میری طرف لپکے اور دھکے ، مکے اور لاتیں مارتے ہوئے باہر کی طرف دھکیلنے لگ گئے ، ابھی باہر کے دروازے پر پہنچے نہیں تھے کہ ان کی نظر میرے گلے میں لٹکتی صلیب پر پڑی ، اس کے بعد ان لوگوں کے غصے کی انتہاء نہیں رہی ، جس سے جیسے بن پڑا اس نے مجھے مارا ، اور میری یہ ٹانگ جس پر ابھی پلاسٹر باقی ہے ، یہ بھی اسی دوران ٹوٹی۔۔۔۔

میرے دل میں اسلام کی جتنی قدر تھی ، اس واقعے کے بعد ختم ہو گئی۔ میرے مسلمان دوستوں کا کہنا ہے کہ اسلام عالمگیر مذہب ہے ، لیکن مجھے حیرت ہے کہ جس مذہب میں اتنی شدت اور سختی ہو وہ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے دامن میں کیسے لے سکتا ہے؟؟؟

نصیر مسیح کی باتیں تکلیف دہ ضرور تھیں لیکن سچائی اور مظلومیت دونوں ہی نصیر مسیح کے لہجے سے جھلک رہے تھے۔۔۔

آپ کا انداز باقیوں سے مختلف محسوس ہوا ، اس لیے پوچھا کہ شاید کوئی ایسا فرقہ بھی ہے جس کے اندر کچھ نہ کچھ رواداری باقی ہے۔۔۔

نصیر مسیح نے اپنی گفتگو کو پچھلی کلام سے جوڑتے ہوئے کہا۔

نصیر مسیح کی باتیں سن کر میں کچھ دیر خاموش رہا اور اس دوران نصیر مسیح لگاتار میرے چہرے پر نظریں جمائے رہا۔ مجھے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ سلسلہء گفتگو کہاں سے شروع کروں ، بہر حال کچھ دیر بعد میں بولا:

نصیر مسیح ! اگر میں چاہوں تو دنیا بھر میں آپ کے ہم مذہب لوگوں کی طرف سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی ایک جھلک آپ کو دکھا کر آپ کو خاموش کرا سکتا ہوں ، اور ان مظالم کے مقابلے میں آپ کے واقعہ کی کوئی حیثیت نہیں ، کیونکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو جن مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ، لیکن میں یہ سب کچھ کہہ کر آپ کو خاموش نہیں کراؤں گا۔۔۔

میں صرف اتنا کہوں گا کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ ہوا وہ اسلام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

میں نہیں جانتا کہ آپ سنیوں کی مسجد میں گئے یا شیعوں کی مسجد میں ، آپ کی ٹانگ توڑنے والے دیوبندی تھے یا بریلوی ، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ کردار ان کا ذاتی کردار ہے ، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔!!!

میری باتیں سن کر نصیر مسیح چونک سا گیا ، کہنے لگا:

عجیب بات ہے ، مسجد تو مسلمانوں کا مذہبی مرکز ہے ، پھر مسجد سے نکلنے والی بات اور مسجد میں ہونے والا کام اسلام کیسے نہیں؟؟؟

نصیر مسیح کا لہجہ مناظرانہ سا ہو چکا تھا۔

میں چونکہ مناظرہ اور بحث مباحثہ کرنا نہیں چاہتا تھا ، اس لیے صرف اتنا کہا:

یہی جملے میں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے مذہبی اختلافات بارے میں کہوں تو آپ کیا جواب دیں گے؟؟؟

نصیر مسیح خاموش رہا۔۔۔

میں نے سلسلۂ گفتگو کو بڑھاتے ہوئے کہا:

میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اسلام کیا ہے ، اسلام یہ ہے کہ:

ہمارے نبی سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دنیا کی افضل ترین مساجد میں سے ایک مسجد میں جلوہ فرما تھے ، ہمارے نبی کے صحابہ بھی دربارِ رسالت میں موجود تھے ، اچانک ایک دیہاتی کو پیشاب کی حاجت ہوتی ہے تو وہ مسجد ہی کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگ جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم روکنے کو دوڑتے ہیں تو جانِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبانِ اقدس سے نکلنے والے کلمات صحابہء کرام کے اٹھے ہوئے قدموں کو روک دیتے ہیں ، لیکن یہ کلمات مسجد میں پیشاب کرنے والے کے لیے نہ تھے ، یہ کلمات اس دیہاتی کو روکنے والوں کے لیے تھے۔۔۔

لا تُزرِمُوه

اسے مت روکو۔۔۔!!!

