امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کی شرحِ حدیث پڑھ کر بہت ارمان لگتا ہے کہ کاش امام اہلسنت رحمہ اللہ کی تحریر کردہ کوئی شرح حدیث بھی ہم طلبہ کو میسر ہو جاتی ، امام اہلسنت رحمہ اللہ نے اس حدیث “میرے لیے کمال اختصار ہے” کے مختصر حصے کی جو تشریح فرمائی ہے صرف اسی کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امام اہلسنت رحمہ اللہ شرحِ حدیث کے فن میں بھی ید طولی رکھتے تھے۔

امام اہلسنت رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں اولاً دو اقوال نقل فرمائے اور اس کے بعد مزید 10 اقوال کا اضافہ اپنی علمیت سے کیا ، آپ بھی ملاحظہ کیجئے۔

نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد مذکور “اختصر لی اختصارا” کے بارے میں علماء فرماتےہیں۔

1) یعنی مجھے اختصار کلام بخشا کہ تھوڑے لفظ ہوں اور معنی کثیر۔

2) میرے لئے زمانہ مختصر کیا کہ میری امت کو قبروں میں کم دن رہنا پڑے۔

اقولوباللهالتوفیق۔

3) میرے لئے امت کی عمریں کم رکھیں کہ مکارہ دنیا سے جلد خلاص پائیں،گناہ کم ہوں نعمت باقی تك جلد پہنچیں۔

4) میری امت کے لیے طول حساب کواتنا مختصر فرمادیا کہ اے امت محمد! میں نے تمھیں اپنے حقوق معاف کیے۔آپس میں ایك دوسرے کے حق معاف کرو اور جنت کو چلے جاؤ۔

5) میرے غلاموں کے لئے پل صراط کی راہ کہ پندرہ ہزار برس کی ہے اتنی مختصر کردے گا کہ چشم زدن میں گزر جائیں گے یا جیسے بجلی کوندگئی۔کما فی الصحیحین عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالٰی عنہ۔

6) قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ہے میرے غلاموں کے لیے اس سے کم دیر میں گزرجائے گا جتنی دیر میں دو رکعت فرض پڑھتے ہیں۔ کما فی حدیث احمد وابی یعلی و ابن جریر وابن حبان وابن عدی و البغوی والبیھقی عنہ رضی الله تعالٰی عنھم

7) علوم ومعارف جو ہزارسال کی محنت وریاضت میں نہ حاصل ہو سکیں میری چند روزہ خدمت گاری میں میرے اصحاب پر منکشف فرما دے۔

8) زمین سے عرش تك لاکھوں برس کی راہ میرےلئے ایسی مختصر کر دی کہ آنا اور جانا اور تمام مقامات کو تفصیلا ملاحظہ فرمانا سب تین ساعت میں ہو لیا.

9) مجھ پر کتاب اتاری جس کے معدود ورقوں میں تمام اشیاء گزشتہ و آئندہ کا روشن مفصل بیان جس کی ہر آیت کے نیچے ساٹھ ساٹھ ہزار علم جس کی ایك آیت کی تفسیر سے ستر ستر اونٹ بھر جائیں۔اس زیادہ اور کیا اختصار متصور.

10) شرق تاغرب اتنی وسیع دنیا کو میرے سامنے ایسا مختصر فرما دیا کہ میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہا ہوں کانما انظر الی کفی ھذہ جیسا کہ میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں،کما فی حدیث ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما عند الطبرانی وغیرہ۔

11) میری امت کے تھوڑے عمل پر اجر زیادہ دیا،کما فی حدیث الاجراء فی الصحیحین۔

12) امتوں پر جو اعمال شاقہ طویلہ تھے ان سے اٹھا لئے۔

(فتاویٰ رضویہ جلد30 ص210-211)

مُلکِ سُخَن کی شاہی تم کو رضاؔ مُسلَّم

جس سَمْت آ گئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رضاؔ کی طرح کوئی سِحر بَیاں

نہیں ہِند میں واصفِ شاہِ ہُدیٰ مجھے شوخیِ طبعِ رضاؔ کی قسم

⁦✍️⁩غلام رضا

09-07-2020ء