فلسفہ قربانی اور شیطانی وسوسے

اللہ تعالی نے وجود کائنات اس اصول پر مرتب فرمایا ہے، کہ ہر ادنیٰ اعلیٰ پر قربان ہوتا ہے…

مثلاً

زمین کا سینہ چِرا دانہ کے لئے، دانے نے اپنے آپ کو زمین پر قربان کیا، پھر زمین سے پودا نکلا، پودا جانور پر قربان ہوا(جانور کی خوراک بنا) ، پھرجانور انسان پر قربان ہوا، کبھی سواری بن کے، کبھی دودھ دے کے، کبھی ذبح ہوکے، پھر انسان اپنے رب کے لئے قربان ہوا، کبھی وطن کی قربانی، کبھی مال کی قربانی، کبھی جان کی قربانی……

اللہ تعالیٰ نے جو مخلوقات بھی پیدا فرمائیں، ان میں افضلیت و برتری، اشرف المخلوقات ہونا انسان کے حصے میں رکھا…. اور اسی وجہ سے دوسری تمام مخلوقات کو انسان کی مدد، خدمت، انسان کی راحت و آسانی کے لئے پیدا فرمائی ہیں ، جیسے سورج، چاند، ہوا….

اور گائے، بیل، گھوڑا، وغیرہ یہ سب انسان کے خادم ہیں ،اور انسان کو یہ حق دیا گیا ہے کہ ان تمام سے جتنا فائدہ اٹھا سکے اٹھائے، اس اعتبار سے جانور پر سواری کرنا اور کھیتی کے کام لینا اور اس کا گوشت وغیرہ کھانا بالکل جائز ہے…..

اگر کوئی اپنی عقل سے قربانی کو ظلم تصور کرے..

تو پھر اسے یہ سوچنا چاہیے کہ جانور کا دودھ پینا بھی ظلم ہوگا، اور اس کے بچوں کا حق مارنا شمار ہوگا، گاۓ، بھینس کے بچے چارہ کھائیں اور تو ان کا دودھ پیئے، کیا ظلم نہیں؟

اور اس سے کھیتی کا کام لینا کیا ظلم نہیں ہو گا؟ ….

اگر گائے، بھینس، اونٹ، بکری کو ذبح کرنا ظلم ہے،

تو کھٹمل، جوں، اور مینڈک کو مارنا قتل نہیں ؟

اور جدید سائنس کے مطابق سبزی وغیرہ میں بھی تو جان ہوتی ہے تو اس کو کھانا کیسا ہے؟

کیا لوگ جانوروں کے چمڑے کا جوتا، چپل نہیں پہنتے؟

کیا پاؤں کے نیچے چمڑے کو رگڑنا ظلم نہیں ہے ؟

لیکن بدقسمتی سے جہاں مذہب نہ آئے وہاں سب کچھ جائز جہاں مذہب کوئی پابندی لگائے تو وہاں پر ظلم تصور کیا جائے کیا یہ عجیب نہیں ہے؟ ….

پھر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جی اربوں کھربوں روپیہ یہ ایک دن میں خرچ کردیا جاتا ہے، مگر غریب کو نہیں دیا جاتا….

ارے بھائی!

دنیا میں سب سے زیادہ روپیہ زکوۃ و صدقات و خیرات کی مد میں مسلمان ممالک( بالخصوص پاکستان) میں ہی دیا جاتا ہے…..

حتیٰ کہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس سے بھی زیادہ……….

اگلا اعتراض!

اچھا اتنے ہی مخلص ہیں تو ٹیکس کیوں نہیں دیتے…..

بھائی صاحب!

اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے 70 سالوں سے ہمارے حکمران ہمیں یہی سبق پڑھا رہے ہیں کہ حکمران کرپٹ ہیں تو اب کرپشن کرنے کے لیے ٹیکس کون دے؟

اور دوسری بات!

اللہ کے رستے میں قربانی، صدقہ و خیرات پر اللہ کی طرف سے اجروثواب کی امید ہے، مگر ٹیکس پر تو ثواب کی امید بھی نہیں کہ بندہ اللہ کی رضا کے لئے دے دے……

اے غریبوں کے جعلی ہمدرد !

دنیا میں ہر سال ہزاروں فلمیں، ڈرامے، بنتے ہیں، ان میں سے ایک ایک فلم دیکھنے والے دو دو سو کروڑ خرچ کرتے ہیں تب کبھی غریب کا خیال نہیں آیا….

کرکٹ کی دنیا میں کھربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے تب غریب کا خیال نہیں آتا…

دنیا بسنت، کرسمس،ویلنٹائن ڈے ،وغیرہ پر کتنے پیسے کا ضیاع کرتی ہے…

ہر سال یہ پیسہ یہاں ضیاع کرنے کی بجائے غریب اور ملک پر خرچ ہو تو کتنا فائدہ ہو گا۔۔۔

مگر صرف مذہب نشانہ ہے، غریب تو ایک بہانہ

قربانی دینے کا حکم اللہ کا ہے، پس صاحب استطاعت پر قربانی واجب ہے، اسے چاہیے کہ قربانی کرے:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ… ترجمہ: ۔ پس نماز پڑھ اور اپنے رب کے لئے قربانی کر…..

گزشتہ سال کی ایک تحریر ہے اچھی لگی دوبارہ شئیر کر دی

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی