شعائرِاسلامیہ کا تعطل

اسلام دینِ یسر ہے اور انسانی آسانی ہر حکم میں ملحوظ ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمایا:

يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (1)

اللہ کریم تم سے آسانی کا ارادہ فرماتا ہے ، تم پر مشقت کا ارادہ نہیں فرماتا۔

سورہ حج میں فرمایا:

وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ (2)

اور تم پر دین میں کوئی حرج نہ رکھی۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

إن الدَّين يُسرٌ(3)

بے شک دین آسانی ہے۔

لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ “یُسر وآسانی” غیر محدود ہے۔۔۔

سفر کی مشقتوں کے سبب اسلام نے چار رکعتی نماز میں دو رکعت کی آسانی دے دی ، لیکن مزید مشقت پر نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔۔۔

جس کا مطلب صاف یہی نکلتا ہے کہ “آسانیاں ہیں لیکن ان کی حدود ہیں”

اور ہر عقل مند سمجھتا ہے کہ “یسر وآسانی” کو “لا محدود” کر دینا در حقیقت دین وقانون کا تعطل بن جاتا ہے ، “آسانی” کا بہانہ کر کے کسی بھی قانون میں نقب زنی کی گنجائش نکل سکتی ہے ، جس کا نتیجہ ملت کی تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، لہذا ضروری ہے کہ ان حدود کو سمجھا جائے اور انہیں ملحوظ رکھا جائے۔

گزشتہ روز قبلہ مفتی منیب الرحمن صاحب کے بیان کے بعد میڈیا اور اربابِ علم کے بیچ جمعہ وجماعات کے تعطل پہ بحث چل پڑی۔۔۔

اسلام نے بیماروں کو اجازت دی کہ وہ جمعہ وجماعت سے غیر حاضر رہ سکتے ہیں۔۔۔ بارش کا موسم ہے ، رستے میں کیچڑ ہے ، اسلام نے جمعہ وجماعت کی حاضری کو لازم نہیں رکھا۔۔۔۔

اس قسم کی آسانیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جانے لگا کہ :

جب کیچڑ کی وجہ سے ، بیماری بلکہ بیماری کے خوف کی وجہ سے جمعہ وجماعت کی چھوٹ ہے تو پھر کورونا وائرس جس کا خطرہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے ، اس خطرے کے پیشِ نظر جمعہ وجماعات کا تعطل کیسے جائز نہیں؟؟؟

میں اس موقع پر “بتوفیق اللہ تعالی وتوقیفہ” عرض کرنا چاہوں گا کہ:

یہاں دو الگ الگ قضیے ہیں:

1): کسی مجبوری کی وجہ سے انفرادی طور پر کسی شخص کے لیے جمعہ وجماعت کی حاضری میں رخصت

2): کسی بیماری یا وبا کے ڈر سے جمعہ وجماعت کا تعطل اور مساجد میں ان کی ادائیگی پر پابندی

ہمارے میڈیا کے منصف مزاج اور اربابِ علم ودانش کی میں دل سے قدر کرتا ہوں ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر حضرات ان دونوں قضیوں میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے غلطی کا شکار ہو رہے ہیں۔

وہ دیکھ رہے ہیں کہ بارش ، سخت تاریکی ، بیماری ، کیچڑ اور دیگر بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے شریعتِ مطہرہ جمعہ وجماعت چھوڑنے کی اجازت دیتی ہے۔۔۔

اسی بات کو بنیاد بنا کر وہ جمعہ وجماعت کے تعطل کا جواز نکالنا چاہتے ہیں ، لیکن ان کا یہ قیاس درست نہیں۔۔۔!!!

پہلی بات تو ذہن نشین ہو جائے کہ:

مسجدوں پر پابندی تو کسی صورت جائز نہیں۔ اللہ کریم جل وعلا کا ارشادِ گرامی ہے:

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (4)

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔ انہیں روا نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے دنیا میں ذلّت ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

اس آیہ مبارکہ کے پیشِ نظر علماءِ اسلام نے مسجدوں پرتالے لگانے کو مکروہ قرار دیا۔ فسادِ زمانہ کے سبب سامانِ مسجد کی حفاظت کے لیے اجازت دی تو وہ بھی اوقاتِ نماز کے علاوہ ۔ خاص اوقاتِ نماز میں مسجدوں پر تالے لگا کر انہیں معطل کرنا ہرگز ہر گز جائز نہ رکھا۔

ہدایہ شریف میں ہے:

(ويكره أن يغلق باب المسجد) لأنه يشبه المنع من الصلاة، وقيل لا بأس به إذا خيف على متاع المسجد في غير أوان الصلاة (5)

