پیر سید منور حسین شاہ صاحب کا یہ آڈیو میسیج سُنا جس پر دلی خوشی ہوئی ۔ گذشتہ دنوں بھی آپ نے مناظر اہل سنت علامہ سعید احمد اسعد صاحب کی موجودگی میں جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اپنا عقیدہ واضح کیا ، تو نام لیتے وقت مودبانہ انداز میں “سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ” کہا ۔۔۔۔۔۔۔

یہ چیزیں دیکھ کر ہم ان کے بارے میں یہ حُسن ظن رکھتے ہیں کہ آپ کے دل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف بغض و کدورت نہیں ہے ، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جد کریم حضور امیر ملت علیہ الرحمہ کے عقائد و نظریات پر قائم رکھے ، اور صحابہ کرام کی تنقیص کرنے والے پیروں اور مولویوں کی بُری صحبت سے بچائے ۔ آمین !

اب آتے ہیں کتاب “خصائص علی رضی اللہ عنہ” پر لکھی گئی ان کی تقریظ کی طرف ۔ جیسا کہ آڈیو میں کہا گہا:

کہ ظہور فیضی ان کے پاس آیا اور اپنی کتاب پر تقریظ لکھنے کی گزارش کی تو انہوں نے کہا: میں بیرون ملک جارہا ہوں تم خود ہی لکھ لو ، تو فیضی کذاب نے اجازت نامے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، ایسا رنگ جما کر تقریظ لکھ دی کہ پڑھنے والا یہی سمجھے کہ منور شاہ صاحب نے خود ہی پوری کتاب سطر بہ سطر پڑھ کر تقریظ لکھی ہے ۔ اس حرکت سے فیضی کا ایک اور جھوٹ اور دھوکہ سامنے آیا ۔

منور شاہ صاحب سے بھی گزارش ہے کہ آپ نے کتاب پڑھے بغیر تقریظ لکھنے کا کہہ دیا تو جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس کتاب میں صحابہ کرام کی تنقیص و توہین ہے تو آپ نے اس تقریظ کو ہٹانے کا حکم کیوں نہ جاری کیا؟

چلیں اگر پہلے نہیں کرسکے تو آج ہی یہ مبارک قدم اٹھائیں ، اور اس کتاب سے اپنی تقریظ کو نہ صرف ختم کروائیں ، بلکہ ذرا ہمت کرکے اس مذموم فعل پر ظہور فیضی جیسے کذاب اور دھوکے باز شخص کی کلاس بھی لیں ، تاکہ عوام اہل سنت آپ کے متعلق مزید بدگمانی سے بچ سکے اور آپ کو اہل‌سنت کا نمائندہ تصور کرے ۔

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

8/7/2020ء