نصیر مسیح!

یہ مسجد معمولی مسجد نہیں تھی ، دنیا کی افضل ترین مساجد میں سے ایک ، یعنی مسجدِ نبوی تھی۔ اور وہ دیہاتی اس مسجد کو ناپاک کر رہا تھا اور اس میں پیشاب کر رہا تھا ، صحابہ روکنا چاہتے تھے لیکن اللہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے روکنے والوں کو روک دیا۔

وہ دیہاتی پیشاب کر کے فارغ ہوتا ہے تو اللہ کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے معزز اصحاب کو حکم فرماتے ہیں کہ پانی کا ڈول لا کر اس جگہ کو پاک کیا جائے۔۔۔۔

اس کے ساتھ ہی مسجد کو آلودہ اور ناپاک کرنے والے دیہاتی کو بلا لیا جاتا ہے۔ جرم اس کا بڑا تھا ، کیونکہ اس نے خانہء خدا کی بے حرمتی کی تھی ، اور خانہء خدا کی بے حرمتی مسلمانوں کے ہاں کفر شمار ہوتی ہے ، اور سزا بھی یقینا جرم کے مطابق ہی ہونی چاہیے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ، نہ ڈانٹا جاتا ہے نہ مارا جاتا ہے ، بس پاس بٹھا کر پیار سے سمجھایا جاتا ہے:

یہ مسجدیں گندگی اور پیشاب کے لیے نہیں ہیں ، یہ تو قرآن پڑھنے ، اللہ کو یاد کرنے اور نماز کے لیے ہیں۔۔۔۔

اس کے ساتھ ہی ان صحابہ کو خطاب فرمایا جاتا ہے جو دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کے دوران روکنا چاہتے تھے ، اور ایسے کلمات ارشاد فرمائے جنہیں اسلام کی روحِ حقیقی کہا جا سکتا ہے ، فرمایا:

إنما بُعِثتُم مُيَسِّرينَ، ولم تُبعَثُوا مُعَسِّرين

تم آسانیوں کے لیے بھیجے گئے ہو ، مشکلات کے لیے نہیں۔۔۔۔

إِنَّ فِي دِينِكُمْ يُسْرًا

تمہارے دین میں آسانی ہے۔۔۔۔

میں باتیں کر رہا تھا اور نصیر مسیح حیرت بھرے انداز میں مجھے دیکھ رہا تھا۔ مجھے خاموش ہوتا دیکھ کر بولا:

یہ واقعہ کسی معتبر کتاب میں ہے؟

میں نے کہا: کیوں نہیں۔۔۔ صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ، مسند احمد بن حنبل اور اہلِ اسلام کے نزدیک دیگر کئی معتبر کتبِ حدیث میں موجود ہے۔

اسلام کی روحِ حقیقی پہ بات چلی تو نصیر مسیح بھی دلچسپی سے سننے لگ گیا اور مجھے بھی مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے شب وروز کے بارے میں گفتگو کرنے سے قلبی راحت وسکون محسوس ہونے لگا۔ میں نے سلسلہء گفتگو بڑھاتے ہوئے کہا:

دینِ اسلام کے دامن میں اس قسم کا صرف ایک واقعہ نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے شب وروز اس قسم کے بے مثال واقعات سے بھرے پڑے ہیں:

ایک دن ایک نوجوان نے اللہ کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسا جملہ بول دیا جو نہ زمین میں سمائے نہ آسمان اسے قبول کرے ، نوجوان کہتا ہے:

يا رسول الله ائذن لي بالزنا

یا رسول اللہ مجھے زنا کی اجازت دیجیے۔۔۔۔!!!

نصیر مسیح!

