تُرکش ڈرامے

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کِرام کہ:

تُرک صدر کی ترغیب پر ، وزیرِ اعظم پاکستان نے ڈرامہ ” Diriliş Ertuğrul ” اردو زبان میں چلانے کا آرڈر جاری کیا ہے ، جس پر یکم رمضان سے عمل ہونے جارہا ہے ۔

اس ڈرامے کا تقریباً تمام اسلامی ممالک میں شہرہ ہے ، اور دنیا کی بڑی بڑی‌ زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔

کیا اسے دیکھنا شرعاً جائز ہے یاناجائز ؟

اگر ناجائز ہے تو کس درجے کا …. اگر جائز ہے تو کیسے ؟

یہ ڈرامہ دیکھ تو بہت سارے لوگ رہے ہیں ، لیکن اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟‌

یہ ابھی تک تفصیلی طور پر بیان نہیں کیا گیا ۔

اس لیے آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ‌اس کا ترجیحاتی‌بنیاد پر شرعی حکم بیان فرمائیں ، اللہ ﷻ آپ کو اجر دے گا ۔

شرعی حکم بیان کرنے سے پہلے کچھ چیزیں ملحوظ رکھی جائیں ۔

یہ ڈرامہ اور اس جیسے دیگر تُرکی ڈرامے ( کوت العمارہ ، سلطان عبدالحمید ، کورلش عثمان وغیرہ )

ایک خاص سوچ کے تحت بنائے جارہے ہیں ۔

اِن ڈراموں میں یہ چیزیں ملتی‌ہیں:

1: محبت وتعظیم رسول اور شعائر اسلامیہ کی حفاظت کادرس

2: مسلمانوں کے عالمی خوف اور مایوسی کا خاتمہ ‌

3: خلافت کی برکتیں اور اس کے فوائد

4: مشکل وقت میں اللہ کو پکارنا اور ہمت نہ‌چھوڑنا

5: نماز اور جمعہ کی‌ادائگی

6: جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت

7: دم‌ِنزع کلمہ طیبہ کے ذکر کا التزام

8: علما اور صوفیہ سے رہنمائی‌اور ان کا احترام

9: میاں بیوی کی ایک‌دوسرے سے وفا

10: عورتوں کا مردوں کی طرح جہاد کرنا

11: امور خانہ‌داری‌ اور بچوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ معاشی‌ بہتری کے لیے ، مردوں کے ساتھ محنت کرنا

12: عقل مندی اور دانائی سے دشمنوں کی چالیں انھی پر پلٹنا ، اور دن بہ دن ترقی‌کرنا وغیرہ

اس کے ساتھ ساتھ ا‌ن ڈراموں میں یہ‌چیزیں بھی ہیں ۔

1: مسلمانوں کو کافروں کے کردار میں پیش کرنا ، اور ان کے طور اطوار سے کفریہ‌ شِعائِر کا اظہار ہونا ۔

2: نامحرموں کو آپس میں محرم دکھانا ، اور محرموں ، نامحرموں کا باہمی‌اختلاط ۔

3: بے پردگی‌اور عِشقیہ ، فِسقیہ مناظر

4: موسیقی کی نہ ختم ہونے والی دُھنیں ۔

5: خشخشی داڑھیاں اور عورتوں جیسے لمبے بال وغیرہ ۔

خیر و شر کے ان دونوں پہلووں کو ملحوظ رکھ کر شرعی حکم بیان کیا جائے !

مُسْتَفتِی‌: لقمان شاہد

23-4-2020 ء

الــــــــــــجــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــــــــــــ

بــــــعـــــون المـــــــلـــــــک الــــــــوھــــــابــــــــــــــــ

اس سلسلے میں نظر وفکر کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا جا سکا وہ یہ ہے کہ:

ایسے سلسلے جو نئی نسل میں بیدارئ شعور میں ممد ومعاون بنیں ، اہلِ اسلام کے تابناک ماضی کو یاد کر کے اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کا جذبہ پیدا کریں ، رب جل وعز اور رب کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی محبت کا ذریعہ بنیں۔۔۔۔ اس قسم کے سلسلے وقت کی ضرورت تو ہیں ، لیکن ان کے لیے منہیاتِ شرعیہ سے پاک ہونا شرط ہے۔ البتہ جو سلسلے تاحال منظرِ عام پر آئے ہیں ، اور ان کی معلومات ہم تک پہنچی ہیں ، کئی ایک خرابیوں اور برائیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نہ ان کا بنانا جائز ہے اور نہ ہی دیکھنا جائز۔ جو لوگ انہیں پھیلا رہے ہیں وہ اشاعتِ فاحشہ کے مرتکب اور جو دیکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں وہ معاونت علی الاثم کے باعث گرفتارِ معصیت ہیں۔

مقاصدِ حسنہ کے پیشِ نظر اگر محض عشقیہ وفسقیہ فلموں ڈراموں کی طرح حرام نہ ہوں تو دیگر بہت سی ایسی چیزیں اس طرح کے فلموں ڈراموں میں پائی جاتی ہیں جو انہیں عام فلموں ڈراموں سے زیادہ خطرناک اور شدید حرام بنانے کے لیے کافی ہیں۔

قدرے تفصیل یوں ہے کہ:

اللہ کریم کا ارشادِ گرامی ہے:

ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (1)

اپنے رب کے رستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلائیے اور اُن سے اس طریقے سے بحث کیجیے جو سب سے بہتر ہو۔

مفسرینِ کرام کی تصریحات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سامنے لوگوں کے تین طبقات تھے:

(1): خواص (2): عوام (3): معاندین

پس اللہ کریم جل وعلا نے ہر ایک کو بلانے کے لیے ایسا طریقہ ارشاد فرمایا جو ان کے حال کے موافق ولائق تھا۔ خواص کے لیے “حکمۃ” ، عوام کے لیے “الموعظۃ الحسنۃ” اور معاندین کے مقابلے میں “جادلھم بالتی ھی احسن” فرمایا۔

یہیں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ راہِ خدا کی جانب دعوت کے لیے لوگوں کے احوال اور ان کے مزاج کا لحاظ فریضہ دعوت میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اور ہم اس بات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ :

دورِ حاضر میں عوام کی بڑی اکثریت کی توجہ وعظ ونصیحت کی محافل اور کتب بینی سے ہٹ چکی ہے۔

عامۃ الناس کو جو چیزیں ڈرامائی انداز میں دکھائی جائیں ، اس کو دیکھنے کو بھی تیار ہیں اور اس سے اثر لینے کو بھی۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو قصہ پڑھا یا سنا جائے ، اسے یاد رکھنا اورترتیبِ واقعات اتنا سہل نہیں جتنی آسانی دیکھے ہوئے واقعہ کو یاد رکھنے میں ہوتی ہے۔

خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

ليس الخبر كالمعاينة

خبر دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی۔

اللہ کریم نے حضرت موسی علیہ السلام کو بچھڑے کے بارے میں ان کی قوم کی حرکت کا بتایا ، لیکن حضرت موسی علیہ السلام نے سننے کے باوجودالواحِ مقدسہ کو تھامے رکھا۔لیکن جب ان کی حرکت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو تختیاں ڈال دیں جو ٹوٹ گئیں۔(2)

نیز اس قسم کے سلسلے کم عمر بچوں کی ذہن سازی کا آسان ترین طریقہ ہیں ، کیونکہ بچوں کو پڑھ کے سنانے وغیرہ سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا اور نہ ہی بچوں کی ایسی دلچسپی ہوتی ہے جو فائدہ اور دلچسپی سامنے نظر آنے والے مناظر میں ہوتی ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ اسلام دشمن قوتیں نئی نسلوں کا ذہن خراب کرنے ، اپنی فکر اور ثقافت کو مسلط کرنے کے لیے ہر محاذ کو استعمال کر رہی ہیں۔ اور :

وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ(3)

کے مقتضی پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی اخلاقی ، شرعی ، ملی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسلوں کو راہِ حق سے بھٹکنے سے بچائیں اور ان کی ذہنی وقلبی تربیت کے لیے ہر محاذ پر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

ویڈیو گرافی کا مسئلہ اگرچہ علماء کے بیچ مختلف فیہا ہے ، اور ہر دو جانب اصحابِ علم ودانش اور واجبِ احترام شخصیات موجود ہیں۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ ویڈیو گرافی جب:

ممنوعات شرعیہ سے خالی ہو۔

مصلحتِ شرعیہ پر مشتمل ہو۔

تو جانبِ جواز اقوی ہو جاتی ہے۔

رہی بات اداکاروں کے غیر حقیقی صورت میں ظاہر ہونے کی ، تو اگر مذکورہ بالا دونوں امر ملحوظ رہیں تو اس سے منع کی بھی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں فرشتے کا غیر حقیقی صورت میں نابینا ، برص والے اور گنج پن کے شکار شخص کے پاس آنا اور ان کا امتحان لینا مذکور ہے۔ (4)

بلکہ جنابِ سیدنا داود علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے پاس دو فرشتوں کا دو فریق بن کر آنا خود قرآن عظیم نے ذکر فرمایا۔(5)

لہذا اگر مذکورہ بالا قیود بالتمام والکمال ملحوظ رہیں تو اداکاروں کا غیر حقیقی صورت میں ظاہر ہونا بھی منع نہیں۔

گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ علماء کے بیچ جس مسئلہ کو مختلف فیہا کہا گیا وہ “بے مقصد فلمیں ڈرامے” نہیں۔ بے مقصد یا عشقیہ وفسقیہ فلمیں ڈرامے بالاتفاق ناجائز وحرام ہیں۔ البتہ:

ایسے ڈرامے یا فلمیں جن کے ذریعے لوگوں کو اسلامی اخلاق واقدار ، اسلامی تاریخ ، زمانے میں موجود فساد پر تنبیہ ، نیک لوگوں کی سیرت یا اس قسم کے امور کی تعلیم مقصود ہو ،

بشرطیکہ وہ لوگ اپنے آپ کو غیر حقیقی (یعنی فقط ایکٹر) ہی ظاہر کر رہے ہوں۔۔۔

ان کے بارے میں اختلاف ہے۔

ایک رائے کے مطابق جیسے عام فلمیں ڈرامے منع ہیں ، یونہی فلموں ڈراموں کی یہ قسم بھی منع ہے۔

جبکہ دوسری رائے کے مطابق “شرعی ضابطوں کی رعایت کی شرط کے ساتھ” اس قسم کے سلسلے جائز ہیں۔

اور گزشتہ سطور میں عرض کیا جاچکا کہ “ممنوعاتِ شرعیہ سے خلو” اور “مصلحتِ شرعیہ پر اشتمال” کی شرط سے جانبِ جواز اقوی ہے۔ “شرعی ضابطوں” کی رعایت اس سلسلے میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ شرعی ضوابط کے ذکر سے قبل سوال میں مذکور ڈراموں کی حیثیت پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں:

مشہور ہے کہ اس قسم کے ڈرامے ایک مخصوص سوچ کے تحت بنائے گئے ہیں۔ اور جہاں تک اس سوچ کا تعلق ہے تو جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس لحاظ سے تو وہ سوچ لائقِ ستائش ہے۔ اور قاعدہ ہے کہ:

“الامور بمقاصدھا” (6)

اور ان مقاصد کے ساتھ ساتھ وہ فوائد جو آپ نے ذکر کیے ، دورِ حاضر میں فلموں ڈراموں جییے چیز سے اس قسم کے فوائد کا حصول کوئی معمولی بات نہیں۔

لیکن :

قاعدہ مذکورہ کی تطبیق کے لیے جو امر واجب اللحاظ ہے وہ یہ ہے کہ :

“الامور بقاصدھا” میں “امور” سے مراد “الامور المباحۃ فی نفسھا” ہیں۔ واجب فی نفسہ بہر حال واجب ہے اور حرام لعینہ بھی بہر صورت حرام ہے۔ البتہ امور مباحہ فی نفسھا کی صفت مقصود لاجلہ کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔

