آدابِ اختلاف 10نکات


مفتی منیب الرحمن صاحب حفظہ اللہ کے حالیہ کالم ’’شعارِ اختلاف‘‘ سے آدابِ اختلاف کے متعلق 10 نکات کا انتخاب پیش خدمت ہے :

(1) ہم اپنے علمی اختلافات کوداخلی سطح پر طے کرنے کے بجائے عوام میں لے آتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر دین کو بازیچہ اطفال بنادیا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔

(2) بعض علماء کو یہ شوق لاحق ہوگیا ہے کہ اُن کی ہر بات ، ہر ادا ، ہر قول وفعل بلاتاخیر سوشل میڈیا پر آجائے، یہ روش انتہائی حد تک نقصان دہ ہے ، سوشل میڈیا پر چیزوں کو ایڈٹ کر کے ڈالنا چاہیے اور فائدے کے حصول پر نقصان سے بچنے کوترجیح دینی چاہیے ۔

(3) ہمارے ہاں ایک شعار یہ ہے کہ اگر کسی سے کسی مسئلے میں اختلافِ رائے ہوگیا ہے تو بلاسوچے سمجھے انتہائی درجے کا حکم لگا دیا جاتا ہے اور پھر واپسی کا راستہ باقی نہیں رہتا،جبکہ افتاء کا اصول یہ ہے کہ جس درجے کی خطا یا لغزش ہو ، اُسی درجے کا حکم لگایا جائے اور اس میں بھی احتیاط برتی جائے۔

(4) اختلافِ رائے کے حوالے سے ایک بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس نظریے سے بات کا آغازکیا جاتا ہے کہ وہ حق کے آخری درجے پر کھڑاہے اور سامنے والا مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہ باطل ہے، لوگ دیانتداری کے ساتھ دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنا ہی نہیں چاہتے ، انانیت کا غلبہ ہوتا ہے ۔جو مراد آپ لے رہے ہیں ، سامنے والا اس کی نفی کر رہا ہے ، مگراصلِ مقصود معاملہ سلجھانا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی فتح کو منوانا اور دوسرے کو بدنام کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ان سب وجوہ سے ہم تہذیب وشائستگی سے دور چلے جاتے ہیں۔ پس اختلاف ِ رائے کا درست طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کے نقطہ ٔ نظر کو پوری طرح سے سمجھا جائے ،فریقِ مخالف کی وضاحت اگر قابلِ قبول ہے تو اُسے قبول کرلیا جائے ، اصلِ مقصود اصلاح ہونی چاہیے نہ کہ پندارِ فتح۔

(5) وہ امور جو اہلسنت وجماعت میں مسلّم ہیں ،عوام میں انہی کا ابلاغ کیا جائے ،اگر کسی مسئلے میں کسی کی رائے جمہور سے جدا ہے تو وہ اُسے کلاس روم تک محدود رکھیں ،عوام میں نہ لائیں، اس کا نقصان نفع سے زیادہ ہے ۔اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ انتہائی باصلاحیت شخص جومختلف شعبوں میں معرکہ آراء کام انجام دے سکتا ہے ، اس کی صلاحیتیں ان الزامات کے جواب اور جوابی الزامات پر صرف ہوتی ہیں اور بحیثیت مجموعی اہلسنت کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں، مخالف حلقوں کویقینا اس سے تسکین ملتی ہوگی ،یہی وجہ ہے کہ وہ آگ کے شعلے بھڑکانے کے لیے جلتی پر تیل ڈالتے ہیں۔

(6) جس نے کفر کا ارتکاب کیا ہو یا ضروریاتِ دین میں سے کسی کا انکار کیا ہو یا ضروریاتِ مسلک اہلسنت وجماعت میں سے کسی بات کا انکار کیا ہو یا کوئی علانیہ حرام اور فسق وفجور کا ارتکاب کر رہا ہو،توفقہی اعتبار سے ایسے اشخاص سے اعلانِ براء ت ضروری ہوجاتا ہے ۔لیکن جس کے کسی قول کی تاویل کی جاسکتی ہو یا وہ خود کوئی قابلِ قبول تاویل کر رہا ہو تو زبردستی اس پر کوئی معنی ٹھونسنا مناسب نہیں ہوتا۔

(7) بعض اوقات ہم معاصرین کے بارے میں انتہائی سنگ دلی اور قساوتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اُن کی گرفت میں حد سے گزر جاتے ہیں، حالانکہ وہی یا اس سے ملتا جلتا کوئی قول بعض متقدمین کے ہاں بھی مل جاتا ہے ، جو مسلّمہ طور پر ہمارے اکابر میں سے ہیں ۔ پھر یاتوہم اُن کے ایسے اقوال سے صرفِ نظر کرتے ہیں یا حتی الامکان ان کی تاویل کرتے ہیں ، ان پر فتویٰ صادر نہیں کرتے۔

(8) ہرشخص دین کا اسٹیک ہولڈر بن گیا ہے ،بعض لوگ اپنی ناموس پر ناموسِ رسالت کے قانون کے اطلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔جو کسی کے دامِ عقیدت میں گرفتار ہیں، وہ اپنے مرجعِ عقیدت سے اختلافِ رائے کرنے والے کے منصب کو نظر انداز کر کے اس کی توہین ، تضحیک اور تحقیر کو اپنا شعار بنالیتے ہیں ، بزرگوں کو چاہیے کہ اپنے ایسے عقیدت مندوں کو لگام دیں۔

(9) آج جنہیں ہم اپنے جسدِ ملّی سے کاٹ کر پھینکنا چاہتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کل کسی دینی ضرورت یا کسی مسلکی مصلحت کے تحت انہیں قبول کرنا پڑے یا اللہ تعالیٰ ان کے دل میں جمہوراہلسنت کے ساتھ مل کر چلنے کا جذبہ پیدا فرمادے اور ہمیں پھر مل بیٹھنا پڑے تو شرمندگی نہ ہو ۔

(10) ہر فریق کو اختلافِ رائے کرتے وقت دوسرے کے علمی مقام اور منصب کی پاسداری کرنی چاہیے ، جو علمی احترام ہم اپنے لیے چاہتے ہیں ، دوسروں کے لیے بھی ہمیں اس کی گنجائش رکھنی چاہیے ۔

تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(زاویہ نظر بعنوان [شعارِ اختلاف] : مفتی منیب الرحمن، روزنامہ دنیا، 6 جولائی 2020ء، ملتقطا)