اللہ جل وعلا کے رسول سے اس قسم کی بات۔۔۔

ایک ایسی بات جو معمولی شرم وحیاء رکھنے والا شخص اپنے سے بڑے کے سامنے کرنے کی جرات نہیں کرتا اور یہ نوجوان اللہ کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کی اجازت مانگ رہا ہے۔۔۔

صحابہء کرام اس نوجوان کی جسارت پہ حیران رہ گئے ، فورا روکنے کی کوشش کی۔۔۔

مَهْ , مَهْ

رک رک۔۔۔

لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اسے ڈانٹنے ، مارنے یا دربارِ رسالت سے دھکے دے کر نکالنے کے بجائے صحابہء کرام کو فرماتے ہیں:

ذَرُوهُ

اسے چھوڑ دو۔۔۔

پھر اس نوجوان کو پیار سے پاس بلاتے ہیں ، پاس بٹھا کر انتہائی پیار بھرے انداز میں پوچھتے ہیں:

کیا تم یہ بات اپنی ماں کے لیے پسند کرو گے؟

نوجوان محبت بھرے انداز کے سامنے دل ہار جاتا ہے ، عرض کرتا ہے:

میں آپ پہ قربان ، میں تو ایسا پسند نہیں کروں گا۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لوگ بھی تو اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے ناں۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پھر پوچھتے ہیں:

کیا تم یہ بات اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟

نوجوان عرض کرتا ہے:

میں آپ پہ قربان ، میں تو ایسا پسند نہیں کروں گا۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

کیا تم یہ بات اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے؟

نوجوان عرض کرتا ہے:

میں آپ پہ قربان ، میں تو ایسا پسند نہیں کروں گا۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مزید فرمایا:

کیا تم یہ بات اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرو گے؟

نوجوان عرض کرتا ہے:

میں آپ پہ قربان ، میں تو ایسا پسند نہیں کروں گا۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پھر پوچھتے ہیں:

کیا تم یہ بات اپنی خالہ کے لیے پسند کرو گے؟

نوجوان عرض کرتا ہے:

میں آپ پہ قربان ، میں تو ایسا پسند نہیں کروں گا۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لوگ بھی تو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے ناں۔۔۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس اس کے سینے پہ رکھ کر دعا کی:

اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه، وحصن فرجه

اے اللہ اس کا گناہ معاف فرما اور اس کے دل کو پاک فرما اور شرمگاہ کو گناہ سے بچا۔۔۔

تربیتِ مصطفی ﷺ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد وہ نوجوان کسی برائی کی طرف توجہ بھی نہ کیا کرتا۔۔۔

نصیر مسیح!

یہ روحِ اسلام ہے ، جس فکر نے آپ کی ٹانگ توڑی وہ اصلی اسلام ہرگز نہیں۔۔۔

میں نے سلسلہء گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا:

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے حضرت معاویہ بن حکم۔

انہوں نے دورانِ نماز چھینکنے والے کو "یرحمک اللہ” کہہ دیا ، صحابہء کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے ان کی جانب تیز نظروں سے دیکھا تو معاویہ بن حکم نماز کے اندر ہی بول پڑے:

کیا بات ہے؟ میری طرف ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟؟؟

آخر کار صحابہء کرام کے ہاتھوں کے اشارے سے سمجھ گئے کہ وہ سب ان کو خاموش کروانا چاہ رہے ہیں ، بادلِ نخواستہ خاموش ہو گئے۔ نماز مکمل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بلا لیا۔

نصیر مسیح!

اگر آپ اسلامی نقطہء نظر سے دیکھیں تو حضرت معاویہ بن حکم کی غلطی ایسی تھی جو معمولی سی سمجھ رکھنے والا بچہ بھی نہیں کرتا ، مسلمان بچے بھی جانتے ہیں کہ نماز کے اندر بات چیت نہیں کی جا سکتی ، اور وہ کام حضرت معاویہ بن حکم کر چکے تھے۔

لیکن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن حکم پر کسی قسم کی سختی نہیں فرمائی ، ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی سلسلہ نہیں ہوا ، معاویہ بن حکم کی اپنی زبانی سنیے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قریب بلا کر کیا سلوک کیا ، فرماتے ہیں:

بأبي هو وأمي، ما ضربني ولا كهرني ولا سبني، ما رأيت معلماً قبله ولا بعده أحسن تعليماً منه، قال: «إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن

میرے ماں باپ حضور ﷺ پہ قربان ، نہ آپ نے مجھے مارا ، نہ ڈانٹا ، نہ برا بھلا کہا ، میں نے آپ ﷺ جیسا معلم نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ بعد میں کوئی نظر آیا ، آپ ﷺ نے محض اس قدر فرمایا:

یہ نماز ہے ، اس میں انسانی گفتگو کی گنجائش نہیں ، یہ صرف تسبیح وتکبیر اور قراءتِ قرآن ہے۔۔۔

نصیر مسیح کا انداز بتا رہا تھا کہ میری باتوں نے اسے ایک خوشگوار حیرت میں ڈال دیا ہے ، میری بات مکمل ہوتی دیکھ کر ایک بار پھر بولا:

کیا یہ ساری باتیں مسلمانوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں؟

میں نے اسے یقین دلایا کہ یہ باتیں ہماری انتہائی معتبر کتابوں میں ہیں۔۔۔

نصیر مسیح بولا: اس کا مطلب جن لوگوں نے مجھے زد وکوب کیا ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؟

میں نے کہا: ایسا تو میں نہیں کہوں گا ، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ وہ لوگ روحِ اسلام سے ناواقف ہیں۔۔۔

اور انتہائی افسوس سے کہوں گا کہ:

ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اسلام کی حقیقت سے بے بہرہ ہیں ، ان لوگوں کے کردار نے ہمارے اپنوں کو ہم سے دور اور غیروں کو مزید دور کر دیا ہے۔۔۔

نصیر مسیح!

اگر آپ کی ٹانگ توڑنے والی فکر اسلام ہوتی تو ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مسجد نبوی میں عبادت کرنے والے عیسائیوں کو کبھی نہ چھوڑتے ، یہودی لڑکے کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت کی اجازت نہ ملتی ، اور اس یہودی خادم کی بیماری پہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے کبھی نہ جاتے اور نہ ہی وہ لڑکا مرنے سے پہلے اسلام میں داخلے کو پسند کرتا۔۔۔

باتوں کا سلسلہ جاری تھا اور نصیر مسیح میری گفتگو سے انتہائی متاثر نظر آ رہا تھا کہ گاڑی کے ملتان ٹرمینل پہ پہنچنے کی اناؤنسمنٹ کے سبب ہمیں کچھ دیر کے لیے خاموش ہونا پڑا۔

اناؤنسمنٹ مکمل ہو چکی تو نصیر کے جملے کچھ اس طرح تھے:

مولانا صاحب! مجھے ملتان اترنا ہے ، اور اترنے سے پہلے میں برملا کہنا چاہوں گا کہ:

اگر اسلام وہ ہے جو آپ نے بتایا تو میں مسلمان نہ ہو کر بھی کہتا ہوں کہ اس زمین پر اسلام جیسا کوئی مذہب نہیں ، میں ایسے مذہب کی قدر کرتا ہوں اور آپ کی باتوں سے میرے دل میں اسلام کی محبت دوبارہ لوٹ آئی ہے۔

لیکن ایک گزارش ضرور کروں گا کہ :

اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسلام کا پیغام ہر گھر تک پہنچا سکیں تو ہر طرف جلتی نفرتوں کی آگ اور بات بات میں انتہاء پسندی کی روش کے بجائے حقیقی اسلام کو عام کریں۔۔۔۔

نصیر مسیح تو یہ جملے کہنے کے بعد گاڑی سے اتر گیا ، لیکن مجھے سوچنے کی دعوت دے گیا۔۔۔

نہ جانے کتنے لوگ ہماری شدت پسندی کا نشانہ بنتے ہیں۔۔۔

ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہیں اسلام پہ کوئی اعتراض نہیں ، لیکن ہماری من مانی تشریحات نے انہیں اسلام سے دور کر دیا ہے۔۔۔

اسلام جس آسانی اور مہربانی کے ساتھ نمودار ہوا تھا ، ہم نے اسے سختی اور تنگی کی زنجیریں پہنا دی ہیں۔۔۔

ہمارے اس انداز نے مذہب کا دائرہ انتہائی تنگ کر دیا ہے ، جس کے سبب اغیار تو اغیار ، نسل در نسل مسلمانوں کو بھی مذہب سے بیزار کر دیا ہے۔۔۔۔

اس کے بعد نصیر مسیح سے تو ملاقات نہیں ہوئی ، لیکن جہاں کہیں مذہب کے نام پہ پھیلائی جانے والی انتہاء پسندی نظر آتی ہے تو نصیر مسیح ضرور یاد آتا ہے۔۔۔

🖊 چمن زمان

رئیس جامعۃ العین۔ سکھر