الاشباہ والنظائر میں قاعدہ مذکورہ کے بیان سے پہلے تمہیدی کلمات کے طور پر فرمایا:

ومن هنا ومما قدمناه يعني في المباحات، ومما سنذكره عن المشايخ، صح لنا وضع قاعدة للفقه؛

هي الثانية: القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها(7)

اس کے تحت غمز عیون البصائر میں فرمایا:

وقوله وما قدمناه يعني في المباحات وهو أن المباح يختلف صفة باعتبار ما قصد لأجله. (8)

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ مقاصد مباحہ یا مرغوب فیہا ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان تک پہنچانے والے تمام وسائل واسباب بھی مباح ومرغوب فیہ ہو جائیں ، بلکہ صرف وہ اسباب ووسائل جو ازروئے شرع فی نفسہا مباح ہوں ، صرف ان ہی کی صفت مقصود لاجلہ کے اعتبار سے مختلف ہو گی۔

اگر وسیلہ وسبب فی نفسہ منہی عنہ ہو تو مقصد کے مباح یا مرغوب فیہ ہونے سے وسیلہ وسبب کی صفت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم ودیگر کتبِ حدیث میں حر ت ابو سعید خدری وجنابِ ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص دربارِ رسالت میں اعلی قسم کی کھجور لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پوچھا:

أكل تمر خيبر هكذا؟

خیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہے؟

عرض کی نہیں۔ ہم تو دو صاع کھجور دے کر ایسی ایک صاع کھجور حاصل کرتے ہیں اور تین صاع کے بدلے دو صاع ملتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تفعل، بع الجمع بالدراهم، ثم ابتع بالدراهم جنيبا

ایسا مت کر ، ردی کھجور کو درہموں کے بدلے بیچو ، پھر درہموں کے ذریعے اعلی کھجور خریدو۔(9)

اس حدیث سے علماءِ اسلام نے یہ ضابطہ اخذ کیا کہ:

جائز ومباح مقصود تک رسائی کے وسیلہ وطریق کا شرعا جائز ومباح ہونا ضروری ہے۔ شریعتِ اسلامیہ ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ امرِ مباح کے حصول کے لیے کسی ناجائز امر کا ارتکاب کیا جائے۔

الموافقات میں ہے:

فالقصد ببيع الجمع بالدراهم التوسل إلى حصول الجنيب بالجمع ، لكن على وجه مباح(10)

یونہی جب عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث اور فضل بن عباس نے دربارِ رسالت علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں حاضر ہو کر عرض کی:

قد بلغنا النكاح ، فجئنا لتؤمرنا على بعض هذه الصدقات، فنؤدي إليك كما يؤدي الناس، ونصيب كما يصيبون

ہم نکاح کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، اس لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں ان صدقات میں سے کسی پر مقرر فرما دیں ، ہم ویسے ہی ادائیگی کرتے رہیں جیسے دوسرے لوگ ادائیگی کرتے ہیں اور جیسے دوسروں کو کچھ اجرت مل جاتی ہے ، ہمیں بھی مل جائے۔

یہ دونوں حضرات نکاح کرنا چاہتے تھے لیکن اس کے لیے وسیلہ ایسی چیز کو بنانا چاہ رہے تھے جو شرعا درست نہیں تھا۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے منع فرماتے ہوئے فرمایا:

إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد إنما هي أوساخ الناس

صدقہ آلِ محمد کے لائق نہیں ، کیونکہ یہ لوگوں کی میل کچیل ہے۔

مقصدِ حسن کو نادرست طریقے سے حاصل کرنے سے روکنے کے بعد بطریقِ مباح تحصیل کے لیے محمیہ اور نوفل بن حارث کو بلا کر محمیہ سے فرمایا کہ اپنی بیٹی کا نکاح فضل بن عباس سے کر دو اور جنابِ نوفل بن حارث سے فرمایا کہ آپ اپنی بیٹی کا نکاح عبد المطلب بن ربیعہ سے کر دو۔ اور جنابِ محمیہ چونکہ خمس پر مقرر تھے ، ان سے فرمایا کہ ان دونوں کی طرف سے اتنا اتنا مہر خمس میں سے ادا کر دو۔(11)

پس ثابت ہوا کہ:

امر منہی عنہ اگر کسی امرِ مباح یا شرعا مندوب ومستحسن امر کا ذریعہ ووسیلہ بنے تو مقصد کو دیکھتے ہوئے اس ممنوع اور قبیح فعل کو جائز نہیں کہا جا سکتا۔

اور جب سوال میں مذکور اور ان جیسے دیگر ڈراموں یا فلموں کا معاملہ معلوم کیا جاتا ہے تو وہ متعدد برائیوں کا مجموعہ نظر آتے ہیں۔لہذا قاعدہ “الامور بمقاصدھا” کو سامنے رکھتے ہوئے اس قسم کے ڈراموں کے جواز کی بات کرنا درست نہیں۔

ان ڈراموں کی چند برائیاں:

ان ڈراموں اور ان جیسے دیگر فلموں ڈراموں کی جو خرابیاں معلومات کے بعد اطلاع میں آئیں ان میں سے بعض کو آپ نے سوال میں بھی ذکر کیا ، جیسے:

مسلمانوں کو کافروں کے کردار میں پیش کرنا ، اور ان کے طور اطوار سے کفریہ‌ شعائِر کا اظہار ہونا ۔

مسلمان کو کافر کے کردار میں پیش کرنا معمولی برائی نہیں ، کیونکہ بعض اوقات اسے کفریات بکنا پڑتے ہیں یا کفریہ شعائر کا اظہار کرنا پڑتا ہے ، اور یہ دونوں ہی کفر ہیں۔

فتاوی قاضیخان ، پھر فتاوی ہندیہ اور البحر الرائق ، پھر مجمع الانھر اوردر مختار میں ہے:

من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده(12)

ہمارے بعض اہلِ علم دوستوں نے “نقلِ کفر کفر نباشد” کو دلیل بناتے ہوئے اس کفر متفق علیہ کو معمولی قرار دے دیا كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ یَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ ، حالانکہ قاعدہ “نقلِ کفر کفر نباشد” کو مسئلہ ما نحن فیہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

نقلِ کفر جیسے : قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ، فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى ، قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ

یہ نقلِ کفر ہے ، لیکن اگر “قالو ، فقال ، قالوا” کو ہٹا دیا جائے تو اب نقلِ کفر ہرگز نہ کہلائے گی وذلک اظہر من ان یخفی

اور مسئلہ ما نحن فیہ میں تکلم بالکفر ، یا اظہارِ شعائرِ کفر ھازلا یا لاعبا ہے جسے نقلِ کفر کی جزئیات سے شمار کرنا درست نہیں۔

شاید علامہ صاحب زید مجدہ کو فتاوی ملک العلماء کے ایک فتوی سے شبہ ہوا ، وہ فتوی فتاوی ملک العلماء ص 222 تا 224 پہ موجود ہے۔ ایک طالبِ علم نے اولا کفریات بکے اور بعد میں آریہ سے نقل کا دعوی کر دیا ، جس پر علامہ ظفر الدین بہاری رحمہ اللہ تعالی نے حکمِ کفر نہیں لگایا۔

واضح رہے کہ اس طالبِ علم کے حوالے سے علامہ ظفر الدین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے دو واقعات رکھے گئے۔ جن میں سے ایک واقعہ میں اس نے کفریات بکے لیکن نقل کی صراحت نہیں کی۔ دوسرے موقع پر اس نے آریہ سے نقل کی صراحت کر کے اس بات کو لکھ دیا۔ چونکہ دوسرے موقع پر اس نے نقل کی صراحت کی اس لیے تکفیر کی کوئی وجہ نہ بنتی تھی ، سو علامہ ظفر الدین رحمہ اللہ تعالی نے تکفیر نہ فرمائی۔ رہی بات پہلے واقعہ کی جس میں نقل کی صراحت کے بغیر کفریات بکے ، علامہ بہاری رحمہ اللہ تعالی نے اس واقعے کا اعتبار نہیں کیا۔ کیونکہ دعوی کرنے والے کے پاس شرعی گواہ موجود نہ تھے اور وہ لوگ متہم بھی تھے۔ نیز ظاہر بھی اس واقعہ کے خلاف تھا ، سو عدمِ اعتبار کی وجہ سے علامہ ظفر الدین بہاری رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تکفیر نہ فرمائی ، نہ یہ کہ واقعہ کو درست مانا اور آٹھ دس مہینے بعد اس کا دعوی کہ “میں نے اس وقت جو کفریات بکے تھے اس فعل میں میں ناقل تھا” کا اعتبار کرتے ہوئے اس کی تکفیر سے باز رہے۔

میری اس گفتگو کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جو لوگ فلموں ڈراموں میں کفار کا کردار ادا کرتے ہیں ، وہ لوگ کافر ، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ حاشا وکلا ، میں ان لوگوں کو ہرگز کافر نہیں کہہ رہا ، بلکہ معاملے کی سنگینی عرض کر رہا ہوں۔ یہ وہ فعل ہے کہ جس پر ہمارے ائمہ وعلماء کفر کا حکم لگاتے ہیں ، اور ہم کچھ موہوم فوائد کی خاطر ان کے جواز کی راہ نکال لیں تو کتنی بڑی زیادتی ہو گی۔

اور بالخصوص اس وقت جبکہ کفار کے کردار کی ادائیگی میں ذاتِ باری تعالی ، آیات ربانیہ اوررسلِ عظام سے استہزاء کا کردار اپنانا پڑے ، شعائرِ اسلامیہ کا مذاق اڑانا پڑے ، کیا یہاں بھی نقل کا عذر پیش کرتے ہوئے جواز کی راہ نکالی جائے گی؟؟؟ تَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ

ایک قوم نے اس قسم کی حرکت کے بعد جب کھیل مذاق کا عذر پیش کیا تھا تو اللہ کریم نے یہ آیات نازل فرمائیں:

وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ(13)

یہ معاملہ ایسا معمولی نہیں کہ مقاصد مرغوب فیہا ہونے کے باعث اس کے جواز کی راہ نکالی جا سکے ، لہذا مقاصدِ حسنہ کی خاطر بنائے جانے والے سلسلوں کا اس قسم کے کردار سے پاک ہونا ضروری ہے۔

بے پردگی:

جن لوگوں نے اس ڈرامہ کو دیکھا ان کے مطابق کوئی قسط ایسی نہیں ہو گی جس میں :

ننگے سر عورتیں نہ دکھائی جائیں۔

اور صرف سر ہی ننگے نہیں ہوتے ، بلکہ:

بدن کے اور بہت سے اعضاء جنہیں چھپانا بالاجماع واجب اور ان کا اظہار بالاتفاق حرام ہے ، وہ بھی نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

اور یہ وہ فعل ہے کہ جس کی حرمت قرآن وحدیث سے ثابت اور اہلِ اسلام کے بیچ مجمع علیہ ہے۔ اللہ کریم جل مجدہ نے فرمایا:

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى(14)

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور پہلی جاہلیت جیسی بے پردگی نہ کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا (15)

جہنمیوں کے دو گروہوں کو میں نے (تاحال) نہیں دیکھا۔ ایک وہ قوم جن کے پاس گایوں کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جس سے وہ لوگوں کو پیٹیں گے۔ اور وہ عورتیں جو کپڑے پہن کر ننگی ، راہِ راست سے بہکانے والی اور خود بہکی ہوئی۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی ڈھلکی کوہانوں کی مانند۔ نہ وہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہے۔

بعض دوست یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خرابی بہت تھوڑی ہے ، لہذا اس کی وجہ سے عوام کو ان فوائد سے محروم نہیں رکھنا چاہیے جو اس ڈرامے کو دیکھنے سے حاصل ہونے والے ہیں۔

میں قاعدہ “درء المفاسد اولی من جلب المصالح” کے بارے میں بعد میں گفتگو کروں گا ، یہاں صرف تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا:

