کرونا وائرس! ظالم قوتوں کے لیے نمونۂ عبرت

مسلمان رجوع الی اللہ کریں….

مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی تصنیف’’کرونا وائرس کی وبا اور قوم مسلم‘‘کا علمی تجزیہ

“اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دُنیا کا سیاسی، معاشی اور جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے والے؛ آج اپنے انجام سے خوف زَدہ ہیں۔”

✍️غلام مصطفیٰ رضوی

{نوری مشن مالیگاؤں} دُنیا مصائب سے گزر رہی ہے۔ ترقی یافتہ قوتوں نے اسلام دُشمنی میں کئی مسلم ملکوں کو تاراج کیا، خونِ مسلم سے اپنے ہاتھ رنگے، بچوں کو یتیم بنایا۔ بناتِ حوا کا سہاگ اُجاڑا۔ ماؤں کی گودیں سونی ہو گئیں۔ شام و یمن، لیبیا و عراق، افغانستان جیسے ملکوں میں آبادیاں بموں سے کھنڈر میں بدل دی گئیں۔ مصنوعی قحط مسلط کر کے لاکھوں افراد کو موت کی آغوش میں سُلا دیا گیا۔ اِس قدر ظلم ڈھایا گیا کہ لاکھوں خانماں برباد ہوئے۔ لاکھوں ہجرت کر گئے۔ انسانی وسائل سے عاری کیمپوں میں موت و زیست کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کتنے ہی کشتیوں سے ہجرت کے دوران سمندروں میں غرق ہو گئے۔ آج کروناوائرس کی وبا نے طاقتوں کے نشہ اور غرّہ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ دنیا کے بیش تر ممالک لاک ڈاؤن کے ذریعے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ سوپر پاورز تک اس وبا کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ اسلامی شعائر اور دینی احکام کا مذاق اُڑانے والوں کو اِس وبا نے ان کی وقعت بتا دی ہے۔ اِس رخ سے مفکرِ اسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ) تحریر فرماتے ہیں: ’’برطانوی وزیر اعظم کایہ طنز کہ مسلم لڑکیوں کا نقاب لیٹر بکس معلوم ہوتا ہے۔ آج پوری قوم کو وہی لیٹر بکس پہننے پر مجبور کر رہا ہے اور خود بیمار ہو کر صحت مند ہونے کا انتظار کر رہا ہے، ہر شخص یا تو خود حفاظتی کے تحت گھروں میں مقید ہے یا قانون کے جبر نے اسے نظر بند کر رکھا ہے۔ سڑکیں سنسان، آبادیاں ویران اور برطانیہ کے عالمی اسٹور ہیرڈس جو دوسری جنگِ عظیم میں بھی بند نہیں ہوئے تھے، آج مقفل ہیں۔ تمام تفریحی مقامات سنسان ہیں۔ سمندر کے ساحل اور کھیلوں کے اسٹیڈیم ویران ہیں۔ ساحلوں، کلبوں اور رقص گاہوں میں آسودہ گھرانوں کے نا آسودہ افراد کی عریانیت کے مظاہر ختم ہوچکے ہیں۔ دُنیا کے وزراے اعظم، صدور اور چانسلرز ٹی وی اور میڈیا کے دوسرے ذرائع سے عوام کو گھروں میں بند رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔‘‘

(کرونا وائرس کی وبا اور قوم مسلم،ص۲)عریانیت اور جدیدیت نے دہریت کو راہ دی۔ اسلام دُشمن قوموں نے رہِ حق سے مسلمانوں کو دور کرنے کے لیے برائیوں کی سرپرستی کی۔ شر کو نافذ کیا۔ خیر کے خلاف ماحول سازی کی۔ کرونا وائرس کی وبا نے ان کی عیش گاہوں کو سوٗنا کر دیا۔ جس برقع کے خلاف عالمی مہم چلائی گئی تھی؛ آج وہی ان ظالموں کو پناہ کا ذریعہ نظر آرہا ہے۔ وہ خود نقاب اوڑھ کر وبا سے بچنے کے جتن کر رہے ہیں۔ انھیں عملاً قبول کرنا پڑا کہ ’’پردہ‘‘ حفاظت کا ضامن ہے۔ دُنیا کی بڑی قوتوں نے برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے آنکھیں موند لی تھیں، خانماں بربادلُٹے پٹے قافلے نظر انداز کر دیے تھے۔ آج اس دَرد کی یاد تازہ کرنے کو کئی قافلے شاہراہوں پر نظر آ رہے ہیں، بھوک کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ علامہ قمرالزماں اعظمی تحریر فرماتے ہیں: ’’لاک ڈاؤن کے ماحول میں بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر بڑے بڑے شہروں سے لوگ کئی کئی سو میل کا سفر کر کے اپنے گھروں کی طرف جانے والے اس اجتماعی سفر میں یا تو کرونا کا شکار ہوں گے؛ یا کچھ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ کاندھوں پر اپنے ننھے بچوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے اور اپنی پیٹھ پر اپنی معذور بیوی یا ماں کو لادے ہوئے گھروں کو جانے والے؛ اُن اربابِ اقتدار کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں؛ جنہوں نے ابھی گزشتہ دنوں میں برما کے مہاجرین کو سفر کرتے ہوئے دیکھا ہے، مگر چوں کہ وہ مسلمان تھے، اس لیے کوئی بھی ملک ان کی مدد کے لیے نہ پہنچ سکا-” (نفس مصدر، ص۲۔۳)