البحر الرائق میں ہے:

(قوله وغلق باب المسجد) لأنه يشبه المنع من الصلاة قال تعالى {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} [البقرة: 114] والإغلاق يشبه المنع فيكره قال في الهداية وقيل لا بأس به إذا خيف على متاع المسجد اهـ. وهو أحسن من التقييد بزماننا كما في عبارة بعضهم فالمدار خشية الضرر على المسجد فإن ثبت في زماننا في جميع الأوقات ثبت كذلك إلا في أوقات الصلاة أو لا فلا أو في بعضها ففي بعضها كذا في فتح القدير (6)

پیش آمدہ حالت میں حکمِ شرعی کی درست پہچان کے لیے ضروری ہے کہ سطورِ بالا میں مذکور دونوں قضیوں میں فرق ملحوظ رکھا جائے۔

ایک چیز ہے: عذر ومجبوری کے سبب کسی شخص کو جمعہ وجماعت میں حاضری سے چھوٹ مل جانا

اور دوسری چیز ہے “اسلامی شعائر کا تعطل”

پہلی چیز کے جواز میں کسی طرح کی گفتگو نہیں۔ لیکن اذان ، جمعہ وجماعت اسلامی شعائر سے ہیں ، ان کا تعطل کسی صورت جائز نہیں۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

ما من ثلاثة في قرية لا يؤذن ولا تقام فيهم الصلاة إلا استحوذ عليهم الشيطان (7)

جس بستی میں تین لوگ ہوں اور ان کے بیچ اذان نہ دی جائے اور جماعت نہ کرائی جائے تو ان پر شیطان غالب آ جاتا ہے۔

کفار سے جنگ کی حالت ہو ، دشمن سامنے کھڑا ہو ، ایسی حالت میں مجاہدین کی آسانی کے لیے دورانِ نماز عملِ کثیر ، آنے جانے ، ہتھیار پکڑنے وغیرہ بہت سے ایسے کاموں کی اجازت ہے کہ اگر عام حالات میں وہ کام کیے جائیں تو نماز ٹوٹ جائے۔ لیکن اس موقع پر اجازت دی تاکہ اسلام کا “آسانی” والا پہلو آشکار رہے ، لیکن ایسی کٹھن حالت میں بھی “شعارِ اسلامی” یعنی “جماعت” کے تعطل کی اجازت نہ دی۔ جیسا کہ سورہ نساء کی آیت 102 میں ہے:

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاَةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُواْ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُواْ فَلْيَكُونُواْ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّواْ فَلْيُصَلُّواْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُواْ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَى أَن تَضَعُواْ أَسْلِحَتَكُمْ وَخُذُواْ حِذْرَكُمْ إِنَّ اللّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا

اور جب آپ ان مجاہدین میں موجود ہوں تو ان کے لئے نماز قائم کریں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اور انہیں اپنے ہتھیار بھی لئے رہنا چاہئیں۔ پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تم لوگوں کے پیچھے ہو جائیں اور دوسری جماعت جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائیں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں۔ اور چاہئے کہ وہ اپنے اسبابِ حفاظت اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو وہ تم پر دفعۃً حملہ کر دیں، اور تم پر کچھ مضائقہ نہیں کہ اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو یا بیمار ہو تو اپنے ہتھیار (اُتار کر) رکھ دو، اوراپنا سامانِ حفاظت لئے رہو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اس مبارک آیہ کو پڑھنے کے بعد “اسلام کے پہلوئے یُسر” اور “شعارِ اسلامی کی اہمیت” دونوں ہی واضح ہو جاتے ہیں۔ اور یہ سمجھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے کہ “اسلام دینِ یُسر ہے ، ہر موقع پر انسان کو آسانی دیتا ہے لیکن اس آسانی کا مطلب یہ نہیں کہ شعائرِ اسلامیہ معطل کر دئیے جائیں ، شعائرِ اسلامیہ بہر حال برقرار رہیں گے ، البتہ ان میں جس طریقے سے آسانی ہو اس کی رخصت ضرور ہے”

ہمارے وہی علماء جو اسلام کی آسانیاں بیان کرتے ہیں ، جب اذان ، جمعہ وجماعت کی اہمیت بتانے پہ آتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ:

اگر کسی علاقہ کے مکین اجتماعی طور پر اذان ، جمعہ وجماعت کو ترک کر دیں تو حاکمِ اسلام ان سے جنگ کرے۔ اور جب تک وہ اس انداز میں ادائیگی پر تیار نہیں ہوتے کہ جس سے ان چیزوں کا شعار ہونا واضح ہو جائے ، ان کے خلاف قتال جاری رہے گا۔۔۔!!!