پہلی بات تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے ، فرمایا:

إياكم ومحقرات الذنوب فإنما مثل محقرات الذنوب كقوم نزلوا في بطن واد، فجاء ذا بعود، وجاء ذا بعود حتى أنضجوا خبزتهم، وإن محقرات الذنوب متى يؤخذ بها صاحبها تهلكه (16)

گناہوں میں سے ہلکی سمجھی جانے والی چیزوں سے بچو۔ کیونکہ ہلکے سمجھے جانے والے گناہوں کی مثال اس قوم جیسی ہے جو کسی وادی میں اترے ، ایک آدمی ایک لکڑی لے کر آیا ، دوسرا بھی ایک لکڑی لایا یہاں تک (کہ ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں ہو گئیں کہ) انہوں نے اپنی روٹی پکا لی۔ اور بے شک حقیر سمجھے جانے والے گناہوں پر جب بندے کی پکڑ ہوتی ہے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ:

جو سین ہمیں معمولی اور مختصر نظر آتے ہیں ، انہیں فلمانے کے لیے نہ جانے کتنی بار گناہ کا ارتکاب کیا گیا ہو گا۔ کیونکہ ایک ایک سین کو فلمانے کے لیے اسے بار بار کیا جاتا ہے ، بسا اوقات تو کئی طریقوں سے ادا کیا جاتا ہے اور ان میں سے جو پاس ہوتا ہے اسے منظرِ عام پہ لایا جاتا ہے۔ یعنی ایک برائی دکھانے کے لیے بیسیوں بار اسے کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہمیں دکھائی جانے والی مختصر سی برائی کے پیچھے لازمی طور پر برائیوں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہوتا ہے۔ اعاذنااللہ تعالی من ذلک

تیسری بات:

یہاں بات صرف برائی پر اشتمال کی نہیں، بلکہ برائی پر مشتمل سین دیکھ کر برائی پر ملنے والی ترغیب کی طرف نظر کرنا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مزید گزارشات آئندہ سطور میں آتی ہیں۔

ایک اور خرابی جس کا آپ نے ذکر کیا کہ:

“نامحرموں کو آپس میں محرم دکھانا ، اور محرموں ، نامحرموں کا باہمی‌اختلاط ۔”

جو دین نگاہ کی حفاظت کو لازم کرے ، وہ اختلاط کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔اللہ کریم کا ارشاد گرامی ہے:

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ (17)

اے حبیب آپ ایمان دار مردوں سے فرمائیں کہ وہ اپنی نظریں جھکا کے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ ستھرا ہے۔ بے شک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔ اور آپ ایمان دار عورتوں سے فرمائیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا:

يا علي، لا تتبع النظرة النظرة، فإنما لك الأولى، وليست لك الآخرة (18)

اے علی ! ایک نظر کے بعد دوسری نظر مت ڈال ، کیونکہ پہلی تیرے لیے ہے لیکن دوسری تیرے فائدے میں نہیں۔

امام حاکم نے اسے روایت کرنے کے بعد فرمایا:

هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه

ذھبی نے تلخیص میں فرمایا:

على شرط مسلم

اختلاط میں دیکھنا ، بات چیت کرنا اور سننا لازمی امور ہیں۔ اور صحیح بخاری وصحیح مسلم دونوں میں ہے ، صحیح مسلم کے الفاظ یوں ہیں:

العينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام، واليد زناها البطش، والرجل زناها الخطو (19)

آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے۔ کانوں کا زنا سننا ہے۔ زبان کا زنا گفتگو ہے۔ ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے۔ پاؤں کا زنا چلنا ہے۔

احادیث وآثار کی حرمتِ اختلاط کے باب میں کثرت ہے لیکن نصیحت اور بیانِ حکم کے لیے اس قدر کافی ہے۔ اور پھر فقط اختلاط نہیں ، مذکورہ ڈراموں میں :

ایک دوسرے کو چھونا

بلکہ بوس وکنار تک کا تبادلہ موجود ہے۔

حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

وليزحم رجل خنزيرا متلطخا بطين، أو حمأة خير له من أن يزحم منكبه منكب امرأة لا تحل له(20)

مرد کیچڑ یا گارے میں لتھڑے خنزیر سے لگ جائے ، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنا کندھا کسی ایسی عورت کے کندھے سے لگائے جو اس کے لیے حلال نہیں۔

حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

لأن يُطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمسّ امرأة لا تحلّ له(21)

تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی سے چبھویا جائے ، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں۔

ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح(22)

اور اجنبی عورت کے بوسہ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے منہ کا زنا قرار دیا ، فرمایا:

والفم يزني فزناه القبل(23)

اور منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ ہے۔

فقہاءِ مذاہبِ اربعہ اجنبی عورت کو چھونے ، ہاتھ ملانے ، بوس وکنار ان سارے امور کے حرام ہونے پر متفق ہیں۔ اور اس کے لیے شہوت ہونے یا نہ ہونے کے بیچ کوئی فرق نہیں کرتے۔

ہدایہ شریف میں ہے:

“ولا يحل له أن يمس وجهها ولا كفيها وإن كان يأمن الشهوة”(24)

الاختیار میں ہے:

“ولا ينظر إلى المرأة الأجنبية إلا إلى الوجه والكفين إن لم يخف الشهوة، فإن خاف الشهوة لا يجوز إلا للحاكم والشاهد، ولا يجوز أن يمس ذلك وإن أمن الشهوة”(25)

حافظ زیلعی فرماتے ہیں:

“ولا يجوز له أن يمس وجهها ولا كفيها وإن أمن الشهوة لوجود المحرم وانعدام الضرورة والبلوى”(26)

ابنِ نُجیم حنفی فرماتے ہیں:

ولا يجوز له أن يمس وجهها ولا كفها(27)

مرد کے لیے اجنبی عورت کا چہرہ یا ہاتھ چھونا جائز نہیں۔

علامہ شامی نے فرمایا:

“فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة”(28)

مذہبِ مالکی کی معتبر کتاب منح الجلیل میں فرمایا:

ولا يجوز للأجنبي لمس وجه الأجنبية ولا كفيها(29)

اجنبی مردکے لیے اجنبی عورت کا چہرہ یا ہتھیلیاں چھونا جائز نہیں۔

امام نووی شافعی فرماتے ہیں:

ولا يجوز مسها في شيء من ذلك(30)

ان میں سے کسی صورت میں اجنبی عورت کو چھونا جائز نہیں۔

الاذکار میں ہے:

“وقد قال أصحابنا كل من حرم النظر إليه حرم مسه بل المس أشد، فإنه يحل النظر إلى الأجنبية إذا أراد أن يتزوجها وفي حال البيع والشراء والأخذ والعطاء ونحو ذلك، ولا يجوز مسها في شيء من ذلك”(31)

حصنی شافعی کہتے ہیں:

“وأعلم أنه حيث حرم النظر حرم المس بطريق الأولى لأنه أبلغ لذة”(32)

ابنِ مفلح حنبلی رقمطراز ہیں:

وسئل أبو عبد الله عن الرجل يصافح المرأة قال : لا وشدد فيه جداً(33)

امام ابو عبد اللہ (امام احمد بن حنبل) سے مرد کے عورت سے مصافحہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے انکار فرمایا اور اس بابت نہایت سختی فرمائی۔

چونکہ بعض حضرات اس قسم کے حرام کاموں کو بالکل ہلکا سمجھ رہے ہیں اس وجہ سے ان حوالہ جات کی ضرورت پڑی ، ورنہ جو شریعت مسجد حاضری کے لیے عورت سے فرمائے:

إذا شهدت إحداكن المسجد فلا تمس طيبا(34)

جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو خوشبو نہ لگائے۔

حالانکہ :

وہ دور فتنوں کا دور نہ تھا

اور مسجد میں آنا عورت کی ضرورت بھی تھی ،تاکہ وہ دینِ اسلام اور اخلاقِ اسلامیہ کی تعلیم حاصل کر پائے۔

اتنی اہم ضرورت کے باوجود شرع شریف باہر نکلنے کے لیے ضوابط مقرر کر رہی ہے اور خوشبو لگا کر نکلنے میں فتنہ کا اندیشہ ہونے کے سبب منع فرما رہی ہے، پھر :

وہ موہوم فوائد جن کی وجہ سے ہم اس قسم کے مسلسلات کے جواز کی جانب مائل ہیں ، ان موہوم فوائد کے لیے :

اتنی بڑی بڑی برائیوں سے کیسے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے؟؟؟

اور یہ تو وہ چیزیں ہیں جو کیمرہ کے سامنے ہوتی ہیں اور ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ کیمرہ کے پیچھے کیا کیا ہوتا ہے ، اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست (خرم صاحب) جو کچھ عرصہ فلم انڈسٹری میں کام کر چکے اور اس وقت دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہیں ، وہ اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں ، ان کی گفتگو انہی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:

میں 2010 سے 2016 تک پاکستان فلم و ڈرامہ انڈسٹری میں جونئیر آرٹسٹ کے طور پر کام کرچکا ھوں اور بخوبی جانتا ھوں ڈراموں کی شوٹنگ(shooting) کے سیٹ (set)پر کس طرح کی لغو اور غیر شرعی حرکتیں کی جاتی ھیں بعض اوقات ایک سین (scene) کو شوٹ کرنے کیلئے کئی بار ٹیک(take) ری ٹیک کیا جاتا ھے کمیرے کے پیچھے عورتوں مردوں کا مخلوط ملاپ اور ہیروئن کا ہیرو یا مین کاسٹ کیساتھ ہاتھ ملانا بغل گیر ھونا ہیروئن کا ادھے لباس یا کپڑوں کا تنگ ہونا بغیر دوپٹہ اوڑھے ھونا ایک عام سی بات ھے یہ تو سب مرے سامنے ھوا ھے باقاعدہ چمی چاٹی بھی سب کے سامنے ھوتی ھے۔ (انتھی)

انہوں نے اور باتیں بھی بتائی ہیں ، لیکن میں قصدا اسی قدر پہ اکتفاء کرنا چاہوں گا۔

عِشقیہ وفِسقیہ مناظر

عشقیہ مناظر کی حرمت محتاجِ بیان نہیں۔

نظر کو جھکانا کیوں ضروری ہے؟

عورت کی بے پردگی کیوں حرام ہے؟

عورت خوشبو لگا کر باہر کیوں نہیں نکل سکتی؟

نامحرم عورتوں مردوں کا اختلاط کیوں منع ہے؟

احکامِ شرع سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں بدکاری کے دواعی ہیں۔ اسی وجہ سے آنکھ کے فعل کو زنا قرار دیا ، زبان کے فعل کو زنا سے تعبیر کیا ، کان کے فعل کو زنا کہا ، ہاتھ ،پاؤں اور منہ کے افعال میں سے ہر ایک کو زنا سے تعبیر فرمایا۔ کیونکہ یہ امور زنا کے دواعی ہیں۔ اور یہی معاملہ عشقیہ مناظر کو دیکھنے کاہے۔ یہ مناظر نوجوانوں کی شہوت بھڑکاتے ہیں جس سے برائی کی طرف میلان بڑھتا ہے ، بلکہ بعض اوقات اس قسم کے مناظر دیکھ کر نوجوان برائی کا ارتکاب بھی کر بیٹھتے ہیں۔اعاذنا اللہ تعالی من ذلک

جو فقہاء عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم کے بارے میں احتیاط سے کام لیتے ہوں ، وہ ٹی وی اسکرین پر عشقیہ مناظر دیکھنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں:

الذخیرۃ للقرافی میں ہے:

وقد كره تعليم النساء سورة يوسف لضعف معرفتهن (35)

شفا قاضی عیاض میں ہے:

فقدكره بعض السلف تعليم النساء سورة يوسف لما انطوت عليه من تلك القصص لضعف معرفتهن و نقص عقولهن و إدراكهن(36)

علی قاری رحمہ اللہ تعالی نے شرح شفا میں فرمایا:

(فقد كره بعض السّلف تعليم النّساء سورة يُوسُفَ لِمَا انْطَوَتْ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقَصَصِ) كيد النساء بسبب الابتلاء (لضعف معرفتهنّ ونقص عقولهنّ وإدراكهنّ) في اصل فطرتهن (37)

الحاوي للفتاوي میں ہے:

فقد كره بعض السلف تعليم النساء سورة يوسف لما انطوت عليه من تلك القصص لضعف معرفتهن ونقص عقولهن وإدراكهن (38)

امتاع الاسماع للمقريزي میں ہے:

فقد كره بعض السلف تعليم النساء سورة يوسف لما انطوت عليه من تلك القصص لضعف معرفتهم (39)

اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

نہ ہرگز ہرگزبہادر دانش، مینابازار، مثنوی غنیمت وغیرہاکتب عشقیہ وغزلیات فسقیہ دیکھنے دے کہ نرم لکڑی جدھر جھکائے جھک جاتی ہے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورہ یوسف شریف کا ترجمہ نہ پڑھایاجائے کہ اس میں مکرزنان کاذکرفرمایا ہے، پھربچوں کو خرافات شاعرانہ میں ڈالنا کب بجاہوسکتاہے۔(40)

جو لوگ اچھے مقاصد کی غرض سے اس قسم کے فلموں ڈراموں کا جائز قرار دینے کے لیے زور لگا رہے ہیں ، کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ ان فلموں ڈراموں کی تاثیر سورہ یوسف کی تاثیر سے بہتر یا اس جیسی ہو سکتی ہے؟؟

اچھے مقاصد کے لیے ہر جائز رستہ اختیار کرنے کے ہم خود داعی ہیں ، لیکن اس کے لیے “بنى قصرا و هدم مصرا” یا “أراد أن يكحلها فأعماها” والا معاملہ برتنا کہاں کی دانشمندی ہے؟؟؟

جن فوائد کی بات کی جا رہی ہے وہ حاصل ہوں گے یا نہیں ہوں گے ، لیکن عشقیہ وفسقیہ مناظر دیکھ کر ہماری نسل میں بگاڑ ضرور پیدا ہو گا۔ لہذا مجوزین جہاں موہوم قسم کے فوائد دیکھ رہے ہیں ، وہیں ان مفاسد پر بھی نظر رکھتے ہوئے حکمِ شرعی واضح کریں تاکہ لوگوں کی درست رہنمائی ہو سکے۔

ایک چیز آپ نے ذکر کی :

فسقیہ مناظر

تو فسقیہ مناظر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔فسقیہ مناظر کا مشاہدہ دلوں سے گناہوں کی نفرت کم کرنے کا موجب بنتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات انسان ان گناہوں کو دیکھ کر ان سے راضی ہوتا ہے ، اور بعض وقات تو کفریات دیکھ کر بھی ان سے راضی رہتا ہے اور یوں اپنے ایمان کا بیڑا غرق کر دیتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

إذا عملت الخطيئة في الأرض كان من شهدها فكرهها كان كمن غاب عنها، ومن غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها (41)

جب زمین میں گناہ کیا جائے تو جو شخص وہاں موجود ہو اور اسے ناپسند کرے تو وہ ایسے ہے جیسے وہاں موجود ہی نہ تھا۔ اور جو وہاں موجود نہ ہو اور اس سے راضی ہو تو وہ ایسا ہے جیسے وہاں موجود تھا۔

اللہ کریم جل وعلا کا ارشادِ گرامی ہے:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ (42)

اور تم پر کتاب میں نازل فرمایا کہ جب تم اللہ جل وعز کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو ، تا آنکہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ بے شک تم تب انہی جیسے ہو۔

اندازہ کیجیے کہ اصحابِ معصیت وکفر کی محفل میں بیٹھنا اللہ کریم جل وعز کو کس قدر ناپسند ہے ،فرمایا “إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ” تم بھی انہی جیسے ہو۔

روح المعانی میں ہے:

واستدل بعضهم بالآية على تحريم مجالسة الفساق والمبتدعين من أي جنس كانوا، وإليه ذهب ابن مسعود وإبراهيم وأبو وائل، وبه قال عمر بن عبد العزيز، وروى عنه هشام بن عروة أنه ضرب رجلا صائما كان قاعدا مع قوم يشربون الخمر، فقيل له في ذلك: فتلا الآية (43)

یعنی اس مبارک آیہ سے بعض اہلِ علم نے اہلِ فسق واہلِ بدعت ، چاہے وہ کوئی بھی ہوں ، ان کی ہم نشینی کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ اور ابن مسعود ، جنابِ ابراہیم ، ابو وائل اسی کی طرف گئے ہیں اور یہی قول جنابِ عمر بن عبد العزیز کا ہے۔ جنابِ عمر بن عبد العزیز سے ہشام بن عروۃ نے روایت کیا کہ آپ نے ایک روزہ دار کو سزا دی جو شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ جب اس سلسلے میں جنابِ عمر بن عبد العزیز سے بات کی گئی (کہ یہ تو روزہ دار تھا ، اسے کیوں سزا ملی) تو آپ نے اس مبارک آیہ کی تلاوت فرمائی۔(یعنی بروں کا ہم نشیں بھی انہی جیسا ہے)

اور اگر معاذ اللہ کفریات دیکھ کر ان سے راضی رہا تو یہ معاملہ اور زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ رضا بالکفر کفر ہے۔ رد المحتار وغیرہ میں ہے:

والرضا بالكفر كفر (44)

کفر سے راضی رہنا بھی کفر ہے۔

اس گفتگو کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ اس قسم کے ڈرامے دیکھنے والوں کو کفر یا فسق دیکھنے کے باعث کافر یا فاسق کہا جا رہا ہے۔ معاذ اللہ من ذلک گفتگو کا مقصد صرف معاملے کی سنگینی کا بیان ہے۔ اور ہمارے جو بھائی صرف موہوم قسم کے فوائد کے پیشِ نظر ہر برائی ہضم کرنے کو تیار ہیں ، انہیں توجہ کی دعوت دینا مقصود ہے کہ وہ غور فرمائیں کہ “کیا پانے کے لیے کیا کھونا چاہتے ہیں؟؟؟”

آپ نے مذکورہ ڈراموں کی ایک برائی یہ بھی ذکر فرمائی کہ:

موسیقی کی نہ ختم ہونے والی دُھنیں ۔

آج کل لوگ موسیقی کو روح کی غذا کہتے ہیں ، حالانکہ حدیث پاک کے مطابق موسیقی دلوں میں نفاق کی آبیاری کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء البقل(45)

گانا بجانا دل میں نفاق کو ایسے اگاتا ہے جیسے پانی سبزے کو اگاتا ہے۔

فقہاءِ کرام نے جابجا فرمایا کہ موسیقی سننا حرام ، اس پہ بیٹھنا فسق اور اس سے متلذذ ہونا کفرانِ نعمت ہے۔

فتاوی قاضیخان میں ہے:

أما استماع صوت الملاهي كالضرب بالقضيب و غير ذلك حرام و معصية لقوله عليه الصلاة و السلام استماع الملاهي و الجلوس عليها فسوق و التلذذ بها من الكفر إنما قال ذلك على وجه التشديد و إن سمع بغتة فلا إثم عليه و يجب عليه أن يجتهد كل الجهد حتى لا يسمع لما روي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أدخل إصبعيه في أذنيه (46)

المختار میں ہے:

واستماع الملاهي حرام

اس کے تحت الاختیار میں ہے:

قال: (واستماع الملاهي حرام) كالضرب بالقضيب والدف والمزمار وغير ذلك. قال – عليه الصلاة والسلام -: «استماع صوت الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها من الكفر» . الحديث خرج مخرج التشديد وتغليظ الذنب، فإن سمعه بغتة يكون معذورا، ويجب أن يجتهد أن لا يسمعه لما روي: «أنه – عليه الصلاة والسلام – أدخل أصبعيه في أذنيه لئلا يسمع صوت الشبابة» (47)

البحر الرائق میں ہے:

واستماع صوت الملاهي حرام كالضرب بالقصب وغيره قال – عليه الصلاة والسلام – «: استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» وهذا خرج على وجه التشديد لا أنه يكفر (48)

مجمع الانھر میں ہے:

وفي البزازية استماع صوت الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر أي بالنعمة (49)

در مختار میں ہے:

وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام: استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر أي بالنعمة، فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لاجله كفر بالنعمة لا شكر، فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع، لما روي أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره اه. أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار لو للاستحلال كما في النهاية. (50)

تحفۃ الملوک میں ہے:

استماع الملاهي وسماع صوت الملاهي كلها حرام فإن سمع بغتة فهو معذور ثم يجتهد أن لا يسمع مهما أمكنه (51)

اس کے تحت منحۃ السلوک میں ہے:

قوله: (وسماع صوت الملاهي كلها حرام) لقوله عليه السلام: “استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها من الكفر” رواه الصدر الشهيد في كراهية الواقعات. والملاهي تشمل جميع أنواع اللهو، حتى التغني بضرب القضيب ونفخ القصب.

قوله: (فإن سمع بغتة: فهو معذور) لأنه لم يكن منه قصد، فيعذر فيه، ثم يجتهد أن لا يسمع بعد ذلك مهما أمكنه، لأن الإعراض عن سماعه واجب. (52)

المحیط البرھانی میں ہے:

وفي «فتاوى أهل سمرقند» استماع صوت الملاهي كالضرب بالقصب، وغير ذلك من الملاهي حرام، وقد قال عليه السلام: «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها من الكفر» وهكذا خرج على وجه التشديد بعظم الذنب؛ قالوا: إلا أن يسمع نفسه فيكون معذوراً، والواجب على كل أحد أن يجتهد حتى لا يسمع. (53)

بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ:

چونکہ موسیقی کا مسئلہ متفق علیہا نہیں۔ بہت سے اہلِ علم نے اسے جائز بھی قرار دیا ، لہذا موسیقی کی وجہ سے سوال میں مذکور ڈرامے یا ان کی مثل دوسرے ڈراموں پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔

تو ان سے پہلی گزارش یہ ہے کہ:

بابِ فقہ میں راجح مرجوح دیکھا جاتا ہے۔ نہ یہ کہ مسئلہ متفق علیہا ہے یا مختلف فیہا ، ورنہ تو ہر معصیت کا دروازہ کھولنا بالکل آسان ہو جائے گا۔ راجح ومرجوح کی معرفت کے بعد راجح پر فتوی دینا متعین اور مجمع علیہ ہے ، جبکہ مرجوح پر فتوی خرقِ اجماع اور جہالت ہے۔ درمختار میں تصحیحِ قدوری سے ہے:

وأن الحكم والفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للاجماع (54)

اور مسئلہ موسیقی میں راجح عدمِ جواز ہے ، جیسا کہ تصریحاتِ فقہاء سے واضح۔ نیز جو اکابر سماع بالمزامیر کے جواز کی طرف گئے ہیں ، ان کے ہاں جواز کچھ شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اور مخصوص طبقہ کے لیے جائز ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:

وفي التتارخانية عن العيون إن كان السماع سماع القرآن والموعظة يجوز، وإن كان سماع غناء فهو حرام بإجماع العلماء

علامہ شامی کا جملہ “حرام بإجماع العلماء” قابلِ توجہ ہے۔

اس کے بعد مجوزین کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

ومن أباحه من الصوفية، فلمن تخلى عن اللهو، وتحلى بالتقوى، واحتاج إلى ذلك احتياج المريض إلى الدواء. وله شرائط ستة: أن لا يكون فيهم أمرد، وأن تكون جماعتهم من جنسهم، وأن تكون نية القول الإخلاص لا أخذ الأجر والطعام، وأن لا يجتمعوا لأجل طعام أو فتوح، وأن لا يقوموا إلا مغلوبين وأن لا يظهروا وجدا إلا صادقين.

دورِ حاضر میں جو لوگ بعض علماء کی رائے کا سہارا لیتے ہوئے سماع کے جواز کی طرف جانا چاہتے ہیں ، کیا انہیں سننے والوں میں یہ شرطیں نظر آتی ہیں؟

اگر دورِ حاضر میں ان شرائط کا وجود ہوتا تو علامہ شامی اپنے دور میں یہ نہ فرماتے:

والحاصل: أنه لا رخصة في السماع في زماننا لأن الجنيد – رحمه الله – تعالى تاب عن السماع في زمانه (55)

شریعت کے مقاصد اور اہلِ زمانہ کے مزاج سے واقف اہلِ علم حضرات عوام کو اُس گانے سے بھی روکتے ہیں جس میں نہ مزامیر ہوں ، نہ گانے والے محل فتنہ ، نہ لہو ولعب مقصود ، نہ کوئی ناجائز کلام۔۔۔۔ لیکن پھر بھی فرماتے ہیں کہ مخصوص طبقہ کو اس سے بھی روکا جائے۔کیونکہ احتیاط اسی کو کہتے ہیں اور مسلمانوں کے حق میں خیر خواہی اسی کا نام ہے۔ اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وہ گانا جس میں نہ مزامیر ہوں نہ گانے والے محل فتنہ ،نہ لہو ولعب مقصود نہ کوئی ناجائز کلام بلکہ سادے عاشقانہ گیت ،غزلیں ،ذکر باغ وبہار وخط وخال ورخ وزلف وحسن وعشق وہجر ووصل و وفائے عشاق وجفائے معشوق وغیرہا امور عشق وتغزل پرمشتمل سنے جائیں تو فساق وفجار واہل شہوات دنیہ کو اس سے بھی روکا جائے گا، وذلک من باب الاحتیاط القاطع ونصح الناصح وسد الذرائع المخصوص بہ ھذا الشرع البارع والدین الفارغ ۔ (56)

ایک خرابی آپ نے بیان کی:

“خشخشی داڑھیاں اور عورتوں جیسے لمبے بال وغیرہ ۔”

اس خرابی سے متعلق میں دو مقامات میں گفتگو کرنا چاہوں گا:

پہلا مقام:

یہ فسقیہ مناظر سے ہے ، اور اس سلسلے میں گفتگو ہو چکی۔لیکن مجھے اس سلسلے میں بعض اہلِ علم کی گفتگو پہ ضرور حیرت ہوئی کہ “اس ڈرامے میں کہیں بھی اس خشخشی داڑھی کی ترغیب نہیں دی گئی”

میں اہلِ علم کا پاپوش بردار ہوں لیکن اس مقام پہ جسارت کرنا چاہوں گا کہ “یہ جملہ جہاں شرع شریف سے ناواقفی کی علامت ہے وہیں اپنے موقف سے بھی رو گردانی ہے۔”

اس قسم کے ڈرامے زیرِ بحث آئے ہی اس لیے کہ یہ نئی نسل کی فکری تعمیر میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ان ڈراموں کے اندر دکھائے جانے والے مناظر کو بابِ ترغیب سے شمار نہیں کرتے تو پھر انہیں باقی فلموں ڈراموں کی طرح فساق کی مجالس ومحافل کی زینت رہنے دیتے ، دیندار طبقہ کے بیچ زیرِ بحث لانے کی حاجت ہی کیا تھی؟

دیندار طبقہ کے بیچ زیرِ بحث آنے کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ :

یہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔

جس سے اس دورِ یاس میں امید کی کرن پھوٹ سکتی ہے۔

اداکار جن کرداروں کی عکاسی کرتے ہیں ، وہ نوجوان نسل میں اسلامی روح پھونکنے میں ممد ومعاون بن سکتے ہیں۔۔۔

جب گفتگو کا محور اس قسم کے امور ہیں تو پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس میں دکھایا جانے والا کوئی کردار “بابِ ترغیب” سے نہیں؟؟؟

دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ:

بابِ اقتداء وبیان میں افعال بنسبتِ اقوال اقوی ترین ہیں۔

آپ تجربہ کر لیں ، آپ بچوں کو سو باتیں سمجھائیں لیکن اس سمجھانے کا وہ اثر نہیں ہو گا جو آپ کو کرتا دیکھ کر اثر لیں گے۔

علامہ شاطبی فرماتے ہیں:

فالحاصل أن الأفعال أقوى في التأسي والبيان إذا جامعت الأقوال من انفراد الأقوال، فاعتبارها في نفسها لمن قام في مقام الاقتداء أكيد لازم ، بل يقال: إذا اعتبر هذا المعنى في كل من هو في مظنة الاقتداء ومنزلة التبيين؛ ففرض عليه تفقد جميع أقواله وأعماله، ولا فرق في هذا بين ما هو واجب وما هو مندوب أو مباح أو مكروه أو ممنوع؛ فإن له في أفعاله وأقواله اعتبارين:

أحدهما: من حيث إنه واحد من المكلفين فمن هذه الجهة يتفصل الأمر في حقه إلى الأحكام الخمسة.

والثاني: من حيث صار فعله وقوله وأحواله بيانا وتقريرا لما شرع الله -عز وجل- إذا انتصب في هذا المقام؛ فالأقوال كلها والأفعال في حقه إما واجب وإما محرم، ولا ثالث لهما (57)

ان ڈراموں کے اداکار ہمارے لیے “رول ماڈل” ہوں یا نہ ہوں ، لیکن جن شخصیات کا کردار ادا کر رہے ہیں وہ ہمارے لیے ضرور “رول ماڈل” کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور شاطبی رحمہ اللہ تعالی نے تصریح کی کہ اس مقام پہ اقوال وافعال کی محض دو حیثیتیں رہ جاتی ہیں۔ اسی قسم کی گفتگو سبعِ سنابل میں فرماتے ہوئے فرمایا:

اما درویشے کہ مرجع خلائق بو د او را احتیاط در جزئیات شریعت فرض لازم ست باید کہ یک دقیقہ از دقائق شرع ازوفوت نشود کہ وسیلہ گمراہی مریدان ست بجہت آنکہ گویند کہ پیر ما ایں چنیں کار کردہ است پس اوضال ومضل گردد (58)

جملہ “وسیلہ گمراہی مریدان ست” خاص توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح درویش مرجع خلائق کی کوتاہی عقیدت مندوں اور مریدوں کی گمراہی کا سبب ہے ، اسی طرح یہ ڈرامے اور فلمیں جنہیں اسلامی تاریخ کا عکاس کہا جا رہا ہے ، ان کے اداکاروں کی معمولی سی کوتاہی بھی ہماری نسل کی تباہی وبربادی کا سبب بن سکتی ہے۔

اس مقام پہ میں ان لوگوں کو دعوتِ فکر دینا چاہوں گا جو اس قسم کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے پر مصر ہیں۔۔۔ ان کے اندر موجود معمولی سی خوبیوں کی بنیاد پر ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو ان کے پیچھے لگانے پر کمربستہ ہیں۔۔۔ اگر وہ عام لوگ ہیں تو میں انہیں اہلِ علم سے رجوع کی تاکید کروں گا۔ لیکن اگر اہلِ علم ہیں تو دست بستہ عرض کروں گا کہ خدارا مسئلہ کو سرسری انداز میں مت دیکھیے ۔ زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ “فائدہ اور نقصان” دونوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے ، پھر پوری امت کو ان ڈراموں کے پیچھے بھگانے میں ان کے نقصانات سے صرفِ نظر کرنا نئی نسل کے نظریات کے ساتھ بہت بڑا ظلم وزیادتی ہو گی۔

ان ڈراموں میں موجود شخصیات ہماری نسلوں کے لیے “رول ماڈل” ہیں ، جب “رول ماڈل” ہی قابلِ اعتراض صورت وسیرت کا مالک ہو گا تو انہیں دیکھ کر نسلیں سدھریں گی نہیں بلکہ اسی غلطی ہی کو درستی مانیں گی۔

لہذا میری رائے کے مطابق اس خرابی کو آپ “خشخشی داڑھیاں اور عورتوں جیسے لمبے بال وغیرہ ۔” سے تعبیر کرنے کے بجائے “گناہوں کی ترغیب” سے تعبیر کریں ، تاکہ معاملے کی سنگینی واضح ہو سکے۔

اور یہی معاملہ اس سے پہلے ذکر کی گئی برائیوں کا بھی ہے۔ جب اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیات عورتوں کو گلے لگاتی دکھائی جائیں گی ، عورتوں کے ساتھ بوس وکنار کا تبادلہ ہو رہا ہو گا ، محبت کی داستانیں چل رہی ہوں گی ، تو اندازہ کیجیے کہ نئی نسل کیا سیکھے گی؟

بات صرف ڈرامے میں موجود برائی کی نہیں بلکہ “رول ماڈلز کی برائی “کی ہے۔ اوررول ماڈلز کو کسی بھی غیر شرعی صورت میں دکھانا ہماری نسل کے نظریاتی قتل کے مترادف ہے ، اور یہ ان امور میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے میں اس قسم کے ڈرامے عام عشقیہ فسقیہ ڈراموں سے زیادہ برے اور لائقِ مذمت سمجھتا ہوں۔

دوسرا مقام:

دوسرا مقام مستقل اور اہم ترین بحث پر مشتمل ہے۔ اور وہ یوں کہ ان کرداروں کو مذکورہ صورتوں میں پیش کرنا درحقیقت:

اسلامی تاریخ کا مسخ ہے۔

اور یہ بھی ان اسباب میں سے ہے جن کے پیشِ نظر میری نظر میں اس قسم کے ڈرامے اور فلمیں عام عشقیہ وفسقیہ ڈراموں اور فلموں سے زیادہ خطرناک اور مکروہ ہیں۔

عام فلمیں ڈرامے ہماری نسلوں کی تباہی کا باعث ہیں ، آج کے معاشرے میں نظر آنے والی ایک دو نہیں ان گنت ایسی برائیاں ہیں جو فلموں ڈراموں سے جنم لے کر پروان چڑھ چکی ہیں ، لیکن عام فلمیں ڈرامے بالعموم عملی بگاڑ تک محدود رہتے ہیں ، لیکن زیرِ بحث ڈرامے اور ان سے ملتی جلتی دیگر فلمیں ڈرامے عملی بگاڑ کا سبب بنیں یا نہ بنیں ، نظریاتی بگاڑ ضرور پیدا کرتے ہیں۔

میں نے چونکہ نہ ڈرامہ دیکھا اور نہ ہی مستقبل قریب یا بعید میں دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، اس لیے اس کے اندر موجود تمام کرداروں کی تفصیل تو نہیں بتا سکتا۔ لیکن جس قدر معلومات لے سکا ہوں اس لحاظ سے ان ڈراموں کے ذریعے اسلامی تاریخ مسخ ہو سکتی ہے۔

ہمارے سادہ لوح مسلمان بھائی سمجھتے ہیں کہ ان تاریخی فلموں ڈراموں کا مقصد محض اس قدر ہے کہ مسلمانوں کے اندر بیداری کی روح پھونکی جائے اور انہیں اس مایوسی کے دور میں اپنا تابناک ماضی یاد کروا کر عظمتِ رفتہ کے حصول کے لیے تیار کیا جائے۔۔۔۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس چیز کا مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ مقاصد کا ان میں انحصار ہرگز درست نہیں۔

اس قسم کے سلسلے مخصوص اہداف کے پیشِ نظر شروع کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات ان کے ذریعے حقائق کا چہرہ بری طرح مسخ کر دیا جاتا ہے۔

بات خشخشی داڑھیوں اور عورتوں کی طرح لمبے بالوں سے چلی تھی۔ آپ اس کے ساتھ ان ڈراموں میں دکھائے جانے والے معاشقوں کو بھی ملائیے ، ننگے سر عورتیں ، عورتوں مردوں کا بے ہنگم اختلاط ، مردوں عورتوں کے بیچ بوس وکنار وغیرھا ان گنت ایسی چیزیں ہیں جنہیں “اسلامی تاریخ” کے روپ میں دکھانا “اسلامی تاریخ” کے قتل کے مترادف ہے۔ آپ لباس ہی کو لے لیجیے ، کیا یہ وہ لباس ہے جو قائی قبیلہ کے لوگ پہنا کرتے تھے؟