ممبئی اور بڑے شہروں سے اپنے وطن کی جانب سفر کرنے والے لاکھوں افراد نڈھال پائے گئے، کتنے سسک کر دَم توڑ دیے۔ ان میں کئی وہ تھے جنھوں نے کرونا سے متاثر ہو کر جانیں دیں۔ کتنے ہی کرونا کا شکار بنے۔ آبادیاں متاثر ہوئیں۔ بچے بھوک سے نڈھال ہوئے۔ آبلہ پائی نے سیکڑوں خاندانوں کو صحراؤں میں موت و زیست سے ہمکنار کیا۔ ملکی استحکام کے دعوے داروں کی ترقی کا بھرم کھل گیا۔ اس سے کیا مظلوموں کے اس درد کا احساس زندہ ہوگا جن پر اقتدار نے مدتوں سے لاک ڈاؤن مسلط کر رکھا ہے؟ابھی سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایک دل دوز تصویر شائع ہوئی۔ کشمیری شخص کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس کا کمسن نواسہ نانا کی لاش پر بیٹھا بے چارگی سے رو رہا ہے۔ یہی انسانیت ہے کہ لاشوں پر جمہوری اقدار کے تحفظ کا دعویٰ کیا جائے، لمحۂ فکریہ ہے: ’’لاک ڈاؤن کےکرب سے بلبلاتے ہوئے لوگ؛ کاش! ان مجبور ملکوں کے بارے میں سوچ سکیں؛ جن کو طاقت وَر اقوام نے اپنی ہوسِ اقتدار پسندی کی تسکین کے لیے مدتوں سے لاک ڈاؤن کی درد ناک صورت حال سے دوچار کررکھا ہے…..اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دُنیا کا سیاسی، معاشی اور جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے والے؛ آج اپنے انجام سے خوف زَدہ ہیں۔ عالم گیریت کا نعرہ لگانے والوں کے پاس اِس عالم گیر وَبا کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔‘‘ (نفس مصدر،ص۳) موجودہ وبا نے جس طرح ساری دنیا میں مصائب کی شام طلوع کی، ترقی یافتہ قوتوں کو لرزا بر اندام کیا، اس سے احساسِ انسانیت بیدار ہونا تھا، ظلم و ستم سے باز آنا تھا، مظلوموں اور غریبوں کے درد کا احساس جگانا تھا، لیکن شاید احساس مر چکا ہے، جبھی عذاب کی دستک ہوئی۔ علامہ اعظمی تحریر فرماتے ہیں: ’’کاش! دُنیا کے اربابِ اقتدار اُن مظلوم قوموں کے بارے میں سوچتے جو ایک عالمی سازش کے تحت مسلط کی گئی جنگوں کی بنا پر موت، بھوک، بیماری، دربدری اور بے وطنی کا شکار ہوگئیں۔ جن کے ملکوں اور شہروں کو ’تورابورا‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔ عراق، لیبیا، شام، فلسطین، بوسینیا کی خوفناک جنگیں نام نہاد ترقی یافتہ قوموں کے سامنے ہیں، مگر دُنیا بھر کے مظلوموں کے حق میں کہیں سے کوئی آواز بلند ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔حقوقِ انسانی کی تنظیمیں او، آئی، سی وغیرہ خاموش تماشائی ہیں یا ظالموں کی حمایت کرتی نظر آرہی ہیں۔ ان حالات میں بے قصور مظلوموں کی آہوں نے بابِ اجابتِ الٰہی کو دستک دی، جس کے جواب میں مشیت نے آج کے نمرودوں اور فراعنہ کو مچھروں سے زیادہ غیر مرئی اور غیر محسوس وائرس کے ذریعے مبتلائے عذاب کر دیا ہے۔ کاش! کرونا وائرس دُنیا کے ظالموں کی آنکھیں کھول دے اور انہیں احساس ہو جائے کہ یہ ان کے مظالم کی سزا ہے۔‘‘ (نفس مصدر، ص۳) افسوس ان پر ہے جنھیں خادم الحرمین کا دعویٰ ہے،وہ مغرب کی اندھی تقلید میں اپنی روایات کا خون کر رہے ہیں۔ برائیوں کے مراکز قائم کر کے اسلام دشمن قوتوں کی تقلید میں سرپٹ دوڑ رہے ہیں، ان سے متعلق علامہ اعظمی رقم طراز ہیں: “عرب ممالک نے مغرب کی اندھی تقلید میں اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سنیما گھروں، ہوٹلوں، کلبوں اور شراب خانوں کے کلچر کو رواج دیا۔ حتیٰ کہ کرونا کے عذاب سے کچھ پہلے حجازِ مقدس کے بہت سے شہروں میں ناچ رنگ اور موسیقی کی محفلیں سجائی جانے لگیں۔ جدہ جہاں مسلمان احرام پہن کر جاتا ہے؛ وہاں بھی اسی طرح کے پروگرامات اسٹیج کیے جانے لگے۔ بالآخر مشیت کو جلال آگیا اور رب کعبہ کی ناراضی کا انجام یہ ہوا کہ کعبہ اور مسجد نبوی اور روضۂ رسولﷺ کا دروازہ بھی ان پر بند کر دیا گیا۔” (نفس مصدر، ص۴) گویا کورونا وائرس کی یہ وبا دعوتِ اصلاح ہے۔ حرمین کا تقدس پامال کرنے اورمقدس زمیں پر راگ راگنی و موسیقی کلچر کو فروغ دینے والوں کے لیے یہ موقع آنکھیں کھول دینے کو کافی ہے۔ لیکن شاید وہ بیدار ہونے کو تیار نہیں۔ انھیں معاشی زوال اور طبی بحران بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ مغرب کی اندھی تقلید نے ان کی سوچ کو یورپین چشمے سے دیکھنے کا عادی بنا دیا ہے۔ حالاں کہ بندۂ مومن کے لیے تو یہی بس ہے کہ؎