اور یہ کسی ایک فقیہ وعالم کی رائے نہیں ، بلکہ جمہور علماءِ اسلام اس سلسلے میں بیک زبان نظر آتے ہیں۔ اگر ہم سبھی کی تصریحات جمع کرنا چاہیں گے تو بات زیادہ طویل ہو جائے گی لیکن بطورِ اشارہ چند جملے حاشیہ میں لکھ دئیے ہیں ، انہیں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔(8)

اسلام تو دینِ یسر ہے ، کیچڑ پھیل جائے تو جماعت سے غیر حاضری کی چھوٹ دے دیتا ہے ، پھر یہ قتال اور جنگ کیسی؟؟؟

بات وہی ہے جو میں نے سطورِ بالا میں ذکر کی کہ “انفرادی چھوٹ” الگ چیز ہے اور “شعارِ اسلامی کا تعطل” الگ چیز۔

اگر کوئی شخص بلا عذر جماعت چھوڑے لیکن عادت نہ بنائے تو اس کا گناہ صغائر سے شمار ہوتا ہے ، لیکن جب بات شعارِ اسلامی کے تعطل تک پہنچ جائے تو اب کبیرہ سے بھی بڑھ کر فواحش سے شمار ہوتا ہے۔ شعب الایمان میں ہے:

وإن ترك إتيأن الجماعة لغيرها فهو من الصغائر فإن اتخذ ذلك عادة، وقصد به مباينة الجماعة، والانفراد عنهم فذلك كبيرة، وإن اتفق على ذلك أهل قرية، أو أهل بلد فهو من الفواحش(9)

لہذا ضروری ہے کہ “انفرادی ترک” اور “اجتماعی ترک” بلکہ “پابندی” کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جائے۔انفرادی ترک کے لیے معمولی سا عذر بھی مقبول ہے جبکہ اجتماعی ترک پر حاکم کو حکم ہے کہ ایسے لوگوں سے قتال کیا جائے۔۔۔!!!

خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب کبھی سفر کے دوران ٹھنڈی رات ہوتی یا بارش ہوتی تو مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ وہ کہے:

ألا صلوا في رحالكم

خبردار! اپنے گھروں یا خیموں میں نماز پڑھ لو۔

لیکن اس چھوٹ کے باوجود جماعت کو معطل نہ کیا جاتا تھا ، جس کی دلیل دوسری روایت کہ یہ کلمات ہیں:

ليصل من شاء منكم في رحله (10)

یعنی تم میں سے “جو چاہے” وہ اپنے گھر / خیمہ میں نماز پڑھ سکتا ہے۔

ابنِ خزیمہ نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے لیے باب کا عنوان کچھ یوں رکھا:

” باب ذكر الخبر المتقصي للفظة المختصرة التي ذكرتها من أمر النبي – صلى الله عليه وسلم – بالصلاة في الرحال، والدليل على أن أمر النبي – صلى الله عليه وسلم بذلك أمر إباحة لا أمر عزم، يكون متعديه عاصيا إن شهد الصلاة جماعة في المطر”

صحیح ابنِ حبان میں عنوانِ باب یوں ہے:

“ذكر البيان بأن الأمر بالصلاة في الرحال لمن وصفنا أمر إباحة لا أمر عزم”

امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:

هذا الحديث دليل على تخفيف أمر الجماعة في المطر ونحوه من الأعذار وأنها متأكدة إذا لم يكن عذر وأنها مشروعة لمن تكلف الإتيان إليها وتحمل المشقة لقوله في الرواية الثانية ليصل من شاء في رحله (11)

صحابہ کرام جو مدرسہ اسلام کے سب سے پہلے تلامذہ ہیں ، “ألا صلوا في رحالكم” سے وہ بھی یہی سمجھے کہ یہ “انفرادی رخصت” ہے لیکن “شعارِ اسلام” کے تعطل کی گنجائش ہرگز نہیں۔ حضرت قتادہ بن نعمان اسی قسم کی ایک رات میں نمازِ عشاء کے لیے حاضر ہوئے تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز کے لیے باقاعدہ مسجد میں تشریف لائے۔ جنابِ قتادہ بن نعمان کو دیکھ کر رات کے وقت آنے کا سبب دریافت فرمایا تو جنابِ قتادہ نے عرض کی:

علمت يا رسول الله! أن شاهد الصلاة الليلة قليل، فأحببت أن أشهدها

یا رسول اللہ مجھے یقین تھا کہ آج رات نمازیوں کی حاضری کم ہو گی ، اس لیے میں نے چاہا کہ میں حاضر ہو جاؤں۔ (تاکہ جماعت معطل نہ ہو جائے) (12)

اگر صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی رخصت کا مطلب “جماعتوں کی معطلی” سمجھتے تو بارش کے موسم میں تاریک رات کے اندر ہرگز جماعت کے لیے حاضر نہ ہوتے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بھی ہرگز جماعت کے لیے باہر تشریف نہ لاتے ، بلکہ حضرت قتادہ کے اس جملے پر اظہارِ ناراضگی فرماتے۔۔۔!!!

لیکن ایسا کچھ نہ ہونا دلیل ہے کہ یہ “انفرادی رخصت” تھی ، “اسلامی شعار کا تعطل” ہرگز نہ تھا۔

حاصلِ_گفتگو یہ ہے کہ:

اسلام دینِ یُسر ہے۔ انسانی آسانی ہر حکم میں ملحوظ رکھتا ہے۔ لہذا موجودہ حالات کے پیشِ نظر اگر کوئی شخص جماعت میں حاضر نہیں ہو سکتا ، یا جمعہ کی ادائیگی نہیں کر پاتا تو اسے رخصت ہے۔ لیکن چونکہ جمعہ وجماعت اسلامی شعار ہیں ، اور اسلامی شعار کا اجتماعی تعطل ہرگز ہرگز ہرگز جائز نہیں،لہذا جمعہ وجماعت پہ پابندی یا مسجدوں کی بندش ہرگز ہرگز روا نہ ہو گی۔

ھذا ما عندی واللہ عز اسمہ اعلم

✒ ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

رئیس جامعۃ العین ۔ سکھر

23 رجب المرجب 1441ھ / 19 مارچ 2020ء

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1): (البقرۃ 185)

(2): (الحج 78)

(3): (صحیح بخاری 39)

(4): (البقرۃ 114)

(5): (الہدایۃ 1/421)

(6):(البحر الرائق 2/36)

(7):(أخرجه الإمام أحمد بن حنبل في المسند (21710) والحسين المروزي في زياداته على “زهد” ابن المبارك (1306) ، وأبو داود (547) ، والنسائي 2/106-107، وابن خزيمة (1486) ، وابن حبان (2101) ، والحاكم 1/211 و246 و2/482، والبيهقي 3/54، والبغوي في “شرح السنة” (793) من طرق)

(8):

منحة السلوك میں فرمایا:

(الأذان سنة) قيل: واجب، والصحيح أنه سنة مؤكدة، ولو امتنع أهل بلدة: يقاتلهم الإمام عند محمد، خلافاً لأبي يوسف

(منحة السلوك في شرح تحفة الملوك ص93)

كفاية النبيه میں ہے:

وقال الإمام: إن بعض المصنفين في المذهب عكس ذلك، فذكر أن الأصح الذي ذهب إليه جمهور الأئمة: أن ذلك من فروض الكفايات وأن أبا سعيد الإصطخري ذهب إلى أنه سنة، وهذا منه إشارة إلى “الإبانة”؛ فإن لفظها قريب من ذلك، قال: والذي عليه التعويل الأول، ولم يحك الصيدلاني عن الأصحاب غيره، وحكى القول بأنه فرض كفاية، عن بعض أهل العلم.

وعلى القول به قال الشيخ: فإن اتفق أهل بلد على تركه، قاتلهم الإمام- أي: أو من يقوم مقامه- بعد الإنذار؛ لأن هذا شأن فروض الكفايات إذا تركت، وهكذا الحكم فيما إذا امتنع أهل محلة من بلد كبير منه، دون باقي أهل البلد، قاتل الإمام أهل المحلة فقط.

(كفاية النبيه في شرح التنبيه ج2ص403)

المجموع شرح المهذب میں جماعت کے حوالے سے فرمایا:

والصحيح أنها فرض كفاية وهو الذي نص عليه الشافعي في كتاب الإمامة كما ذكره المصنف

وهو قولي شيخي المذهب ابن سريج وأبي اسحق وجمهور أصحابنا المتقدمين وصححه أكثر المصنفين وهو الذي تقتضيه الأحاديث الصحيحة وصححت طائفة كونها سنة منهم الشيخ أبو حامد فإذا قلنا إنها فرض كفاية فامتنع أهل بلد أو قرية من إقامتها قاتلهم الإمام ولم يسقط عنهم الحرج إلا إذا أقاموها بحيث يظهر هذا الشعار فيهم ففي القرية الصغيرة يكفي إقامتها في موضع واحد وفي البلدة والقرية الكبيرة يجب إقامتها في مواضع بحيث يظهر في المحال وغيرها فلو اقتصروا على إقامتها في البيوت فوجهان (أصحهما) وهو قول أبي اسحق المروزي لا يسقط الحرج عنهم لعدم ظهورها (والثاني) يسقط إذا ظهرت في الأسواق

