أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَعۡدَ اللّٰهِ‌ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ‘ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اللہ کے وعد اور وعید کا معنی اور ان کی خلاف ورزی کی تحقیق :۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (الروم : ٦)

وعد کا معنی ہے کسی مفید اور نافع کام کی اس کے وقوع سے پہلے خبر دینا اور وعید کا معنی ہے کسی مضر اور ہلاکت خیز کام کی اس کے وقوع سے پہلے خبر دینا۔ یہ صرف رومیوں کی فتح کی خبر میں منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے امور میں سے جس چیز کا بھی وعدہ فرمایا ہے اور جس چیز کے وقوع کی خبر دی ہے اللہ تعالیٰ اس کے خلاف نہیں کرتا ‘ کیونکہ کسی چیز کا خبر کے خلاف واقع ہونا کذب ہے اور اللہ سبحانہ پر کذب محال ہے۔

وعدہ کی خلاف ورزی کرنا بالا تفاق اللہ تعالیٰ پر محال ہے کیونکہ کسی شخص سے انعام کا وعدہ کرنا اور پھر اس کو انعام نہ دینا باعث ملامت ہے اور نقص اور عیب ہے سو یہ اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہے کہ وہ کسی شخص سے انعام اور اکرام یا اجر وثواب کا وعدہ فرمائے اور اس کو اجرو ثواب دنہ دے۔ اور وعید کے خلاف کرے کو کرم اور رحم سے تعبیر کیا جاتا ہے مثلاً کوئی شخص کہے اگر تم نے چوری کی تو میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گا ‘ پھر جب وہ چوری کرے تو وہ شخص اس کو معاف کردذے اور اس کو سزا نہدے تو اس کو کرم اور رحم کہا جاتا ہے اور یہ باعث ملامت نہیں ہے بلکہ لائق تحسین ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ نے کافروں کو کفر اور شرک پر جس دائمی عذاب اور سزا کی خبر دی ہے وہ اس کے خلاف نہیں کرے گا اس پر مسممانوں پر اتفاق ہے ‘ لیکن گنہگار مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے جس سزا کی خبر دی ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ بعض گناہگار مسلمانوں کو معاف کر دے گا اور ان کو سزا نہیں دے گا اور یہ اس کا کرم ہوگا ‘ اور گنہ گار مسلمانوں کو اس کا سزانہ دینا اس کی وعید کی صرف ظاہری اور صوری خلاف ورزی ہے حقیقی خلاف ورزی نہیں ہے ‘ کیونکہ جو بھی وعید کی آیتیں ہیں ان میں یہ قید ملحوظ ہے کہ اگر میں چاہوں یا اگر میں معاف نہ کروں (تو سزادوں گا) مثلاً سود کھانے پر زکوۃ نہ دینے پر ‘ نماز نہ پڑھنے پر اور جھوٹ بولنے پر قرآن مجید میں وعید کی آیات ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کاموں پر سزا کی خبر سنائی ہے مگر ان تمام سزائوں میں یہ قید ملحوظ ہے کوہ اگر میں چاہوں ( تو یہ سزادوں گا) یا اگر میں معاف نہ کروں (تو یہ سزا دوں گا) اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے جن گنہ گار مسلمانوں کو معاف کردے گا وہ اس کی وعید کی خلاف ورزی نہیں ہوگی اور اس کو کذب یا جھوٹ نہیں کہا جائے گا ‘ اور یہ قید اس لیے ملحوظ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد جگہ یہ آیت ہے یغفر لمن یشاء و یعذب من یشاء (المائدہ : ١٨) وہ جس کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا ‘ اور متعدد آیات میں مسلمانوں کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور کتنی ہی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے کا حکم دیا ہے اور کتنی ہی آیات میں فرمایا ہے کہ وہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور یہاں تک فرمایا ہے :

آپ کہیے : اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا ‘ بیشک وہ بہت بخشنے والا ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہے (الزمر : ٥٣)

سو اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے گناہوں کی سزا کو معاف نہ فرمائے تو ایسی تمام آیات کا خلاف لازم آئے گا ‘ اس لیے مسلمانوں کی وعید کی تمام آیات میں یہ قید ملحوظ ہے کہ اگر اللہ معاف نہ فرمائے یا اگر اللہ ان کو سزا دینا چاہے تو ان کو سزا ملے گی ورنہ نہیں ‘ اور اس قید کو صراحۃً ذکر نہیں فرمایا تاکہ مسلمان معصیت کے ارتکاب پر دلیر نہ ہوجائیں ‘ اور جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو معاف فرمائے گا تو یہ ظاہری اور صوری طور پر آیات وعید کے خلاف ہوگا حقیقی طور پر آیات وعید کی خلاف ورزی نہیں ہوگی ورنہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب لازم آئے گا اور یہ محال ہے۔

ہم نے جو یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کی آیات وعید کی بہ ظاہر خلاف ورزی ہوگی ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار کیا آیات وعید کی مطلقاً خلاف ورزی نہیں ہوگی کیونکہ الللہ تعالیٰ کفر و شرک کو مطلقاً معاف نہیں فرمائے گا ‘ قرآن مجید میں ہے :

بیشک اس کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہے گا معاف فرمادے گا (النساء : ٤٨ )

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے وعد کی خلاف وررزی کرنا مطلقاً محال ہے اور گناہ گار مسلمانوں کی آیات وعید کی ظاہری اور صوری طور پر مخالفت فرمائے گا اور اس کی حقیقی خلاف ورزی کرنا محال ہے ‘ اور کفار کی جو آیات وعید ہیں ان کی خلاف ورزی مطلقاً محال ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 6