واضح رہے کہ اس مقام میں ہم ان امور کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں بات نہیں کر رہے ، یہاں ان چیزوں کے واقع کے مطابق یا غیر مطابق ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔

جب بات تاریخ کی کتابوں تک رہتی ہے تو اس میں مؤرخین کئی اقوال ذکر کر دیتے ہیں ، جس سے اس معاملہ کے مختلف فیہا ہونے کا علم ہو جاتا ہے ، بعد ازاں محققین کی ذمہ داری ہے کہ راجح اور مرجوح میں فرق کریں۔ لیکن جب کسی تاریخی بات کو فلمایا جاتا ہے تو لازمی طور پر کسی ایک رائے ہی کو لینا پڑتا ہے ، ایسی حالت میں اگر نسبتا مضبوط بات کو نہیں لیا جاتا تو یہ “تاریخ کا مسخ” کہلاتا ہے۔

یہیں میں ایک اور چیز کا اضافہ کروں گا جو درحقیقت مستقل بحث ہے لیکن اس بحث سے اس کا تعلق ہے ، اور وہ ہے:

“جھوٹ کی آمیزش”

فلموں اور ڈراموں میں لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھنا بنیادی ہدف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس کے لیے لازمی طور پر ایسی چیزیں شامل کرنا پڑتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور کچھ چیزوں کا حقیقت سے تعلق تو ہوتا ہے لیکن ڈرامے اور فلم کے اندر جب تک مبالغہ نہ دکھایا جائے گا ، ناظرین کی دلچسپی باقی نہیں رکھی جا سکتی۔ اور یقینا یہی معاملہ سوال میں مذکور ڈراموں کے ساتھ بھی ہو گا۔

میں نے “یقینا” کا لفظ اس لیے بولا کہ ڈرامہ “Diriliş Ertuğrul” بیسیوں اقساط پر مشتمل ہے ، اور لازمی بات ہے کہ ان بیسیوں قسطوں میں کئی سالوں کی کہانی پیش کی گئی ہو گی۔ جبکہ ہم “The Cambridge History of Turkey” کو اٹھاتے ہیں تو اس کا کہنا ہے:

We know nothing about the life of Ertugrul, and his existence is independently attested only by a coin of his son Osman..(59)

میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس ڈرامہ میں جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے ، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ تاریخ کی ایک کتاب کسی شخص کے بارے میں خاموش ہوتی ہے لیکن دوسری کتاب اس کے حالاتِ زندگی بیان کر دیتی ہے۔ لیکن کتبِ تاریخ جس شخص کے وجود کا یقین اس کے بیٹے کے رائج کردہ سکے سے کریں ، ایسی شخصیت پر بیسیوں قسطوں پر مشتمل ڈرامہ بغیر رطب ویابس کی آمیزش کے کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟؟؟

یہیں پر میں آپ کی توجہ اس ڈرامہ میں موجود ابنِ عربی کی شخصیت کی طرف لے جانا چاہوں گا تاکہ بات کو ذہن کے مزید قریب کیا جا سکے۔

ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالی کا وصال سلیمان شاہ کی وفات کے دو سال بعد 638ھ میں ہوا۔ جس کے پیشِ نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابنِ عربی اور ارطغرل کے بیچ ملاقات ہوئی ہو گی ۔لیکن ان دونوں شخصیات کے بیچ جس گہرے تعلق کا اظہار اس ڈرامے میں کیا جا رہا ہے ، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ تاریخ سے تعلق رکھنے والے اصحابِ علم کو اس گہرے تعلق پر قرائن وشواہد ڈھونڈنا بھی مشکل ہو گا چہ جائیکہ اس پہ کوئی دلیل پیش کر سکیں۔

مزید برآں ابنِ عربی جو سلیمان شاہ کی وفات کے دو سال بعد وصال فرماگئے ، انہیں اس ڈرامے میں ایک طویل عرصہ تک زندہ دکھایا گیا۔ عثمان بن ارطغرل کی پیدائش ابنِ عربی کے وصال کے 18 سال بعد ہوئی لیکن ڈرامہ دیکھنے والوں کا بتانا ہے کہ ابنِ عربی کو عثمان بن ارطغرل کی ولادت کے قرییر دور تک دکھایا گیا ہے۔

میں نے یہ ڈرامہ دیکھا نہیں اور اللہ نہ کرے کہ میں دیکھوں ، لیکن کتبِ تاریخ سے جو تھوڑا بہت تعلق ہے اس لحاظ سے امید کرتا ہوں کہ اگر اس ڈرامے کی مکمل کہانی کو سامنے رکھ کر اسے تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو شاید دس فیصد کہانی بھی درست نہ نکلے۔

لہذا وہ لوگ جو اس قسم کے ڈراموں کی تعریفیں کر کر نہیں تھک رہے ، ان سے گزارش ہے کہ حقیقت سے آنکھیں مت بند کریں۔ عامۃ المسلمین کو اچھا پلیٹ فارم دینے کی کوشش کریں ، نہ یہ کہ رطب ویابس کے اس مجموعہ کے پیچھے لگاکر تاریخ کی غیر واقعی صورت ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں۔

بہر حال ان ڈراموں میں موجود خرابیوں میں سے ایک بدترین خرابی “جھوٹ کی آمیزش” بھی ہے۔ اور جھوٹ یقینا کبائر سے ہے ، اس لیے اس کی مذمت کے بیان کی حاجت نہیں۔ لیکن یہ وہ جھوٹ ہے جو اسلامی تاریخ کے مسخ کا ذریعہ ہے ، اور اسی عنوان کے تحت گفتگو چل رہی تھی۔

لہذا اس قسم کے سلسلوں میں جہاں شرعی ضوابط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ، وہیں تاریخ کے سلسلے میں انتہائی باریک بینی سے کام لینا بھی ضروری ہے۔ اور یہ کام صرف ڈرامہ نگار کے بس کا نہیں ، بلکہ ماہر تاریخ دان بھی اس سلسلے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، ورنہ یا تو تاریخ مسخ ہو جائے گی ، یا کم از کم اسلامی تاریخ کے بارے میں شکوک وشبہات ضرور جنم لیں گے ، جیسا کہ سوال میں مذکور ڈراموں کی وجہ سے سننے میں آ رہا ہے۔

واجبِ احترام شخصیات کی بے ادبی:

واضح رہے کہ :

انبیاء کرام علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام کا مقامِ عالی جتنی بلندیوں میں ہے ، وہ مقامِ تصویر وتمثیل سے برتر وبالا ہیں۔ کسی شخص کو شایاں نہیں کہ ان کی نقالی کرے ، حتی کہ شیطان تک کو اجازت نہیں کہ ان کی سی صورت بنا سکے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

من رآني في المنام فقد رآني، فإن الشيطان لا يتخيل بي (60)

جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھ ہی کو دیکھا ، کیونکہ شیطان میری صورت نہیں اپنا سکتا۔

یہ حدیث دلیلِ صریح ہے کہ اللہ کریم جل وعز نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ کی حفاظت اپنے ذمہ لی اور شیطان کو طاقت نہ بخشی کہ وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت کو اپنا کر آپ ﷺکے مقام ومرتبہ کو گھٹا سکے یا لوگوں کو گمراہ کر سکے۔اور اہلِ عقل کی یہیں سے رہنمائی ہوتی ہے کہ کسی انسان کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ آپ ﷺ کی صورت اپنا کر ان کا کردار ادا کرے۔

حکم بن ابی العاص کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مدینہ بدر کر دیا تھا۔ حافظ ابن عبد البر نے مدینہ بدری کا سبب ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکم بن ابی العاص رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نقل اتارا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک روز دیکھ لیا تو فرمایا:

فكذلك فلتكن (61)

ایسا ہی بن جا۔

جس طرح شیطان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت نہیں اپنا سکتا ، یونہی دیگر انبیاءِ کرام علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام اور فرشتوں کی صورتیں بھی نہیں اپنا سکتا۔ شرح السنۃ میں ہے:

ورؤية النبي صلى الله عليه وسلم في المنام حق، ولا يتمثل الشيطان به، وكذلك جميع الأنبياء، والملائكة عليهم السلام، وكذلك الشمس، والقمر، والنجوم المضيئة، والسحاب الذي فيه الغيث، لا يتمثل الشيطان بشيء منها. (62)

لہذا انبیاءِ کرام علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام ، اہلِ بیتِ عظام ، بالخصوص عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ، انبیاءِ کرام کے آباء وامہات ، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اولاد ، یونہی اولیاءِ کرام جو اہلِ اسلام کے ہاں مخصوص عقیدت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔۔۔ان حضرات میں سے بھی کسی کی تمثیل اور نقالی کی اجازت نہیں۔ انبیاءِ کرام ، عشرہ مبشرہ ، ملائکہ ، امہات وآباءِ انبیاء کرام کے بارے میں تو اتفاق ہے ، جبکہ دیگر صحابہ وعقیدتوں کا مرکز اولیاءِ کرام وعلماءِ عظام کے بارے میں راجح یہی ہے کہ ان کی نقالی جائز نہیں۔

کیونکہ اس نقالی اور ان کی طرف سے اداکاری میں ان حضرات کی قدر گھٹنے اور لوگوں کی نگاہ میں ان کا احترام کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اور ہر وہ کام جو اہلِ علم اور اولیاء وصحابہ کی قدر گھٹانے کا ذریعہ بنے ، شریعتِ اسلامیہ اس کی اجازت نہیں دیتی۔

شرع شریف میں اس کی متعدد مثالیں ہیں لیکن میں صرف ایک مثال کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا اور وہ ہے علماء کی غیبت۔ اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ علماء کی غیبت عام مسلمانوں کی غیبت کی طرح نہیں ، اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ “عالم کی غیبت سے اہلِ اسلام کی نگاہ میں اس کی قدر ومنزلت کم ہو جاتی ہے” جو “معرفۃِ حقِ علماء” کے منافی ہونے کے باعث شدید حرام ہے۔

اس سلسلے میں اس قسم کے جزئیات سے بھی استیناس ہوسکتا ہے۔جیسا کہ مجمع الانھر میں ہے:

ويكفر بجلوسه على مرتفع ويتشبه بالمذكرين ومعه جماعة يسألونه ويضحكون منه ثم يضربهم بالمخراق (63)

اسی میں ہے:

وكذا من تشبه بالمعلم على وجه السخرية وأخذ الخشبة ويضرب الصبيان كفر.(64)

اگر عام علماء ومذکرین کا معاملہ ایساہے تو صحابہ کرام ، اور اہلِ اسلام کی عقیدتوں کا مرکز اولیاء وعلماء کی ناقدری اور اس ناقدری کے وسائل کیسے جائز ہو سکتے ہیں۔

اور بالخصوص اس وقت کہ ان اولیاء وعلماء کی طرف سے اداکاری کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی دوسری فلم یا ڈرامے میں کسی شرابی اور کسی بڑے مجرم کا کردار اپنائے ہوتے ہیں ، اور ان میں سے بیشتر تو خود بھی فسق وفجور کی دلدل میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ تو اس سے بڑھ کر بے ادبی کیا ہو گی کہ عظیم اولیاء اور مقتدر علماء وائمہ کا کردار فساق وفجار ادا کریں ؟؟؟

آپ سوال میں مذکور ڈرامے میں ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالی کے کردار ہی کو دیکھ لیں ، جسے ترکی اداکار Osman Soykut نے ادا کیا۔ میں Osman Soykut پر کسی قسم کا فتوی لگانے کا ارادہ نہیں رکھتا ، لیکن Osman Soykut کے بارے میں معلومات لینے کے بعد اہلِ علم رائے دیں کہ کیا یہ شخص ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالی جیسی عظیم شخصیت کا کردار ادا کرنے کے لیے موزوں تھا؟؟؟

