أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۖۚ وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

وہ ظاہری دنیاوی زندگی کا علم رکھتے ہیں اور وہ آخرت سے وہی غافل ہیں

دنیا دار لوگوں اور دین دار لوگوں کی سوچ اور فکر کا فرق 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ ظاہری دنیاوی زندگی کا علم رکھتے ہیں ‘ اور وہ آخرت سے وہی غافل ہیں (الروم : ٧)

یعنی اکثر لوگ کفار ہیں اور ان کو صرف دنیا کا علم ہے اور ان کو دنیا کا علم بھی کامل نہیں ہے ‘ ان کو دنیا کا علم صرف ظاہری ہے ‘ وہ دنیا کی رنگینیوں ‘ اس کی زیبائشوں ‘ اس کی لذتوں اور دنیا میں کھیل کود کی انواع اور تجارت اور حصول آمدنی کے ذرائع اور عیش و عشرت کی اقسام کا علم رکھتے ہیں اور وہ دنیا کے باطن کو نہیں جانتے ‘ دنیا میں مستغرق ہونے کے ضرر کو اور دنیاوی عیش و عشرت ‘ شکوہ اور سلطنت کے وبال کو نہیں جانتے وہ دنیا کی فنا سے غافل ہیں اور اس وجہ سے وہ آخرت اور قیامت اور مرنے کے بعد دوسری زندگی کے بھی منکر ہیں۔

حسن بصری نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ دنیا داروں میں سے لوگوں کو کوئی سکہ دیا جائے تو وہ جان لیتے ہیں کہ یہ کھرا ہے یا کھوٹا ہے اور اس میں کوئی خطا نہیں کرتے۔

ضحاک نے کہا دنیا دار اپنے محلات (بنگلوں اور کوٹھیوں) کے بنانے کے طربقوں کو ‘ نہریں نکالنے کو اور فصلوں اور باغات اگانے اور ان کی کاشت کے طریقوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا اکثر لوگ نہیں جانتے اس کا محمل ہے وہ امور دین کو نہیں جانتے اوراس آیت میں فرمایا ہے وہ جانتے ہیں اور اس کا محمل بیان فرما دیا ہے ‘ وہ ظاہری دنیاوی امور کو جانتے ہیں۔

اس آیت میں فرمایا اور یہی لوگ غافل ہیں یعنی یہ لوگ دنیا کے ظاہری امور میں اس قدر زیادہ مستغرق اور منہمک رہتے ہیں کہ انہیں قیامت کا ‘ مرنے کے بعد اٹھنے کا اور آخرت کا اور جزاء اور سزا کا کوئی خیال نہیں آتا ‘ اور یہ تو حیوانوں کی زندگی ہے جو صرف دنیا کی ظاہری چیزوں میں مشغول رہتے ہیں اور انہیں آخرت کا کوئی پتا نہیں ہوتا۔

دنیا دار ‘ لوگ صرف ظاہری چیزوں اور ظاہری کاموں میں مشغول رہتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کے اسرار منکشف نہیں ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء پر اللہ عزوجل کے دیدار اور اس سے ملاقات کے شوق کا غلبہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت انہیں دنیا کے معاملات اور دنیا کے کاموں کی تدبیر اور اس کے حصول کے منصوبوں اور طریقوں سے غافل کردیتی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 7