(المجموع شرح المهذب 4/185)

المنہاج میں ہے:

هي في الفرائض – غير الجمعة – سنة مؤكدة، وقيل: فرض كفاية للرجال فتجب بحيث يظهر الشعار في القرية فإن امتنعوا كلهم .. قوتلوا

(المنہاج مع النجم الوھاج ج2ص324 ، 325 ، 326)

روضة الطالبين میں ہے:

فالجماعة فرض عين في الجمعة، وأما في غيرها من المكتوبات، ففيها أوجه. الأصح: أنها فرض كفاية. والثاني: سنة. والثالث: فرض عين قاله من أصحابنا، ابن المنذر، وابن خزيمة. وقيل: إنه قول للشافعي رحمه الله. فإن قلنا: فرض كفاية، فإن امتنع أهل قرية من إقامتها، قاتلهم الإمام، ولم يسقط الحرج إلا إذا أقاموها، بحيث يظهر هذا الشعار بينهم. ففي القرية الصغيرة يكفي إقامتها في موضع، وفي الكبيرة، والبلاد، تقام في المحال. فلو أطبقوا على إقامتها في البيوت، قال أبو إسحاق: لا يسقط الفرض. وخالفه بعضهم، إذا ظهرت في الأسواق

(روضة الطالبين وعمدة المفتين 1/339)

منہج الطلاب میں فرمایا:

صلاة الجماعة فرض كفاية لِرِجَالٍ أَحْرَارٍ مُقِيمِينَ لَا عُرَاةٍ فِي أَدَاءِ مكتوبة لا جمعة بحيث يظهر شعارها بمحل إقامتها فإن امتنعوا قوتلوا

اس کے تحت فتح الوھاب میں فرمایا:

وفرضها كفاية يكون ” بحيث يظهر شعارها بمحل إقامتها ” ففي القرية الصغيرة يكفي إقامتها في محل وفي الكبيرة والبلد تقام في محال يظهر بها الشعار فلو أطبقوا على إقامتها في البيوت ولم يظهر بها الشعار لم يسقط الفرض وقولي بمحل إقامتها أعم من قوله في القرية ” فإن امتنعوا ” كلهم من إقامتها على ما ذكر ” قوتلوا ” أي قاتلهم الإمام أو نائبه عليها كسائر فروض الكفايات

(فتح الوهاب بشرح منهج الطلاب 1/69)

فتح العزیز میں ہے:

(فان قلنا) انها فرض علي الكفاية فلو امتنع اهل بلدة أو قرية عن اقامتها قاتلهم الامام عليه ولا يسقط الحرج إلا إذا أقاموها بحيث يظهر هذا الشعار فيما بينهم ففى القرية الصغيرة يكفى اقامتها في موضع واحد وفى القرى الكبيرة والبلاد تقام في محلها ولو أطبقوا علي اقامة الجماعة في البيوت فعن ابي اسحق المروزى انه لا يسقط الفرض بذلك لان الشعار في البلد لا يظهر به ونازعه فيه بعضهم إذا ظهر ذلك في الاسواق

(فتح العزيز بشرح الوجيز 4/286)

شرح مختصر المزني میں نمازِ عید کے حوالے سے فرمایا:

فذهب أبو سعيد الإصطخري إلى أنها من فروض الكفايات، لأنها من شعائر الإسلام الظاهرة، فاقتضى أن تكون فرضا على الكفاية ك (الجهاد) فعلى هذا لو اجتمع أهل بلد على تركها قاتلهم الإمام حتى يقيمها من يسقط الفرض بإقامته.

(الحاوي الكبير ج2ص482)

فتاوی قاضیخان میں ہے:

و إذا اجتمع أهل مصر على ترك الختان قاتلهم الإمام كما يقاتلهم في ترك سائر السنن

(فتاوی قاضیخان 3/251)

(9):(شعب الایمان 1/452)

(10): (صحیح مسلم 698 ، سنن ابی داود 1065 ، مسند احمد 14347 ، 14503 ، صحیح ابن خزیمہ 1659 ، صحیح ابن حبان 2082)

(11): (شرح النووی علی مسلم 5/207)

(12): (مسند احمد 11624 ، صحیح ابن خزیمہ 1660)