اولیاء وعلماء کی جانب سے اداکاری اور نقالی جائز ہو جب بھی Osman Soykut جیسے لوگوں سے ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالی جیسی شخصیت کی نقالی ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالی کی شخصیت کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے۔۔۔

اس نقالی کے جواز میں ایک خرابی یہ بھی شامل کریں کہ:

ان اداکاروں کو نہ تو ان اولیاء وعلماء کے بارے میں زیادہ جان پہچان ہوتی ہے، اور نہ ہی ان کے لباس ، ان کی نقل وحرکت وغیرہ کو سمجھتے ہیں، اور یوں اہلِ علم وصلاح کی غلط صورت پیش کرتے ہیں۔ اور دیکھنے والوں کے ذہن میں اس شخصیت کی وہی صورت محفوظ ہو جاتی ہے اور جب بھی اس شخصیت کا ذکر آتا ہے تو خزانہ خیال میں موجود وہی صورت پھر سے سامنے آ جاتی ہے ، جودر حقیقت اس شخصیت کی صورت کے مسخ کے مترادف ہے۔

اس قسم کے ڈراموں اور فلموں میں “اہلِ علم وصلاح کی بے ادبی” بھی ان امور سے ہے جن کی وجہ سے میری نظر میں یہ ڈرامے عام عشقیہ فسقیہ ڈراموں کی نسبت زیادہ مکروہ وناپسندیدہ ہیں۔

“گناہ کو گناہ نہ سمجھنا بلکہ نیکی سمجھنا”

اس قسم کے ڈراموں اور فلموں کو دیکھنے میں ایک خطرناک برائی یہ بھی ہے کہ دیکھنے والے انہیں دیکھنا گناہ نہیں سمجھتے ، بلکہ بعض لوگ تو نیکی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور یہ بھی انہی امور سے ہے جن کی وجہ سے اس طرح کے فلمیں ڈرامے دیکھنا عام فلموں ڈراموں کی نسبت زیادہ مکروہ اور قبیح ہے۔

کیونکہ عام فلم اور ڈرامہ دیکھنے والا مسلمان بد عملی کا شکار ضرور ہے ، لیکن اپنے فعل کو جائز نہیں سمجھتا ، اس سے پوچھا جائے تو بالعموم اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتا ہے۔ اور بعض اوقات اللہ کریم جل وعلا کی توفیق سے توبہ بھی کر لیتا ہے۔ لیکن جس قسم کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں ، انہیں دیکھنے والے لوگ اپنے فعل کو جائز اور بعض اوقات نیکی سے تعبیر کرتے ہیں ، اور یہ قباحت معمولی نہیں۔ علامہ علی قاری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

إن استحلال المعصية صغيرة أو كبيرة كفر إذا ثبت كونها معصية بدلالة قطعية وكذا الاستهانة بها كفر، بأن يعدها هينة سهلة، ويرتكبها من غير مبالاة بها، ويجريها مجرى المباحات في ارتكابها” (65)

برائی چھوٹی ہو یا بڑی ، جب اس کا برائی ہونا دلیلِ قطعی سے ثابت ہو تو اسے حلال سمجھنا کفر ہے۔ یونہی اسے ہلکا جاننا بھی کفر ہے ، بایں طور کہ اسے ہلکا اور سہل سمجھتا ہے اور اس کی پرواہ کیے بغیر اس کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کا ارتکاب ویسے کرتا ہے جیسے مباح کا کیا جاتا ہے۔

یہ بات ضرور ہے کہ یہ حکم ان گناہوں کے بارے میں ہے جن کا گناہ ہونا دلیلِ قطعی سے ثابت ہو ، لیکن کیا ان ڈراموں میں ایسی کوئی بھی بات نہیں جس کی حرمت قطعی یقینی ہو؟

اگر ہے اور یقینا ہے تو اسے جائز والے انداز میں بلکہ نیکی والے انداز میں دیکھنا کس درجہ کا گناہ بنے گا؟

میں یہاں پر پھر تنبیہ کرنا چاہوں گا کہ اس گفتگو کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ میں کسی کو کافر کہنا چاہ رہا ہوں، معاذ اللہ من ذلک ، مقصد محض اس گناہ کی سنگینی کا بیان ہے اور ان دوستوں کو تنبیہ مقصود ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ “یہ ڈرامہ مسلمانوں میں جہاد کی نئی روح پھونک رہا ہے” ، حالانکہ ترکی میں یہ ڈراما 2014ء میں پیش کیا گیا ، اور تب سے لے کر اب تک مسلمانوں کی مظلومیت کی ان گنت داستانیں رقم ہو چکی ہیں ، کبھی کشمیر میں تو کبھی فلسطین میں ، کبھی شام میں تو کبھی عراق میں ، کبھی افغانستان میں تو کبھی برما میں ، لاکھوں مسلمانوں نے یہ ڈرامہ دیکھا لیکن ان لاکھوں میں سے کوئی ایک بھی مجاہد مسلمان عورتوں کی لٹتی عزتوں ، بے گناہ بچوں کی تڑپتی لاشوں کے لیے علمِ جہاد لے کر باہر نہیں نکلا۔۔۔۔

ہم تو وسیلہ تربیت سمجھتے ہوئے اس قسم کے سلسلوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہ رہے ، ورنہ جو کچھ نظر آ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر فائدہ ظاہر نہیں ہو رہا۔

بے پناہ اسراف:

اس قسم کے ڈراموں یا فلموں کے بارے میں گفتگو کرنے والوں کو ایک یہ پہلو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ:

ان ڈراموں کو عام کرنے کے لیے ان کے کچھ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔ لیکن ہر دانشمند جانتا ہے کہ فائدہ اس وقت فائدہ کہلاتا ہے جب کہ اس فائدہ کے حصول کے لیے اٹھائی جانے والی مشقت کے تناظر میں اس فائدہ کی کچھ حیثیت ہو۔ فی نفسہ بہت سی باتیں فائدہ ہوتی ہیں لیکن انہیں جب ان کے حصول کے لیے پیش آنے والی مشقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ فائدہ کے بجائے نقصان شمار ہوتی ہیں۔۔۔۔

مثلا ایک شخص کاروبار میں دس لاکھ روپے لگا کر ماہانہ ایک لاکھ نفع کمائے تو فائدہ شمار ہو گا۔ لیکن جو شخص دو چار ارب روپیہ لگا کر بیٹھا ہو اسے ماہانہ ایک لاکھ روپے ملیں تو وہ سر پیٹ کر رہ جائے گا۔

اور جب ہم فلموں ڈراموں پر آنے والی لاگت کو دیکھتے ہیں اور ان کے سامنے ان فوائد کو رکھتے ہیں جن کے حصول کی توقع ان فلموں یاڈراموں سے کی جا رہی ہوتی ہے تو یقین جانیے کہ “اگر وہ فوائد یقینی طور پر حاصل ہو بھی جائیں” جب بھی وہ فوائد کہلانے لائق نہیں رہتے۔

آپ “Pirates of the Caribbean: On Stranger Tides” کو سامنے رکھیں، دو سوا دو گھنٹے کی اس فلم کی تیاری میں 412 ملین ڈالر ، یعنی پاکستانی چھیاسٹھ ارب روپے سے بھی زیادہ رقم خرچ کی گئی۔

ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ اتنی بڑی رقم کسی ملک کے سالانہ تعلیمی بجٹ کے برابر ہوتی ہے ، جس میں دس سے پندرہ لاکھ بچے پورا سال تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ تو جو لوگ دو ڈھائی گھنٹے کی تفریح کے لیے کچھ موہوم فوائد کا بہانہ کر کے چھیاسٹھ ارب روپے ایک فلم بنانے میں لگا دیں ، آپ انہیں عقل مند شمار کریں گے؟؟؟

گو اس فلم کا شمار مہنگی ترین فلموں میں ہوتا ہے لیکن اس کا کل دورانیہ دو سے سوا دو گھنٹے کا ہے ، جبکہ جن ڈراموں کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں وہ بیسیوں قسطوں پر مشتمل ہیں تو لازمی سو سوا سو گھنٹے دورانیہ پر محیط ہوں گے۔ لازمی طور پر ان کی تیاری میں بھی سینکڑوں ملین ڈالر خرچ ہوئے ہوں گے۔ خرچ “ہو چکنے والے ” ، “سینکڑوں ملین ڈالرز ” کو سامنے رکھ کر ان “چند فوائد “کو دیکھا جائے جن کی “توقع” کی جا رہی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اس تناظر میں دیکھنے کے بعد یہ فوائد فوائد شمار نہیں ہوں گے۔

اور اس کے ساتھ یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ پردہ اسکرین پر جو کچھ لوگوں کو دکھایا جاتا ہے اس کا اصلاحی اثر بالکل وقتی ہوتا ہے ، اور ان ڈراموں اور داستانوں سے پیدا ہونے والے جذبات کی عمر پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ پھر اس وقتی اثر کے لیے اتنا بڑا خرچ کہاں کی دانشمندی ہو سکتی ہے؟؟؟

نیزجب ہم اس قسم کے ڈراموں اور فلموں کو قاعدہ “الامور بمقاصدھا” کی نظر سے دیکھتے ہیں ، اگرچہ یہ دیکھنا سراسر غلط ہے ، کیونکہ یہ اس قاعدہ کے موضوع کی جزئیات ہی سے نہیں ، بہر حال اگر اس قسم کے سیریلز کو اس قاعدہ کے موضوع کی جزئیات سے مان لیا جائے تو لازم ہے کہ ان کے فوائد نہیں بلکہ مقاصد جانے جائیں۔۔۔!!!

اور ہمارے پاس بیانِ مقاصد کو ایک ہی جملہ ہے کہ “فلاں شخصیت نے فلاں فلاں مقاصد کے لیے بنوایا ہے”

ایک مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن کا تقاضا تو یہی ہے کہ اُس شخصیت کے افعال کو اچھے محمل پر محمول کیا جائے ، لیکن “لا تحمدوا إسلام المرء، حتى تعرفوا عقدة رأيه” بھی عقلمندی کے تقاضوں سے ہے۔

ہم عوام کا مزاج ہے کہ خوش گمانی یا بد گمانی ہر دو کے معاملے میں بالکل غیر ذمہ دار ثابت ہوتے ہیں۔ خوش گمان ہوں گے تو بغیر کسی معقول وجہ کے ، اور یہی حال بدگمانی کے معاملے میں ہمارا ہوتا ہے۔۔۔ لہذا میری دانست کے مطابق کسی شخصیت کی حمایت اتنا تو ثابت کر سکتی ہے کہ یہ اس شخصیت کے مفادات ومقاصد کو پورا کر رہا ہے ، لیکن اس سے جواز کی وجہ نکالنا یقینا مضحکہ خیز بنے گا۔

ہمارے جو دوست ان فلموں ڈراموں کو زیادہ بے حیائی اور زیادہ برائی والے فلموں ڈراموں سے روکنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ،وہ شاید اس چیز سے صرفِ نظر کر رہے ہیں کہ “کسی بھی جائز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ناجائز طریقہ اپنانا درست نہیں” فان الفساد لا یدفع بالفساد کما لا یدفع الباطل بالباطل وانما یدفع بضدہ الذی ھو الحق ولا یدفع الشئ الا بضدہ

ہم یہ بات مان لیتے ہیں کہ اس قسم کے ڈراموں سے کچھ فوائد متوقع ہیں ، لیکن اس سے زیادہ توقع ان خرابیوں کی ہے جن سے بچنا قریب بمحال ہے۔ کیونکہ جن لوگوں کو سلسلہ وار فلموں اور ڈراموں کو دیکھنے کی لت لگ جاتی ہے ان کی نظر میں :