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجفعلامہ اعظمی نے مقالہ میں کتاب و سنت کی روشنی میں وباؤں کے نزول کے اسباب اور ان کے تدارک پر روشنی ڈالی ہے۔ درجنوں آیات سے استدلال کیا ہے اور بتایا ہے کہ وبائیں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے نازل ہوتی ہیں اور کفار پر عذاب الٰہی بن کر اترتی ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے۔‘‘

(سورۃ الشوریٰ:آیت ۳۰/کنزالایمان)ان اسباب و علل بھی روشنی ڈالی ہے، جن سے مصائب اور وبائیں درپیش ہوتی ہیں۔ برائیوں، بدکرداریوں کا عام ہونا، زکوٰۃ کی ادائیگی سے چشم پوشی، ناپ تول میں کمی،کتاب و سنت کی حکم عدولی سے مصائب نازل ہوتے ہیں۔مسلم حکمرانوں نے مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اسلامی احکام سے ایسا منھ موڑا کہ مبتلاے عذاب ہو گئے۔ علامہ اعظمی فرماتے ہیں: ’’ان تمام اعمال کے ذریعے مسلم حکمرانوں اور عوام نے خدا کے غضب کو دعوت دی ہے ۔ آج مشرق و مغرب میں اُمّتِ مسلمہ پر جو کچھ بیت رہی ہے انہی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ (نفس مصدر، ص۸) بلاؤں کا نزول مومنوں کے لیے آزمائش ہے اور رجوع الی اللہ کا سنہرا موقع۔ اِس رخ سے بھی علامہ قمرالزماں اعظمی نے کئی آیات و احادیث درج کی ہیں۔ توبہ کے ضمن میں دلائل پیش کیے ہیں اور ترغیبی تبصرے بھی کیے ہیں، کاش! مسلمانوں میں رجوع کی فکر بیدار ہو۔ علامہ موصوف نے یہ ثابت کیا ہے کہ’’مومن کے لیے بلائیں اور مصائب ترقی درجات کا ذریعہ ہیں-‘‘ (نفس مصدر، ص۱۸) عیسائیت کے خود ساختہ تصورِ گناہ اور اسلام کے نظامِ سزا و جزا کے متوازن و فطری اُصول پر عام فہم انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اسلام فطری تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ موجودہ مصائب کا واحد حل اسلام میں موجود ہے۔ سچی توبہ کے ثمرات بھی ذکر کیے ہیں۔ اخیر میں روحانی عمل بھی پیش فرمایا ہے کہ وباؤں سے حفاظت کے ظاہری و روحانی دونوں اسباب ہیں۔حضور مفتی اعظم کا محررہ (بے نظیر عمل) درج فرمایا ہے؛ جس میں کئی روحانی فوائد مضمر ہیں۔ ’’کرونا وائرس کی وبا اور قومِ مسلم‘‘ مسلمانوں کی فوز و فلاح اور رجوع الی اللہ کا فکر انگیز پیغام ہے۔ یہ کتاب طباعت کے مرحلہ میں ہے۔ نوری مشن مالیگاؤں سے تقسیم ہوگی۔ مقامی افراد کے لیے ہارڈ کاپی اور بیرونی قارئین کے لیے سافٹ کاپی بِنا قیمت دستیاب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ! ہمیں سچا مسلمان بنائے۔ احکامِ اسلامی پر عمل کا جذبۂ صالح عطا کرے۔ آمین

٭ ٭ ٭

٧؍ جولائی ۲۰۲۰ء

بروز منگل