وقت کا ضیاع

نمازوں کا چھوٹنا

دیگر فرائض وواجبات میں کوتاہی

دیگر ضروری کاموں سے غفلت

ان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ اور سوال میں مذکور ہے کہ اس ڈرامے کو یکم رمضان سے نشر کیا جانا طے پایا ، تو بتائیے کہ ماہِ رمضان کی راتیں جو انسان کے اپنے خالق ومالک سے قرب اور اپنے گناہوں کی بخشش کے اوقات ہیں ، جب یہ وقت ٹیلی ویژن اسکرین کے سامنے گزارے گا تو تراویح کب پڑھے گا؟ نمازِ عشاء کی جماعت کیسے ملے گی؟؟؟

اہلِ علم جانتے ہیں کہ :

کھیل تماشہ فی نفسہ جائز بھی ہو ،لیکن فرائض و واجبات میں کوتاہی کا سبب بننے لگے تو وہ بھی ناجائز ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ ڈرامے جو خود کئی حرام کاموں کا مجموعہ ہیں ، فرائض و واجبات میں کوتاہی کا سبب ہونے کے باوجود موہوم سے فوائد کے پیشِ نظر کیسے جائز ہو سکتے ہیں؟؟؟

یہاں تک کی گفتگو کا حاصل یہ ہوا کہ:

ان ڈراموں اور ان جیسے دوسرے ڈراموں سے کچھ فوائد کی توقع کی جا رہی ہے۔ لیکن ان فوائد کا حصول یقینی کلی یا غالبی اکثری ہر گز نہیں۔ جبکہ ان ڈراموں کو دیکھنے میں کئی ایک حرام کاموں ارتکاب بہر حال لازم ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اہلِ علم کے سامنے اب یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ ہمیں “درء المفاسد أولى من جلب المصالح” سے گفتگو کی حاجت نہیں۔ کیونکہ اس کا درجہ محلِ تعارض ہے ، جیسے کہ ابنِ نجیم رحمہ اللہ تعالی نے تصریح کی:

“إذا تعارضت مفسدة ومصلحة قدم دفع المفسدة” (66)

اور ما نحن فیہ میں تعارض کی صورت بنی ہی نہیں۔ کیونکہ تعارض کے لیے “تساوی فی القوۃ” رکنِ لازم ہے جو یہاں موجود نہیں۔ فوائد محض متوقع وموہوم جبکہ ارتکابِ حرام بہر حال لازم۔ اور فوائد بھی ایسے کہ ان کے مقابلے میں اٹھائی جانے والی مشقت ولاگت کے مقابل ناقابلِ ذکر۔۔۔۔ پھر ان ناقابلِ ذکر فوائدِ موہومہ کو محرماتِ کثیرہ لازمہ سے متعارض کون سمجھ سکتا ہے؟؟؟ البتہ جو تعارض سمجھ رہے ہیں وہ اس قاعدہ پر ضرور نظر کریں۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ڈراموں کے سلسلے میں تجاہل سے کام لیا جائے۔ یعنی جو دیکھ رہے ہیں انہیں دیکھنے دیا جائے اور روکا نہ جائے اور نہ ہی جائز کہاجائے۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے درست نہیں۔ کیونکہ تجاہل سے کام ایسے مسائل میں لیا جاتا ہے جو کم از کم بعض ائمہ وفقہاء کی رائے پر جائز ہوں ، اور وہ بھی کچھ شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ بر خلاف ان مسائل کے کہ جو بالاتفاق حرام وناجائز ہوں، ان میں تجاہل سے کام لینا ہرگز درست نہیں بلکہ حسبِ استطاعت تغییرِ منکَر واجب۔۔۔۔ اور موجودہ فلمیں ڈرامے کئی ایک ایسی برائیوں پر مشتمل ہیں جو بالاتفاق حرام ہیں۔ اور کچھ نہ لیں تو نامحرم عورتوں کا بلا حجاب بن سنور کر ، کھلے بالوں نامحرم مردوں کے بیچ آنا ، ایک دوسرے سے لپٹنا ، بوس وکنار کا تبادلہ۔۔۔۔ کیا اس کی حرمت میں بھی کوئی شک ہو سکتا ہے؟؟؟ پھر سکوت کی وجہ صحیح کیا بن سکتی ہے؟

اصلاحی وتعمیری سلسلوں کے لیے چند ضابطے:

میں گفتگو کے اختتام سے قبل ایک بار پھر وضاحت کرنا چاہوں گا کہ میں ذاتی طور پر خواہاں ہو کہ نئی نسل کی فکری تعمیر کے لیے ہر پلیٹ فارم کا مثبت استعمال کیا جائے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے شرعی ضابطے طے کیے جائیں ، اور ان ضابطوں کے مطابق اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے۔ مثلااگر آپ کچھ اصلاحی سیریل تیار کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان میں:

انبیاءِ کرام کا کردار نہ اپنایا جائے۔

انبیاء کرام کے اصول اور یونہی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اولاد وازواجِ مطہرات کے کردار کی نقالی نہ کی جائے۔

عشرہ مبشرہ کی نقالی نہ کی جائے۔

دیگر صحابہ کرام ، اہلِ بیتِ عظام ، وہ اولیاء وعلماء جو عقیدتوں کا مرکز ہیں ، ان کا کردار نہ اپنایاجائے۔

فرشتوں کی عکاسی نہ کی جائے۔

ذاتِ باری تعالی سے استہزاء ، آیات ربانیہ اوررسلِ عظام سے استہزاء کا کردار نہ اپنایا جائے۔

عبادات اسلامیہ کو غیر حقیقی صورت میں نہ دکھایا جائے۔

شیطانوں اور کافروں کا کردار نہ ادا کیا جائے۔

فساق وفجار کا کردار بھی نہ اپنایا جائے۔

جانوروں کا کردار نہ ادا کیا جائے۔

عورتوں کا کردار مرد نہ ادا کریں۔

مردوں کا کردار عورتیں نہ ادا کریں۔

ایسا کردار نہ اپنایا جائے جس میں کوئی حرام موجود ہو ، جیسے جھوٹ ، غیبت وغیرھما

موسیقی موجود نہ ہو۔

بے پردگی نہ ہو۔

نامحرموں کا باہمی‌اختلاط نہ ہو۔

عِشقیہ وفِسقیہ مناظرسے پاک ہو۔

گناہوں کی ترغیب نہ ملے۔

اسلامی تاریخ کا مسخ نہ ہو۔بلکہ اس سلسلے میں باریک بینی سے کام لیتے ہوئے صرف اور صرف راجح اقوال ہی کو لیا جائے اور بغیر مبالغہ کے اسے پیش کیا جائے۔البتہ اگر کسی حقیقی واقعے کی ترجمانی نہ کی جا رہی ہو بلکہ تعمیری واصلاحی غرض سے محض فرضی کہانی ہو تو اس میں گنجائش زیادہ ہے۔

حقیقی واقعات میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔

واقعات میں مبالغہ سے کام نہ لیا گیا ہو۔

اسرافِ ناحق سے پاک ہو۔

اس سلسلے کو ایک ذریعہ اور وسیلہ کی حد تک رکھا جائے ، مقصودِ اصلی نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس میں انہماک ہو۔

یہ چند ضابطے ، جن کی رعایت مشکل ضرور لیکن ناممکن نہیں ، اس غرض سے بیان کیے ہیں کہ ہماری نسل وعظ ونصیحت کی مجالس سے دور ، کتب بینی کی پکی دشمن ، اپنے دن رات ٹی وی اسکرین کے سامنے گزارنے میں مصروف ہے۔ لہذا ان کی اصلاح وبھلائی کے لیے جو وسائل اپنائے جا سکیں ، انہیں تنگ نظری کی نظر کر کے پسِ پشت ڈالنے کے بجائے مقاصدِ شرع سمجھتے ہوئے انہیں استعمال میں لایا جائے اور جیسے اسلام دشمن قوتیں ہر پلیٹ فارم کو اسلام دشمنی میں استعمال کرتی ہیں ، ہمیں بھی ہر پلیٹ فارم اسلامی معاشرے کی اصلاح اور بہتری کے لیے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن اس سلسلے میں قواعد وضوابط کی پابندی لازمی ہے۔فان الصلاح نور ونورُ الله لا يهدى لعاصي

ھذا ما عندی فإن أصبت فمن الله وإن أخطأت فمن نفسي راجيا ممن كان عنده شيء من التحقيق أن يتفضل به وله من الله الأجر ومني الشكر والله تعالى هو المسؤول أن يغفر لي خطئي وعَمْدي، وكل ذلك عندي

وانا العبد الفقیر الی مولای الغنی

ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

رئیس جامعۃ العین ۔ سکھر (سندھ)

06 رمضان المبارک 1441ھ / 30 اپریل 2020ء

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1): (النحل 125)

(2): (مسند احمد 2447)

(3): الانفال 60

(4): (صحیح بخاری 3464 ، صحیح مسلم 2964)

(5): ص21 ، 22 ، 23 ، 24

(6): الاشباہ والنظائر ص23

(7):(الاشباہ والنظائر لابن نجیم ص22 ، 23)

(8):(غمز عیون البصائر 1/97)

(9): صحیح بخاری 2201 ، 2302 ، 4244 ، 7350 ، صحیح مسلم 1593

(10):(الموافقات 3/130)

(11):(صحیح مسلم 2/752)

(12):(فتاوی قاضیخان 3/362 ، الفتاوی الھندیۃ 2/276 ، البحر الرائق 5/134 ، مجمع الانھر 1/688 ، در مختار 4/224)

(13): (توبہ 65 ، 66)

(14): (الاحزاب 33)

(15): (صحیح مسلم 2128)

(16): (مسند احمد 22808)

(17):(النور 29 ، 30)

(18): (المستدرک 2788)

(19): (صحیح مسلم 2657)

(20): (المعجم الکبیر 7830)

(21): (المعجم الکبیر للطبرانی 486 ، 487 ، مسند الرویانی 1283)

(22):(مجمع الزوائد 4/326)

(23):(سنن ابی داود 2153 ، مسند احمد 8526)

(24):(الهداية مع تكملة شرح فتح القدير 8/460)

(25):(الاختيار لتعليل المختار 4/ 156)

(26):(تبين الحقائق 6/18)

(27):(البحر الرائق 8 / 219 )

(28):(حاشية ابن عابدين 6/367)

(29):(منح الجليل شرح مختصر خليل 1 / 223 )

(30):(المجموع 4 / 515 )

(31):(الأذكار ص 228)

(32):(كفاية الأخيار ص 353)

(33):كشاف القناع عن متن الإقناع 2/155

(34): (صحیح مسلم 443)

(35): (الذخیرۃ 12/26)

(36): (شفا 2/248)

(37): (شرح الشفا 2/457)

(38): (الحاوی للفتاوی للسیوطی 1 / 277 ، 278)

(39): (امتاع الاسماع 14/395)

(40): (فتاوی رضویہ 24/442)

(41): (سنن ابی داود 4345)

(42): (النساء 140)

(43): (روح المعانی 3/167)

(44):(رد المحتار 4/205)

(45):(شعب الایمان 4746 ، ذم الملاھی لابن ابی الدنیا 39)

(46): (فتاوی قاضی خان 3/248)

(47) الاختیار لتعلیل المختار 4/165 ، 166

(48): (البحر الرائق 8/215)

(49): (مجمع الانھر 2/553)

(50): (در مختار ص652)

(51): (تحفۃ الملوک ص238)

(52): (منحۃ السلوک ص422)

(53): (محیط برھانی 5/369)

(54): (در مختار ص16)

(55): (رد المحتار 6/349)

(56): (فتاوی رضویہ 24/83)

(57): (الموافقات ج4ص91)

(58): (سبع سنابل ص42)

(59)(The Cambridge History of Turkey 1/118)

(60): (صحیح بخاری 110 ، 6197 ، 6994)

(61):(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب 1/359)

(62):(شرح السنۃ 12/228)

(63): (مجمع الانھر 1/695)

(64): (مجمع الانھر 1/696)

(65):(شرح فقہ اکبر ص126)

(66): (الاشباہ والنظائر ص78)